غزل ۔ اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے ۔ محمد احمدؔ

محمداحمد — نومبر 9، 2016 6:46 صبح
غزل
اس طرح بیٹھے ہو کیوں بیزار سے
بھر گیا دل راحتِ دیدار سے؟
اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے
گِر پڑا ہوں جیسے میں کُہسار سے
در کُھلا تو میری ہی جانب کُھلا
سر پٹختا رہ گیا دیوار سے
ایک دن خاموش ہو کر دیکھیے
لُطف گر اُٹھنے لگے تکرار سے
دیکھ لو یہ زرد آنکھیں، خشک ہونٹ
پوچھتے ہو حال کیا بیمار سے
قدر کیجے فیض جس جس سے ملے
سایہ ٴ دیوار ہے، دیوار سے
کل یہاں ویرانیاں نہ ہوں مقیم
ڈر رہا ہوں گرمیِ بازار سے
جھوٹ چلتا ہے مگر اِک آدھ بار
اے قصیدہ خواں حذر! تکرار سے
بِک رہی ہے زندگی کے مول ، موت
جائیے! لے آئیے بازار سے
مانگتے ہیں ووٹ، اُس پر طنطنہ
پیچ و خم نکلے نہیں دستار سے
بند کر ٹی وی کی خبریں، بے خبر!
چل کوئی کالم سنا اخبار سے
دوستی کی محفلیں قائم رہیں
یہ دعا ہے اپنی پالن ہار سے
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے

محمد احمدؔ
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 9، 2016 6:48 صبح
در کُھلا تو میری ہی جانب کُھلا
سر پٹختا رہ گیا دیوار سے

جھوٹ چلتا ہے مگر اِک آدھ بار
اے قصیدہ خواں حذر! تکرار سے

تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے
واہ بہت خوب ۔۔ بہت ہی اعلیٰ اور لاجواب
محمد تابش صدیقی — نومبر 9، 2016 6:56 صبح
واہ واہ احمد بھائی، لطف آ گیا۔
آپ کے عمومی مزاج سے کچھ مختلف غزل ہے۔ یا شاید میں نے ایسا محسوس کیا۔ :)
ایک دن خاموش ہو کر دیکھیے
لُطف گر اُٹھنے لگے تکرار سے

قدر کیجے فیض جس جس سے ملے
سایہ ٴ دیوار ہے، دیوار سے

جھوٹ چلتا ہے مگر اِک آدھ بار
اے قصیدہ خواں حذر! تکرار سے

مانگتے ہیں ووٹ، اُس پر طنطنہ
پیچ و خم نکلے نہیں دستار سے

دوستی کی محفلیں قائم رہیں
یہ دعا ہے اپنی پالن ہار سے

تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے

کیا کہنے
فاخر رضا — نومبر 9، 2016 7:42 صبح
ہر ہر شعر خوبصورت مگر مقطع تو نمبر لے گیا .
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے
یہی شعر تو ہمارے دل کی آواز ہے . خدا اگر ستار نہ ہوتا تو ہر شخص خودکشی کرچکا ہوتا . خدا کے رحمان ہونے کا ایک انداز ستار ہونا بھی ہے . کسی کو اگر خدا سزا دینا چاہے تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا پردہ چاک کر دے .
محمد وارث — نومبر 9، 2016 7:42 صبح
خوب غزل ہے احمد صاحب، شروع کے اشعار تو بہت جاندار ہیں۔
فاخر رضا — نومبر 9، 2016 7:44 صبح
یہی شعر پڑھ ایک خواہش ضرور پیدا ہوئی . کاش آپ کا تخلص احمد نہ ہوتا
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے
La Alma — نومبر 9، 2016 8:11 صبح
زبردست ، لاجواب !!
اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے
گِر پڑا ہوں جیسے میں کُہسار سے
کیا ہی عمدہ شعر ہے .
فلک شیر — نومبر 9، 2016 9:11 صبح
مرشد کی کیا ہی بات ہے
نیا رنگ ہے ، ساز بدلے گئے ،خوشی ہوئی :)
کل غزل ہی بہت عمدہ ہے ۔ ایک ایک شعر
حسن محمود جماعتی — نومبر 9، 2016 9:24 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔ قبلہ یہ ہوئی نا بات کیا کہنے آپ کے بہت عمدہ بہت خوب۔ پوری غزل کیسے باندھ کے آئی ہے۔ واہ واہ واہ۔۔۔۔
ابن رضا — نومبر 9، 2016 9:52 صبح
واہ واہ احمد بھائی حسنِ مطلع ، مطلع سے بھی خوب ہے
محمداحمد — نومبر 9، 2016 1:48 شام
واہ بہت خوب ۔۔ بہت ہی اعلیٰ اور لاجواب

بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔ :)
محمداحمد — نومبر 9، 2016 1:59 شام
واہ واہ احمد بھائی، لطف آ گیا۔
شکریہ تابش بھائی!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
آپ کے عمومی مزاج سے کچھ مختلف غزل ہے۔ یا شاید میں نے ایسا محسوس کیا۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
:)
محمداحمد — نومبر 9، 2016 2:03 شام
ہر ہر شعر خوبصورت مگر مقطع تو نمبر لے گیا .
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے
یہی شعر تو ہمارے دل کی آواز ہے . خدا اگر ستار نہ ہوتا تو ہر شخص خودکشی کرچکا ہوتا . خدا کے رحمان ہونے کا ایک انداز ستار ہونا بھی ہے . کسی کو اگر خدا سزا دینا چاہے تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا پردہ چاک کر دے .
بہت شکریہ فاخر صاحب!
بلاشبہ اللہ ستار العیوب ہے اور ہمارا پردہ رکھتا ہے۔ یہ اُس کی رحمت ہے۔
یہی شعر پڑھ ایک خواہش ضرور پیدا ہوئی . کاش آپ کا تخلص احمد نہ ہوتا
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے

آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں تاہم تخلص کی علامت اشارہ کرتی ہے کہ شعر میں کس کا ذکر ہو رہا ہے۔
خوش رہیے۔
محمداحمد — نومبر 9، 2016 2:04 شام
خوب غزل ہے احمد صاحب، شروع کے اشعار تو بہت جاندار ہیں۔

بہت شکریہ وارث بھائی!
حوصلہ افزائی کے لئے سراپا سپاس ہوں۔
محمداحمد — نومبر 10، 2016 9:45 صبح
زبردست ، لاجواب !!
کیا ہی عمدہ شعر ہے .

بہت شکریہ!
خوش رہیے۔ :)
محمداحمد — نومبر 10، 2016 9:46 صبح
مرشد کی کیا ہی بات ہے
نیا رنگ ہے ، ساز بدلے گئے ،خوشی ہوئی :)
کل غزل ہی بہت عمدہ ہے ۔ ایک ایک شعر

فلک بھائی !
میں چاہوں بھی تو اس محبت کا جواب نہیں دے سکتا۔ :in-love:
شاد آباد رہیے۔ :)
حمیرا عدنان — نومبر 10، 2016 9:50 صبح
بہت بہت عمدہ احمد بھائی
لاجواب
محمداحمد — نومبر 10، 2016 9:54 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔ قبلہ یہ ہوئی نا بات کیا کہنے آپ کے بہت عمدہ بہت خوب۔ پوری غزل کیسے باندھ کے آئی ہے۔ واہ واہ واہ۔۔۔۔

آپ کو غزل پسند آ گئی ہمارے پیسے وصول ہو گئے۔ :)
خوش رہیے۔ :)
لیکن کوئی زبردستی نہیں ہے۔ :D:p
لاریب مرزا — نومبر 10، 2016 10:04 صبح
کیا بات ہے!! بہت عمدہ!!
بہت سی داد احمد بھائی کے لیے
حسن محمود جماعتی — نومبر 10، 2016 11:06 صبح
آپ کو غزل پسند آ گئی ہمارے پیسے وصول ہو گئے۔ :)
خوش رہیے۔ :)
لیکن کوئی زبردستی نہیں ہے۔ :D:p
آپ کی محبتوں پر ممنون و شکر گزار ہوں۔ میں شاعری کوئی سند کی حیثیت نہیں رکھتا کہ مجھے پسند آنے نہ آنے پہ پیسے وصول ہوں۔ یہاں استاذان فن موجود ہیں۔ جو سند ہیں۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%A7%D8%B4%DA%A9-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%88%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D8%B1%D9%8F%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.92930/