غزل: گر مقدر میں گرانی اور ہے

محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 16، 2020 1:30 شام
عزیزانِ من، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کے ذوقِ بسیار خوب کی نذر۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زمین کس کی ہے :)
امید ہے احباب اپنی ثمین آراء سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر مقدر میں گرانی اور ہے
’’اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے‘‘
دیکھنا! شاید دعا سن لی گئی؟
آج رنگِ آسمانی اور ہے!
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے!
پھر رہِ یزداں میں جاں دے دیں گے ہم
’’کوئی دن گر زندگانی اور ہے‘‘
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
ٹوٹنا طے ہے انا کے بند کا
آج یادوں کی روانی اور ہے
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے
اے مسیحا! ٹھیر جا کچھ اور پل
بس اب اک زخمِ نہانی اور ہے
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر
یارو! راحلؔ کی کہانی اور ہے!
عاطف ملک — دسمبر 16، 2020 1:48 شام
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے
کیا بات ہے
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
خوب است
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے
واہ۔۔۔۔بہت عمدہ راحل بھائی۔
داد قبول کیجیے۔
بس ہمیں رنگِ آسمانی سے sky blue یاد آگیا
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 16، 2020 1:51 شام
واہ۔۔۔۔بہت عمدہ راحل بھائی۔
داد قبول کیجیے۔
بس ہمیں رنگِ آسمانی سے sky blue یاد آگیا
پرانی غزل ہے، اس لیے اس ترکیب پر کئی مرتبہ صلوٰتیں سننے کو مل چکی ہیں :)
بس یوں سمجھ لیجیے یہاں ہم نے قافیہ کی مجبوری کی وجہ سے ’’آرٹسٹک لبرٹی‘‘ سے کام لیا ہے :)
داد و پذیرائی سے نوازنے کے لیے نہایت ممنون ہو متشکر ہوں۔ جزاک اللہ
یاسمین سکندر — دسمبر 17، 2020 3:02 شام
خوب!
ایس ایس ساگر — دسمبر 17، 2020 3:09 شام
گر مقدر میں گرانی اور ہے
’’اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے‘‘
دیکھنا! شاید دعا سن لی گئی؟
آج رنگِ آسمانی اور ہے!
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے!
پھر رہِ یزداں میں جاں دے دیں گے ہم
’’کوئی دن گر زندگانی اور ہے‘‘
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
ٹوٹنا طے ہے انا کے بند کا
آج یادوں کی روانی اور ہے
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے
اے مسیحا! ٹھیر جا کچھ اور پل
بس اب اک زخمِ نہانی اور ہے
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر
یارو! راحلؔ کی کہانی اور ہے!
واہ راحلؔ بھائی۔ بہت خوب۔
بہترین اشعار۔ خوبصورت غزل۔
بہت سی داد قبول کیجیے۔:)
محمد تابش صدیقی — دسمبر 17، 2020 3:49 شام
بہت خوب راحل بھائی۔
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے!

کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 17، 2020 5:14 شام
بہت شکریہ یاسمین صاحبہ. جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 17، 2020 5:15 شام
واہ راحلؔ بھائی۔ بہت خوب۔
بہترین اشعار۔ خوبصورت غزل۔
بہت سی داد قبول کیجیے۔:)
جزاک اللہ ساگر بھائی ... داد و پذیرائی کے لیے ممنونِ احسان ہوں.
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 17، 2020 5:15 شام
بہت خوب راحل بھائی۔
بہت شکریہ تابش بھائی. اظہاری پسندیدگی و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں. جزاک اللہ.
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 17، 2020 11:25 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں راحل بھائی ۔ بہت داد!
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
واہ! بہت خوب!
پرانی غزل ہے اور آپ کو اس کے محاسن و معائب کا اندازہ ہے سو یہ بڑی بات ہے ۔ فن کا مسلسل ارتقا تو ایک حقیقت ہے۔
آرٹسٹک لبرٹی کو شاعری کے ضمن میں "پوئیٹِک لائسنس" کہاگیا ہے یعنی شاعرانہ اختیار یا شاعرانہ حقِ تصرف۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 17، 2020 11:45 شام
بہت شکریہ ظہیر بھائی، بھرپور داد سے نوازنے کے لیے نہایت احسان مند ہوں. جزاک اللہ.
آرٹسٹک لبرٹی کو شاعری کے ضمن میں "پوئیٹِک لائسنس" کہاگیا ہے
یہ غزل اس دور کی یادگار ہے جب ہم اس لائسنس کو "لائسنس ٹو کِل" سمجھ کر ادب کی خوب بے ادبی کرتے تھے ... صد شکر جلد ہی توبہ کی سعادت نصیب ہوگئی :)
محمداحمد — دسمبر 18، 2020 5:44 صبح
بہت خوب راحل بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
سب اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
دیکھنا! شاید دعا سن لی گئی؟
آج رنگِ آسمانی اور ہے!
کیا کہنے!
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے!
واہ!
ٹوٹنا طے ہے انا کے بند کا
آج یادوں کی روانی اور ہے

خوب
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے

اللہ اللہ!
بہت سی داد اور مبارکباد اس غزل پر۔ :)
الف عین — دسمبر 18، 2020 6:02 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ داد قبول کرو
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2020 7:14 صبح
بہت خوب راحل بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
سب اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
کیا کہنے!
واہ!
خوب
اللہ اللہ!
بہت سی داد اور مبارکباد اس غزل پر۔ :)
بہت شکریہ احمد بھائی ... آپ کی اس بھرپور داد نے تو مجھے مقروض کر دیا ہے. جزاک اللہ.
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2020 7:17 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ داد قبول کرو
بہت شکریہ استادِ محترم. آپ کی توجہ اور داد و تحسین ہمیشہ ہی طمانیت قلب کا باعث ہوتے ہیں. جزاک اللہ خیر.
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2020 7:18 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ داد قبول کرو
بہت شکریہ استادِ محترم. آپ کی توجہ اور داد و تحسین ہمیشہ ہی طمانیت قلب کا باعث ہوتے ہیں. جزاک اللہ خیر.
محمد عدنان اکبری نقیبی — دسمبر 18، 2020 8:52 صبح
دیکھنا! شاید دعا سن لی گئی؟
آج رنگِ آسمانی اور ہے!
بہت لاجواب
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
بہت اعلی
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے
یہ شعر بہت زبردست ہے
شاندار غزل ۔سلامت رہیں۔
امین شارق — دسمبر 18، 2020 10:45 صبح
عزیزانِ من، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کے ذوقِ بسیار خوب کی نذر۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زمین کس کی ہے :)
امید ہے احباب اپنی ثمین آراء سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر مقدر میں گرانی اور ہے
’’اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے‘‘
دیکھنا! شاید دعا سن لی گئی؟
آج رنگِ آسمانی اور ہے!
ڈھونڈتے ہو کیوں وہاں رسمِ وفا
کوچۂ جاناں کا پانی اور ہے!
پھر رہِ یزداں میں جاں دے دیں گے ہم
’’کوئی دن گر زندگانی اور ہے‘‘
کوئی تو ہوگی غرض، جو آپ کی
آج ہم پر مہربانی اور ہے!
ٹوٹنا طے ہے انا کے بند کا
آج یادوں کی روانی اور ہے
لوگ کچھ خوش باش بھی ہیں شہر میں
میرا کیا! میری کہانی اور ہے
اے مسیحا! ٹھیر جا کچھ اور پل
بس اب اک زخمِ نہانی اور ہے
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر
یارو! راحلؔ کی کہانی اور ہے!

نیا
بہت خوب راحل بھائی
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2020 11:14 صبح
بہت لاجواب
بہت اعلی
یہ شعر بہت زبردست ہے
شاندار غزل ۔سلامت رہیں۔
بہت شکریہ عدنان بھائی، داد و پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں. جزاک اللہ.
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2020 11:16 صبح
نیا
بہت خوب راحل بھائی
بہت شکریہ شارق بھائی. داد و تحسین کے لیے ممنون و متشکر ہوں.
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%AF%D8%B1-%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%DB%92.114336/