محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 8، 2021 4:47 شام
ایک غزل آپ سب کے ذوق کی نذر، نصیر ترابی مرحوم کی زمین میں.
دعاگو،
راحلؔ.
.................................................
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
تیری الفت کا بھلا کیسے میں دے پاتا جواب
عمر میری تو یقیں خود کو دلاتے گزری
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
مجھ کو غم ہجر کا ہے، اور نہ بچھڑنے کا ملال
میری ہر شام یہی خود کو بتاتے گزری
کیا کہوں گزری تھی کس کرب میں کل میری شب
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
وہ حقیقت نہ سہی، تھی مگر ایسی دلکش
زندگی پھر تو اسی راہ کو جاتے گزری
کس طرح روکتا جانے سے اسے میں راحلؔ
جبکہ عمر اس کو یہی بات سُجھاتے گزری
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2021 4:57 شام
بہت خوب راحل بھائی
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
کیا کہوں گزری تھی کس کرب میں کل میری شب
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 8، 2021 5:10 شام
خوبصورت خوبصورت! کیا بات ہے ۔ بہت سی داد سمیٹیے!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
اعلیٰ
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
واہ!
مومن فرحین — اپریل 8، 2021 5:14 شام
بہت ہی پیاری غزل ۔۔۔۔
La Alma — اپریل 8، 2021 8:47 شام
بہت خوب۔
محمد عبدالرؤوف — اپریل 8، 2021 10:58 شام
بہت خوب راحل بھائی
ظہیراحمدظہیر — اپریل 9، 2021 5:34 صبح
واہ واہ! بہت خوب راحل بھائی ! بہت اچھی غزل ہے !
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
خوب ہے!
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
کیا بات ہے ! اچھا کہا ہے !
بہت داد! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
الف عین — اپریل 9، 2021 10:33 صبح
واہ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 9:59 شام
بہت شکریہ تابش بھائی، داد و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں. جزاک اللہ.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:00 شام
خوبصورت خوبصورت! کیا بات ہے ۔ بہت سی داد سمیٹیے!
اعلیٰ
واہ!
جزاک اللہ خیر خلیل بھائی ... بھرپور ذرہ نوازی کے لیے تہہ دل سے شکرگزار ہوں.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:01 شام
جزاک اللہ خیر ... داد و پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:02 شام
جزاک اللہ خیر ... بہت شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:03 شام
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤوف ... آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لیے ممنون احسان ہوں. جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:04 شام
واہ واہ! بہت خوب راحل بھائی ! بہت اچھی غزل ہے !
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
خوب ہے!
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
کیا بات ہے ! اچھا کہا ہے !
بہت داد! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
بہت شکریہ ظہیر بھائی ... غزل آپ کو پسند آئی، مطلب محنت وصول

جزاک اللہ خیر.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 9، 2021 10:05 شام
واہ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
بہت شکریہ استاد محترم ... آپ کا اظہار پسندیدگی میرے لیے باعث طمانیت ہے. جزاک اللہ خیر
عاطف ملک — اپریل 9، 2021 10:44 شام
بہت خوب راحل بھائی
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
بالخصوص یہ اشعار تو لاجواب ہیں

یاسر شاہ — اپریل 10، 2021 5:30 صبح
السلام علیکم بھائی احسن اچھی غزل ہے -خصوصا مطلع کی کیا بات ہے -
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
ویسے ایک مزاحیہ بات یہ ہے کہ کانچ کا سندھی میں ایک اور مطلب بھی ہے -
ڪانچ | Online Sindhi Dictionaries | آن لائين سنڌي ڊڪشنريون
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 10، 2021 11:26 صبح
بہت خوب راحل بھائی
بالخصوص یہ اشعار تو لاجواب ہیں
جزاک اللہ خیر ڈاکٹر صاحب ... داد و پذیرائی کے لیے تہہ دل َسے شکر گزار ہوں.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 10، 2021 11:27 صبح
السلام علیکم بھائی احسن اچھی غزل ہے -خصوصا مطلع کی کیا بات ہے -
ویسے ایک مزاحیہ بات یہ ہے کہ کانچ کا سندھی میں ایک اور مطلب بھی ہے -
ڪانچ | Online Sindhi Dictionaries | آن لائين سنڌي ڊڪشنريون
بہت شکریہ یاسر بھائی، جزاک اللہ خیر.
شکر ہے ہماری سندھی ھی بھولڑو آھی پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے ورنہ شاید یہ مطلع نہ ہو پاتا ہم سے

عرفان علوی — اپریل 11، 2021 3:03 صبح
ایک غزل آپ سب کے ذوق کی نذر، نصیر ترابی مرحوم کی زمین میں.
دعاگو،
راحلؔ.
.................................................
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
تیری الفت کا بھلا کیسے میں دے پاتا جواب
عمر میری تو یقیں خود کو دلاتے گزری
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
مجھ کو غم ہجر کا ہے، اور نہ بچھڑنے کا ملال
میری ہر شام یہی خود کو بتاتے گزری
کیا کہوں گزری تھی کس کرب میں کل میری شب
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
وہ حقیقت نہ سہی، تھی مگر ایسی دلکش
زندگی پھر تو اسی راہ کو جاتے گزری
کس طرح روکتا جانے سے اسے میں راحلؔ
جبکہ عمر اس کو یہی بات سُجھاتے گزری
راحل صاحب ، سلام عرض ہے !
واہ ، بڑی دلکش زمین ہے اور آپ نے اِس کا حق ادا کیا ہے . عمدہ اشعار ہیں . بہت ساری داد !
نیازمند ،
عرفان عابدؔ