احمد بھائی السلام علیکم !
چند شرارتیں ہماری بھی قبول فرمائیے
یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب
روز اول سے دل جلے ہیں آپ
کیا جلے کو جلائیے صاحب !

اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا
اب پرخچے اُڑائیے صاحب
اوجڑی کیمپ ہے کہ آپ کا دل ؟
کیوں پرخچے اُڑائیےصاحب !
مصرع زیست میں ہےگر سکتہ
کچھ ترنم سے گائیے صاحب
ہم ترنّم سے گا ہی لیں گے اگر
آپ بھی دف بجائیے صاحب !
تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو
ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب
آپ کو ساری بھائی کہتی ہیں
بھائی بن کے دکھائیے صاحب
دوسری شادی کو ہیں ہم تیّار
آپ شادی کرائیے صاحب
سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں
اُن کو جا کر بتائیے صاحب
گیس ہوگی نکل ہی جائے گی
ہاجمولا تو کھائیے صاحب
اپنی قامت نہ کر سکے اونچی؟
قد ہمارا گھٹائیے صاحب
خود کو اونچا سمجھ کے گھٹ گیا قد
لاکھ باتیں بنائیے صاحب
دل ہمارا جلا کے ہوگا کیا؟
دال اپنی گلائیے صاحب
ہم کباب اک جلا کے رکھیں گے آپ
دال کے ساتھ کھائیے صاحب
ہم خدا کو جواب دے دیں گے
حشر یوں مت اُٹھائیے صاحب
بھائی میرے حساب مشکل ہے
یونہی منھ مت چلائیے صاحب!
دوست بن جائیں کیا خبر کل ہم
ہاتھ آگے بڑھائیے صاحب
آئیے دل بڑا کریں دونوں
اب ذرا مُسکرائیے صاحب
بھول بیٹھے ہیں نغمہ ٴ اُمید؟
میں بتاتا ہوں، گائیے صاحب
جس میں ملتی ہے ہیر رانجھے سے
وہ کہانی سنائیے صاحب
جس سے خوشبو وفا کی آتی ہو
پھول ایسا کھلائیے صاحب
دشمنوں کو بھی رشک ہواحمدؔ
دوست اتنے بنائیے صاحب
واہ بہت خوب اشعار -
اب گلے مل کے دور کیجے گلے
گھر پہ تشریف لائیے صاحب !
گاؤں میں نغمہ ٴ اُمید اور آپ
جھوم کر کے دکھائیے صاحب !
ہم نے بھی تین گل کھلائے ہیں
کسی دن دیکھ جائیے صاحب !
جس نے بخشا ہے دل میاں احمد!
دل اسی سے لگائیے صاحب !!