غزل: صبح آئی تھی مگر کانچ اٹھاتے گزری ...

اے خان — اپریل 11، 2021 5:14 صبح
بہت خوب راحل بھائی
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 11، 2021 11:38 صبح
راحل صاحب ، سلام عرض ہے !
واہ ، بڑی دلکش زمین ہے اور آپ نے اِس کا حق ادا کیا ہے . عمدہ اشعار ہیں . بہت ساری داد !
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
بہت شکریہ عرفانؔ بھائی ۔۔۔ آپ کی بھرپور داد و پذیرائی کے لیے سراپا سپاس ہوں۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 11، 2021 11:39 صبح
بہت خوب راحل بھائی
بہت شکریہ عبداللہ میاں ۔۔۔ غزل پسند کرنے کے لیے آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ جزاک اللہ۔
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2021 12:51 شام
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
کیا خوب راحل بھائی! اعلیٰ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2021 1:06 شام
کیا خوب راحل بھائی! اعلیٰ
جزاک اللہ شکیلؔ بھائی ۔۔۔ تہہ دل سے ممنون و متشکر ہوں۔
محمداحمد — مئی 19، 2021 1:29 شام
بہت خوب راحل بھائی!
اچھی غزل ہے۔
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!

کیا کہنے!
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2021 1:58 شام
بہت خوب راحل بھائی!
اچھی غزل ہے۔
کیا کہنے!
بہت شکریہ احمد بھائی ۔۔۔ جزاک اللہ
سید عاطف علی — مئی 19، 2021 2:51 شام
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
واہ راحل بھائی بہت خوب ۔ ہم نے تو یہ غزل آج پڑھی ۔ خوب ۔
فاخر — مئی 19، 2021 3:28 شام
ایک غزل آپ سب کے ذوق کی نذر، نصیر ترابی مرحوم کی زمین میں.
دعاگو،
راحلؔ.
.................................................
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
تیری الفت کا بھلا کیسے میں دے پاتا جواب
عمر میری تو یقیں خود کو دلاتے گزری
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
مجھ کو غم ہجر کا ہے، اور نہ بچھڑنے کا ملال
میری ہر شام یہی خود کو بتاتے گزری
کیا کہوں گزری تھی کس کرب میں کل میری شب
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
وہ حقیقت نہ سہی، تھی مگر ایسی دلکش
زندگی پھر تو اسی راہ کو جاتے گزری
کس طرح روکتا جانے سے اسے میں راحلؔ
جبکہ عمر اس کو یہی بات سُجھاتے گزری

بہت ہی عمدہ ڈھیروں داد !!!!
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2021 11:35 شام
واہ راحل بھائی بہت خوب ۔ ہم نے تو یہ غزل آج پڑھی ۔ خوب ۔
جزاک اللہ عاطف بھائی ... از حد ممنون ہوں.
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2021 11:36 شام
بہت ہی عمدہ ڈھیروں داد !!!!
جزاک اللہ فاخر میاں ... داد و پذیرائی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں.
سیما علی — مئی 20، 2021 5:15 شام
کس طرح روکتا جانے سے اسے میں راحلؔ
جبکہ عمر اس کو یہی بات سُجھاتے گزری
بہت خوبصورت غزل
راحل بھیا ڈھیروں داد قبول فرمائیے
ایک شعر اعلیٰ جسقدر تعریف کی جائے کم ۔۔
ڈھیر ساری دعائیں شاد و آباد رہیے ۔۔۔۔۔۔۔
عبدالقدیر 786 — مئی 20، 2021 5:21 شام
ایک غزل آپ سب کے ذوق کی نذر، نصیر ترابی مرحوم کی زمین میں.
دعاگو،
راحلؔ.
.................................................
صبح آئی تھی، مگر کانچ اٹھاتے گزری
یہ تو ہونا تھا، کہ شب خواب سجاتے گزری
زیست کیوں گزری اندھیروں میں، کہوں کیا اب میں
دوستی رات سے کی تھی، سو نبھاتے گزری!
شام آئی بھی تو آئی تھی لیے بادِ سموم
داغ سینے کے سلگتے تھے، بجھاتے گزری
تیری الفت کا بھلا کیسے میں دے پاتا جواب
عمر میری تو یقیں خود کو دلاتے گزری
کیوں درخشاں نہ ترا بخت ہو تاروں جیسا
شب مری ہاتھ دعاؤں میں اٹھاتے گزری
مجھ کو غم ہجر کا ہے، اور نہ بچھڑنے کا ملال
میری ہر شام یہی خود کو بتاتے گزری
کیا کہوں گزری تھی کس کرب میں کل میری شب
حرف لکھ لکھ کے انہیں خود ہی مٹاتے گزری
وہ حقیقت نہ سہی، تھی مگر ایسی دلکش
زندگی پھر تو اسی راہ کو جاتے گزری
کس طرح روکتا جانے سے اسے میں راحلؔ
جبکہ عمر اس کو یہی بات سُجھاتے گزری
اچھی کوشش ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 20، 2021 7:20 شام
مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے اس کوشش کو سراہے جانے کے لائق سمجھا ... جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 20، 2021 7:22 شام
بہت خوبصورت غزل
راحل بھیا ڈھیروں داد قبول فرمائیے
ایک شعر اعلیٰ جسقدر تعریف کی جائے کم ۔۔
ڈھیر ساری دعائیں شاد و آباد رہیے ۔۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کہ طرح آپ کہ مشفقانہ اور فراخدلانہ داد ہمیں مقروض کر گئی ... جزاک اللہ سیما آپا، تہہ دل سے شکر گزار ہوں.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B5%D8%A8%D8%AD-%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D9%86%DA%86-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C.115827/page-2