غزل : یوں نہ دل کو جلائیے صاحب

محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:18 شام
ماشاءاللّٰه
لاجواب اور عمدہ غزل احمد بھائی

بہت شکریہ عدنان بھائی!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون و متشکر ہوں۔
مومن فرحین — مارچ 3، 2021 4:02 شام
ماشاءالله بہت ہی خوبصورت غزل ہے محمد احمد بھائی ۔۔۔۔
عرفان علوی — مارچ 4، 2021 1:30 صبح
غزل
یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب
اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
اُن کو جا کر بتائیے صاحب
دید، الفت، وصال، ہجر، ملال
جو کیا تھا وہ پائیے صاحب
اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب
ہم کسی طور زیست کر لیں گے
خیر اپنی منائیے صاحب
دل ہمارا جلا کے ہوگا کیا؟
دال اپنی گلائیے صاحب
ہم خدا کو جواب دے دیں گے
حشر یوں مت اُٹھائیے صاحب
دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب
بھول بیٹھے ہیں نغمہ ٴ اُمید؟
میں بتاتا ہوں، گائیے صاحب
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
محمد احمدؔ
احمد صاحب، خوب اشعار ہیں ۔ داد اور مبارکباد!
الف عین — مارچ 4، 2021 5:31 صبح
واہ واہ، کیا اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
یاسر شاہ — مارچ 4، 2021 9:28 صبح
احمد بھائی السلام علیکم !
چند شرارتیں ہماری بھی قبول فرمائیے ;)
یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب
روز اول سے دل جلے ہیں آپ
کیا جلے کو جلائیے صاحب !:cool:
اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
اوجڑی کیمپ ہے کہ آپ کا دل ؟
کیوں پرخچے اُڑائیےصاحب !
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
ہم ترنّم سے گا ہی لیں گے اگر
آپ بھی دف بجائیے صاحب !
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
آپ کو ساری بھائی کہتی ہیں
بھائی بن کے دکھائیے صاحب
دوسری شادی کو ہیں ہم تیّار
آپ شادی کرائیے صاحب ;)
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
اُن کو جا کر بتائیے صاحب
گیس ہوگی نکل ہی جائے گی
ہاجمولا تو کھائیے صاحب :D
اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب
خود کو اونچا سمجھ کے گھٹ گیا قد
لاکھ باتیں بنائیے صاحب :cool:
دل ہمارا جلا کے ہوگا کیا؟
دال اپنی گلائیے صاحب
ہم کباب اک جلا کے رکھیں گے آپ
دال کے ساتھ کھائیے صاحب :)
ہم خدا کو جواب دے دیں گے
حشر یوں مت اُٹھائیے صاحب
بھائی میرے حساب مشکل ہے
یونہی منھ مت چلائیے صاحب!
دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب
بھول بیٹھے ہیں نغمہ ٴ اُمید؟
میں بتاتا ہوں، گائیے صاحب
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
واہ بہت خوب اشعار -
اب گلے مل کے دور کیجے گلے
گھر پہ تشریف لائیے صاحب !
گاؤں میں نغمہ ٴ اُمید اور آپ
جھوم کر کے دکھائیے صاحب !
ہم نے بھی تین گل کھلائے ہیں
کسی دن دیکھ جائیے صاحب !
جس نے بخشا ہے دل میاں احمد!
دل اسی سے لگائیے صاحب !!
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:08 صبح
وضاحت۔۔۔ خم ٹھونک۔۔۔دلیل۔۔۔جواز۔۔۔دھمکیانہ ۔۔۔مصالحت۔۔۔جھکاو۔۔۔درگذر۔۔۔۔دوستانہ۔۔۔۔۔۔
سارے رنگ جمع کر دیے احمد بھائی۔۔۔۔۔
خوبصورت۔۔۔

بہت شکریہ اکمل بھائی!
یہ غزل کی خوبی ہے کہ رنگارنگ مضمون خود میں سمو لیتی ہے۔
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔ :)
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:09 صبح
خوبصورت، خوبصورت!!!
بہت سی داد وصول فرمائیے جناب۔ کیا اچھا کہا ہے۔

بہت بہت شکریہ خلیل بھائی!
بے حد ممنون ہوں ۔ :)
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:09 صبح
ماشاءالله بہت ہی خوبصورت غزل ہے محمد احمد بھائی ۔۔۔۔

بہت شکریہ!
جیتی رہیے۔ :)
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:10 صبح
احمد صاحب، خوب اشعار ہیں ۔ داد اور مبارکباد!

بہت نوازش عرفان صاحب!
ذرہ نوازی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:11 صبح
واہ واہ، کیا اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

بہت شکریہ استادِ محترم !
آپ کی طرف سے حوصلہ افزائی مشعلِ راہ کا کام کرتی ہے۔
محمداحمد — مارچ 5، 2021 7:23 صبح
احمد بھائی السلام علیکم !
چند شرارتیں ہماری بھی قبول فرمائیے ;)

وعلیکم السلام بھائی!
آپ تو کافی زیادہ شرارتی ہو گئے ہیں۔ :) :)
جب آپ کا تبصرہ دیکھا تو پہلی بار تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے غزل تایا ابو کے ہاتھ لگ گئی ہے اور ہماری کلاس ہو رہی ہے۔ :) :) :)
لیکن تبصرہ آگے بڑھ کر تایا ابو سے بڑے بھائی والا ہو گیا۔ اس لئے ہماری گھبراہٹ کچھ کم ہو گئی۔ :):D
روز اول سے دل جلے ہیں آپ
کیا جلے کو جلائیے صاحب !:cool:

آپ کو پتہ ہے نا! :)
سب کو کیوں بتا رہے ہیں۔ :p
اوجڑی کیمپ ہے کہ آپ کا دل ؟
کیوں پرخچے اُڑائیےصاحب !

:blush:
ہم ترنّم سے گا ہی لیں گے اگر
آپ بھی دف بجائیے صاحب !

ہم ابھی جھولا جھول رہے ہیں۔ :chill:
آپ گا کر رکھ دیں پھر ہم اس پر دف بجا دیں گے۔ :) :)
آپ کو ساری بھائی کہتی ہیں
بھائی بن کے دکھائیے صاحب
دوسری شادی کو ہیں ہم تیّار
آپ شادی کرائیے صاحب

ہم تو بھائی لگتے بھی ہیں۔ :) :) :)
یعنی آپ بھی عمران بھائی کی صف میں شامل ہو گئے۔ :p
خود کو اونچا سمجھ کے گھٹ گیا قد
لاکھ باتیں بنائیے صاحب

اللہ اللہ!
ہم کباب اک جلا کے رکھیں گے آپ
دال کے ساتھ کھائیے صاحب

ایک تو دال اوپر سے لوازمات میں جلا ہو کباب!
خاک دعوت پہ آئیے صاحب!
بھائی میرے حساب مشکل ہے
یونہی منھ مت چلائیے صاحب!

اللہ اللہ!
کیوں ڈرا رہے ہیں بھائی۔
واہ بہت خوب اشعار -
:eek:
اب گلے مل کے دور کیجے گلے
گھر پہ تشریف لائیے صاحب !
گاؤں میں نغمہ ٴ اُمید اور آپ
جھوم کر کے دکھائیے صاحب !
ہم نے بھی تین گل کھلائے ہیں
کسی دن دیکھ جائیے صاحب !
جس نے بخشا ہے دل میاں احمد!
دل اسی سے لگائیے صاحب !!

:in-love::in-love::in-love:
جوابِ شکوہ:
اب غزل پر بھی ہیں ریزرویشنز
اب کہیں کیا بتائیے صاحب! :)
خوش رہیے۔ شاد آباد رہیے۔ :flower:
اکمل زیدی — مارچ 6، 2021 3:42 صبح
بہت شکریہ اکمل بھائی!
یہ غزل کی خوبی ہے کہ رنگارنگ مضمون خود میں سمو لیتی ہے۔
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔ :)
یہ داد غزل کی اس خوبی پر نہیں بلکہ خوبی کو خوبصورتی سے اجاگر کرنے والے کے لیے ہے۔۔۔۔
محمداحمد — مارچ 6، 2021 5:17 صبح
یہ داد غزل کی اس خوبی پر نہیں بلکہ خوبی کو خوبصورتی سے اجاگر کرنے والے کے لیے ہے۔۔۔۔

بے حد محبت ہے اکمل بھائی آپ کی!
شاد آباد رہیے۔ :)
جاسمن — جولائی 29، 2021 4:26 شام
شعر اپنے تو گائیے صاحب
اور بہت داد پائیے صاحب
بہت زیادہ داد قبول کریں۔
ماشاءاللہ۔
منہاج علی — جولائی 31، 2021 4:45 شام
غزل
یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب
اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
اُن کو جا کر بتائیے صاحب
دید، الفت، وصال، ہجر، ملال
جو کیا تھا وہ پائیے صاحب
اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب
ہم کسی طور زیست کر لیں گے
خیر اپنی منائیے صاحب
دل ہمارا جلا کے ہوگا کیا؟
دال اپنی گلائیے صاحب
ہم خدا کو جواب دے دیں گے
حشر یوں مت اُٹھائیے صاحب
دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب
بھول بیٹھے ہیں نغمہ ٴ اُمید؟
میں بتاتا ہوں، گائیے صاحب
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
محمد احمدؔ
کیا کہنا۔ لطف آیا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8.115380/page-2