اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں
واہ واہ ۔ ۔ یہ خیال ہر روز دن میں کئی کئی بار آتا ہے۔
میں دیکھتا ہوں کتابوں کو ایک حسرت سے
کہ مجھ غریب کو فرصت کہاں کتاب پڑھوں
حسب حال
ہرے بھرے کسی جنگل میں ڈال دوں ڈیرا
طُیّور دیکھوں، چُنوں تتلیاں، کتاب پڑھوں
یہ بھی ایک خواہش رہتی ہے۔ سفر میں بچوں اور ہمارے بیگز میں کتابیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔ مگر ایسا خوابناک منظر ہو اور ایک کتاب۔ ۔ کیا بات ہے!!
ساتھ میں چائے بھی کہیں لے آتے تو شعر ہمارے مطابق %100 ہو جاتا۔
ویسے تتلیاں چنی جا سکتی ہیں؟ کیا مردہ تتلیاں ہیں؟ بعض لوگ اپنی البمز میں لگاتے ہیں جیسے۔
تمہاری طرح رکھے پھائے میرے زخم پہ کون؟
میں سوچتا ہوں کوئی مہرباں کتاب پڑھوں
مری طرح ہے کہانی کا مرکزی کردار
سُلجھ رہی ہیں کئی گُتھّیاں، کتاب پڑھوں
بہت اعلی ۔ ڈھیروں داد۔۔۔