غزل ۔ زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے ۔ محمد احمد

محمداحمد — جنوری 27، 2013 8:45 صبح
غزل
زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے
میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے
ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی
جشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئے
دے گئی مستقل خلش دل کو
آرزو پائمال ہوتے ہوئے
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں
زندگانی وبال ہوتے ہوئے
کس قدر اختلاف کرتا ہے
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے
پئے الزام آ رُکیں مجھ پر
ساری آنکھیں سوال ہوتے ہوئے
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے
محمد احمدؔ
نیرنگ خیال — جنوری 27، 2013 2:36 شام
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں​
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے​
کیا زبردست شاعری ہے۔ بہت خوب غزل۔۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے شاعر صاحب عرف پائتھون گرو :)
محمداحمد — جنوری 27، 2013 7:31 شام
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں​
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے​
کیا زبردست شاعری ہے۔ بہت خوب غزل۔۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے شاعر صاحب عرف پائتھون گرو :)

بہت شکریہ بھیا! بہت محبت ہے آپ کی۔
بہت ممنون ہوں۔ :)
فاتح — جنوری 27، 2013 8:04 شام
واہ واہ کیا کہنے
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے
الف عین — جنوری 28، 2013 6:04 صبح
بہت خوب احمد۔ مزا آ گیا
محمد وارث — جنوری 28، 2013 10:19 صبح
بہت اچھی غزل ہے احمد صاحب کیا کہنے، سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت پسند آئے​
دے گئی مستقل خلش دل کو​
آرزو پائمال ہوتے ہوئے​
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
اور مقطع کا تو جواب نہیں​
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ​
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے​
واہ واہ واہ۔​
محمداحمد — جنوری 29، 2013 7:42 شام
واہ واہ کیا کہنے
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے

بہت شکریہ فاتح بھائی۔۔۔!
محمداحمد — جنوری 29، 2013 7:42 شام
بہت خوب احمد۔ مزا آ گیا

بہت شکریہ محترم۔۔!
امجد علی راجا — جنوری 30، 2013 3:41 صبح
سبحان اللہ، لطف آگیا بھیا
محمداحمد — جنوری 30، 2013 6:19 صبح
بہت اچھی غزل ہے احمد صاحب کیا کہنے، سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت پسند آئے​
دے گئی مستقل خلش دل کو​
آرزو پائمال ہوتے ہوئے​
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
اور مقطع کا تو جواب نہیں​
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ​
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے​
واہ واہ واہ۔​

بہت شکریہ وارث بھائی !
بہت محبت ہے آپ کی۔
محمداحمد — جنوری 30، 2013 6:19 صبح
سبحان اللہ، لطف آگیا بھیا

شکریہ امجد بھائی !
خوش رہیے۔
محب علوی — جنوری 30، 2013 7:29 صبح
ہمم، میں ادھر پائتھون کے زمرے میں تلاش کر کر کے تھک گیا اور آپ یہاں شاعری سے شوق فرما رہے ہیں۔ :)
کس قدر اختلاف کرتا ہے
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے
اس شعر کی تو حسرت ہی رہی مجھے :)۔​
عمدہ ہے بھئی ، اب میں تو تعریف کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ :)
محمداحمد — جنوری 31، 2013 7:18 شام
ہمم، میں ادھر پائتھون کے زمرے میں تلاش کر کر کے تھک گیا اور آپ یہاں شاعری سے شوق فرما رہے ہیں۔ :)

ہمارا ہوم پیج تو شروع سے یہی ہے نا! کہیں نہ ملیں تو سمجھیے یہیں پائے جائیں گے۔ :D
کس قدر اختلاف کرتا ہے
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے
اس شعر کی تو حسرت ہی رہی مجھے :)۔​
عمدہ ہے بھئی ، اب میں تو تعریف کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ :)

بہت شکریہ۔۔۔! اساتذہ سے داد پانا واقعی بہت خوش کن ہوتا ہے۔ :p:D
مدیحہ گیلانی — مئی 25، 2013 11:13 صبح
واہ واہ کیا ہی خوبصورت غزل ہے محمداحمد :)
دے گئی مستقل خلش دل کو
آرزو پائمال ہوتے ہوئے
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے
مقطع تو کمال ہے ۔۔ماشاءاللہ خوب لکھتے ہیں آپ ۔
سلیم کوثر جھلکتے ہیں آپکی شاعری میں ۔۔ :)شاد رہیں اسی طرح لکھتے رہیں ۔
محمداحمد — مئی 27، 2013 12:07 شام
واہ واہ کیا ہی خوبصورت غزل ہے محمداحمد :)
دے گئی مستقل خلش دل کو
آرزو پائمال ہوتے ہوئے
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے
مقطع تو کمال ہے ۔۔ماشاءاللہ خوب لکھتے ہیں آپ ۔
سلیم کوثر جھلکتے ہیں آپکی شاعری میں ۔۔ :)شاد رہیں اسی طرح لکھتے رہیں ۔

بہت بہت شکریہ !
آپ کی داد پا کر خوشی ہوئی اور بہت حوصلہ بھی ملا۔۔۔!
سلیم کوثر تو بڑے شاعر ہیں۔ ہم تو ابھی سیکھ رہے ہیں۔ :)
ام نور العين — جون 10، 2013 5:49 شام
بہت خوب ۔ بہت ہی اچھی ہے ۔
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں
زندگانی وبال ہوتے ہوئے
بہترین ہے ۔
کس قدر اختلاف کرتا ہے
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے

جو مزا اختلاف میں ہے وہ اتفاق میں کہاں ۔
نیلم — جون 10، 2013 6:10 شام
بہت خُوب احمد بھائی
محمد اسامہ سَرسَری — جون 10، 2013 11:05 شام
واہ کیا خوب صورت غزل ہے، ہر شعر زبان زد عام ہونے کی پیشگوئی کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔:):):)
دل چاہتا ہے پہلے پہر اسے پڑھتے رہیں::)
زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے
میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے
پھر دوسرے پہر اسے پڑھتے رہیں::)
ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی
جشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئے
پھر تیسرے پہر اسے پڑھتے رہیں::)
دے گئی مستقل خلش دل کو
آرزو پائمال ہوتے ہوئے
پھر چوتھے پہر اسے پڑھتے رہیں::)
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں
زندگانی وبال ہوتے ہوئے
پھر پانچویں پہر اسے پڑھتے رہیں::)
کس قدر اختلاف کرتا ہے
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے
پھر چھٹے پہر اسے پڑھتے رہیں::)
پئے الزام آ رُکیں مجھ پر
ساری آنکھیں سوال ہوتے ہوئے
پھر ساتویں پہر اسے پڑھتے رہیں::)
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے
پھر آٹھویں پہر اسے پڑھتے رہیں::)
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے
غرض آٹھوں پہر اس غزل کو پڑھتے رہیں تب بھی دل نہیں بھرے گا۔:):):)
فارقلیط رحمانی — جون 11، 2013 1:18 شام
محمد احمد صاحب ایک اچھی غزل کے لیے شکریہ
محمداحمد — جون 12، 2013 1:47 شام
بہت خوب ۔ بہت ہی اچھی ہے ۔
بہترین ہے ۔
جو مزا اختلاف میں ہے وہ اتفاق میں کہاں ۔

بہت شکریہ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B2%D8%AE%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%90%D9%85%D8%A7%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.59238/