غزل : یوں نہ دل کو جلائیے صاحب

محمداحمد — مارچ 2، 2021 12:14 شام
غزل
یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب
اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
اُن کو جا کر بتائیے صاحب
دید، الفت، وصال، ہجر، ملال
جو کیا تھا وہ پائیے صاحب
اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب
ہم کسی طور زیست کر لیں گے
خیر اپنی منائیے صاحب
دل ہمارا جلا کے ہوگا کیا؟
دال اپنی گلائیے صاحب
ہم خدا کو جواب دے دیں گے
حشر یوں مت اُٹھائیے صاحب
دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب
بھول بیٹھے ہیں نغمہ ٴ اُمید؟
میں بتاتا ہوں، گائیے صاحب
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
محمد احمدؔ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 2، 2021 12:52 شام
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
آہا! کیا کہنے!
محمداحمد — مارچ 2، 2021 12:59 شام

بہت شکریہ احسن بھائی!
ایس ایس ساگر — مارچ 2، 2021 1:02 شام
بہت خوب محمداحمد بھائی۔
خوبصورت شاعری۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آمین۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 2، 2021 1:16 شام
بہت خوب ماشاءاللہ
مزا آ گیا
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
کیا ظرف پایا ہے :)
محمد وارث — مارچ 3، 2021 3:30 صبح
خوب رواں غزل ہے احمد صاحب، لاجواب۔
اے خان — مارچ 3، 2021 3:48 صبح
واہ احمد بھائی بہت خوب
اے خان — مارچ 3، 2021 3:48 صبح
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
:in-love:
محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2021 4:01 صبح
کیا عمدہ غزل ہے احمد بھائی
اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
یہ تو بیگمات کا جذباتی وار ہوتا ہے۔
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب

اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب

دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب

جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب

جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
عمدہ اشعار
عاطف ملک — مارچ 3، 2021 4:02 صبح
خوبصورت کلام ماشااللہ۔
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب

جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
بالخصوص یہ اشعار تو:redheart:
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 3، 2021 5:32 صبح
ماشاءاللّٰه
لاجواب اور عمدہ غزل احمد بھائی
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
لاجواب بہترین شعر
اکمل زیدی — مارچ 3، 2021 7:02 صبح
وضاحت۔۔۔ خم ٹھونک۔۔۔دلیل۔۔۔جواز۔۔۔دھمکیانہ ۔۔۔مصالحت۔۔۔جھکاو۔۔۔درگذر۔۔۔۔دوستانہ۔۔۔۔۔۔
سارے رنگ جمع کر دیے احمد بھائی۔۔۔۔۔
خوبصورت۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 3، 2021 7:16 صبح
خوبصورت، خوبصورت!!!
بہت سی داد وصول فرمائیے جناب۔ کیا اچھا کہا ہے۔
محمداحمد — مارچ 3، 2021 7:47 صبح
بہت خوب محمداحمد بھائی۔
خوبصورت شاعری۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آمین۔

بہت بہت شکریہ ساگر بھائی!
آپ کی محبت ہے کہ آپ ہر بار حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔
محمداحمد — مارچ 3، 2021 7:48 صبح
بہت خوب ماشاءاللہ
مزا آ گیا
بہت شکریہ بھائی!
ہو سکتا ہے شاعرنے کسی اور کوجگانے کے لئے ایسا کہا ہو۔ :)
محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:03 شام
خوب رواں غزل ہے احمد صاحب، لاجواب۔

بہت شکریہ وارث بھائی!
بے حد ممنون ہوں۔
محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:06 شام
واہ احمد بھائی بہت خوب

بہت شکریہ بھائی!
جیتے رہیے!
محمد عبدالرؤوف — مارچ 3، 2021 1:12 شام
بہت شکریہ بھائی!
ہو سکتا ہے شاعرنے کسی اور کوجگانے کے لئے ایسا کہا ہو۔ :)
یہی تو بات ہے ناں، شاعر کے الفاظ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں، کسی ایک تو لازماً کاٹے گی :)
محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:14 شام
کیا عمدہ غزل ہے احمد بھائی
عمدہ اشعار

بہت شکریہ تابش بھائی!
یہ تو بیگمات کا جذباتی وار ہوتا ہے۔
:)
ساتھ رہ کر کچھ تو سیکھنا ہی تھا۔ :)
محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:17 شام
خوبصورت کلام ماشااللہ۔
بالخصوص یہ اشعار تو:redheart:

بہت شکریہ عاطف بھائی!
بے حد ممنون ہوں۔ :in-love:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8.115380/