غزل: دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے

محمداحمد — فروری 17، 2023 1:19 شام
غزل
دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے
ہم نے اک ایک کرکے جوڑے تھے
عشق !اور وہ بھی کم سنی کا عشق
کان اُس نے مِرے مروڑے تھے
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
تم تو اس عید بھی نہیں آئے
تین سو ساٹھ روز تھوڑے تھے؟
اُن کو افراطِ زر نے چاٹ لیا
چار پیسے جو اُس نے جوڑے تھے
محمد احمدؔ
ظہیراحمدظہیر — فروری 17، 2023 2:40 شام
واہ! خوب غزل ہے ، احمد بھائی!
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
بہت خوب!
بس مطلع توجہ طلب ہے ۔ پہلا مصرع بہت خوب ہے لیکن دوسرا مصرع ساتھ نہیں دے رہا ۔
یعنی مطلع کی گاڑی میں ایک پہیہ مرسیڈیز کا ہے تو دوسرا سہراب سائیکل کا ۔:)
سیما علی — فروری 17، 2023 3:14 شام
اُن کو افراطِ زر نے چاٹ لیا
چار پیسے جو اُس نے جوڑے تھے
بہت عمدہ غزل ۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے
کیا خوبصورت انداز ہے
سلامت رہیے۔
ایس ایس ساگر — فروری 17، 2023 4:10 شام
بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے محمداحمد بھائی۔
داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
محمد عبدالرؤوف — فروری 17، 2023 4:11 شام
واہ واہ۔۔۔ مختلف اور خوبصورت انداز
محمداحمد — فروری 18، 2023 6:22 صبح
واہ! خوب غزل ہے ، احمد بھائی!
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
بہت خوب!
بہت شکریہ ظہیر بھائی!
حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں ۔
بس مطلع توجہ طلب ہے ۔ پہلا مصرع بہت خوب ہے لیکن دوسرا مصرع ساتھ نہیں دے رہا ۔
یعنی مطلع کی گاڑی میں ایک پہیہ مرسیڈیز کا ہے تو دوسرا سہراب سائیکل کا ۔

:) :) :)
اگر سُہراب کی جگہ پیکو سائیکل کا پہیہ بھی ہوتا تو ہم چلا لیتے۔ :) :)
دراصل یہ شاید قافیے کی تنگی کے باعث ہوا۔ ورنہ اس سے پہلے ہم نے نگوڑے کا لفظ نظم و نثر میں کہیں استعمال نہیں کیا۔ :) :) قافیے کی تنگی کے باعث پہلے ہی ایک آدھ قافیہ ایک سے زائد بار استعمال ہو چکا ہے۔
پھر یہ کہ بہت عرصے بعد کوئی غزل ایک ہی نشست میں مکمل ہو گئی تو زیادہ غور و خوض کا وقت نہیں ملا۔
بہرکیف سرِ دست جو دوسرے مصرعے کا متبادل مجھے سوجھا ہے وہ کچھ یوں ہے۔
دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے
دُرِ نایاب ہم نے جوڑے تھے
آپ بتائیے چلے گا کہ نہیں؟ میں بھی مزید غور کرتا ہوں۔
محمداحمد — فروری 18، 2023 6:23 صبح
بہت عمدہ غزل ۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے
کیا خوبصورت انداز ہے
سلامت رہیے۔

بہت شکریہ
ذرہ نوازی کے لئے بے حد ممنون ہوں
عرفان علوی — فروری 18، 2023 4:43 شام
غزل
دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے
عبقری چند، کچھ نگوڑے تھے
عشق !اور وہ بھی کم سنی کا عشق
کان اُس نے مِرے مروڑے تھے
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
تم تو اس عید بھی نہیں آئے
تین سو ساٹھ دن کیا تھوڑے تھے؟
اُن کو افراطِ زر نے چاٹ لیا
چار پیسے جو اُس نے جوڑے تھے
محمد احمدؔ
واہ ، احمد بھائی ! ہمیشہ کی طرح عمدہ اشعار کہے ہیں آپ نے . داد حاضر ہے . چوتھے شعر میں لگتا ہے آپ نے ہر مہینہ تیس روزہ تسلیم کر لیا ہے . :) مذاق بر طرف ، اِس شعر میں ’کیا‘ کا الف بری طرح دب رہا ہے جس سے روانی مجروح ہو رہی ہے . آپ كے اشعار میں عموماً ایسی کمیاں نظر نہیں آتیں .
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 18، 2023 5:22 شام
اُن کو افراطِ زر نے چاٹ لیا
چار پیسے جو اُس نے جوڑے تھے
اب اس کو سختی سے تاکید کیجیے گا کہ پیسے جوڑنے کے بعد انہیں لازما ڈالر میں تبدیل کروا لے...:)
الف عین — فروری 19، 2023 4:14 صبح
واہ ، احمد بھائی ! ہمیشہ کی طرح عمدہ اشعار کہے ہیں آپ نے . داد حاضر ہے . چوتھے شعر میں لگتا ہے آپ نے ہر مہینہ تیس روزہ تسلیم کر لیا ہے . :) مذاق بر طرف ، اِس شعر میں ’کیا‘ کا الف بری طرح دب رہا ہے جس سے روانی مجروح ہو رہی ہے . آپ كے اشعار میں عموماً ایسی کمیاں نظر نہیں آتیں .
مجھے بھی یہی محسوس ہوا، ایک سوالیہ نشان سے کام چلا لیتے اور "کیا" کو "بھی" سے بدل لیتے!
باقی اشعار خوب ہیں
محمداحمد — فروری 19، 2023 10:52 صبح
بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے محمداحمد بھائی۔
داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
بہت شکریہ ساگر بھائی!
بے حد ممنون ہوں۔
محمداحمد — فروری 19، 2023 10:52 صبح
واہ واہ۔۔۔ مختلف اور خوبصورت انداز
نوازش عبد الرؤف بھائی! :)
محمداحمد — فروری 19، 2023 10:56 صبح
واہ ، احمد بھائی ! ہمیشہ کی طرح عمدہ اشعار کہے ہیں آپ نے . داد حاضر ہے .
بہت شکریہ محترم!
چوتھے شعر میں لگتا ہے آپ نے ہر مہینہ تیس روزہ تسلیم کر لیا ہے . :)
:) :) :)
مذاق بر طرف ، اِس شعر میں ’کیا‘ کا الف بری طرح دب رہا ہے جس سے روانی مجروح ہو رہی ہے . آپ كے اشعار میں عموماً ایسی کمیاں نظر نہیں آتیں .
تین سو ساٹھ دنوں کو ایک مصرع میں سمانے کے باعث کچھ جگہ تنگ ہو گئی۔ :)
بہت شکریہ کہ آپ نے اس طرف نشاندہی فرمائی۔ مصرع تبدیل کر دیا ہے۔
محمداحمد — فروری 19، 2023 10:59 صبح
مجھے بھی یہی محسوس ہوا، ایک سوالیہ نشان سے کام چلا لیتے اور "کیا" کو "بھی" سے بدل لیتے!
باقی اشعار خوب ہیں
بہت شکریہ استاد محترم!
بے حد ممنون ہوں۔
"دن" کو میں نے "روز" کر دیا ہے اور" کیا" کو حذف کر دیا ہے۔ کیا یہ مصرع مناسب ہے؟
محمداحمد — فروری 19، 2023 11:01 صبح
اب اس کو سختی سے تاکید کیجیے گا کہ پیسے جوڑنے کے بعد انہیں لازما ڈالر میں تبدیل کروا لے...:)
:) :) :)
اب تو ڈالر بھی ویزا اور ٹکٹ دکھائے بغیر نہیں ملتے۔
صابرہ امین — فروری 19، 2023 2:52 شام
کتنے سادہ سے الفاظ اور کتنی پیاری غزل ۔ ۔ماشا اللہ ۔ ۔بہت سی داد قبول کیجیے ۔ ۔
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
واہ ۔ ۔
محمداحمد — فروری 20، 2023 1:09 شام
کتنے سادہ سے الفاظ اور کتنی پیاری غزل ۔ ۔ماشا اللہ ۔ ۔بہت سی داد قبول کیجیے ۔ ۔
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
واہ ۔ ۔

بہت شکریہ صابرہ بہن!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
نیرنگ خیال — فروری 20، 2023 1:12 شام
عشق !اور وہ بھی کم سنی کا عشق
کان اُس نے مِرے مروڑے تھے
واہ۔۔۔ خوبصورت۔۔۔
بہت اعلی غزل ہے احمد بھائی۔۔۔ لاجواب
علی وقار — فروری 20، 2023 1:32 شام
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
غزل تو عمدہ ہے، میں کافی دیر
ایک چپل کے چار جوڑے کیسے بن سکتے ہیں؟
ظہیراحمدظہیر — فروری 22، 2023 10:10 شام
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
یہ سوچتا رہا ایک چپل کے چار جوڑے کیسے بن سکتے ہیں؟
حالانکہ اصل بات تو سوچنے کی یہ ہے کہ دوسری چپل آخر کہاں تھی؟! :unsure:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D9%88%DA%AF-%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92.119295/