غزل: جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں

صابرہ امین — اگست 6، 2021 3:46 شام
آمین
حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔آمین۔
عرفان علوی — اگست 10، 2021 1:30 صبح
واہ اچھے اشعار ہیں
زوجہ اظہر صاحبہ ، عنایت كے لیے احسان مند ہوں . شکریہ !
محمد شکیل خورشید — اگست 13، 2021 11:19 صبح
بہت اعلیٰ ماشا اللہ
عرفان علوی — اگست 14، 2021 5:06 شام
بہت اعلیٰ ماشا اللہ
شکیل صاحب ، بہت نوازش ! شکریہ !
محمد عبدالرؤوف — اگست 14، 2021 5:18 شام
بہت خوب عرفان بھائی
خورشیداحمدخورشید — اگست 14، 2021 5:42 شام
ماشااللہ! ساری غزل ہی لاجواب ہے
یہ اشعار تو مجھے بہت ہی اچھے لگے
مری تنہائی بزم آرائی سی ہے
وہ میرے چار سو ہے ، اور میں ہوں
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی
قبائے بے رفو ہے ، اور میں ہوں
عرفان علوی — اگست 18، 2021 4:07 صبح
بہت خوب عرفان بھائی
عبدالرؤف صاحب ، نگاہ کرم اور حوصلہ افزائی كے لیے ممنون ہوں . شکریہ !
عرفان علوی — اگست 18، 2021 4:10 صبح
ماشااللہ! ساری غزل ہی لاجواب ہے
یہ اشعار تو مجھے بہت ہی اچھے لگے
مری تنہائی بزم آرائی سی ہے
وہ میرے چار سو ہے ، اور میں ہوں
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی
قبائے بے رفو ہے ، اور میں ہوں
خورشید صاحب ، آپ کی داد میرے لیے باعث صد مسرت ہے . بہت بہت شکریہ !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%90-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92-%D8%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA.117060/page-2