غزل اس طرح بیٹھے ہو کیوں بیزار سے
بھر گیا دل راحتِ دیدار سے؟ اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے
گِر پڑا ہوں جیسے میں کُہسار سے در کُھلا تو میری ہی جانب کُھلا
سر پٹختا رہ گیا دیوار سے ایک دن خاموش ہو کر دیکھیے
لُطف گر اُٹھنے لگے تکرار سے دیکھ لو یہ زرد آنکھیں، خشک ہونٹ
پوچھتے ہو حال کیا بیمار سے قدر کیجے فیض جس جس سے ملے
سایہ ٴ دیوار ہے، دیوار سے کل یہاں ویرانیاں نہ ہوں مقیم
ڈر رہا ہوں گرمیِ بازار سے جھوٹ چلتا ہے مگر اِک آدھ بار
اے قصیدہ خواں حذر! تکرار سے بِک رہی ہے زندگی کے مول ، موت
جائیے! لے آئیے بازار سے مانگتے ہیں ووٹ، اُس پر طنطنہ
پیچ و خم نکلے نہیں دستار سے بند کر ٹی وی کی خبریں، بے خبر!
چل کوئی کالم سنا اخبار سے دوستی کی محفلیں قائم رہیں
یہ دعا ہے اپنی پالن ہار سے تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے محمد احمدؔ
ہر ہر شعر خوبصورت مگر مقطع تو نمبر لے گیا .
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے یہی شعر تو ہمارے دل کی آواز ہے . خدا اگر ستار نہ ہوتا تو ہر شخص خودکشی کرچکا ہوتا . خدا کے رحمان ہونے کا ایک انداز ستار ہونا بھی ہے . کسی کو اگر خدا سزا دینا چاہے تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا پردہ چاک کر دے .
محمد وارث — نومبر 9، 2016 7:42 صبح
خوب غزل ہے احمد صاحب، شروع کے اشعار تو بہت جاندار ہیں۔
فاخر رضا — نومبر 9، 2016 7:44 صبح
یہی شعر پڑھ ایک خواہش ضرور پیدا ہوئی . کاش آپ کا تخلص احمد نہ ہوتا
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے
ہر ہر شعر خوبصورت مگر مقطع تو نمبر لے گیا .
تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے یہی شعر تو ہمارے دل کی آواز ہے . خدا اگر ستار نہ ہوتا تو ہر شخص خودکشی کرچکا ہوتا . خدا کے رحمان ہونے کا ایک انداز ستار ہونا بھی ہے . کسی کو اگر خدا سزا دینا چاہے تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا پردہ چاک کر دے .
آپ کی محبتوں پر ممنون و شکر گزار ہوں۔ میں شاعری کوئی سند کی حیثیت نہیں رکھتا کہ مجھے پسند آنے نہ آنے پہ پیسے وصول ہوں۔ یہاں استاذان فن موجود ہیں۔ جو سند ہیں۔