واہ کیا خوب صورت غزل ہے، ہر شعر زبان زد عام ہونے کی پیشگوئی کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔
دل چاہتا ہے پہلے پہر اسے پڑھتے رہیں:
زخم کا اندِمال ہوتے ہوئےمیں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئےپھر دوسرے پہر اسے پڑھتے رہیں:
ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتیجشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئےپھر تیسرے پہر اسے پڑھتے رہیں:
دے گئی مستقل خلش دل کوآرزو پائمال ہوتے ہوئےپھر چوتھے پہر اسے پڑھتے رہیں:
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیںزندگانی وبال ہوتے ہوئےپھر پانچویں پہر اسے پڑھتے رہیں:
کس قدر اختلاف کرتا ہےوہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئےپھر چھٹے پہر اسے پڑھتے رہیں:
پئے الزام آ رُکیں مجھ پرساری آنکھیں سوال ہوتے ہوئےپھر ساتویں پہر اسے پڑھتے رہیں:
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیںسامنے کی مثال ہوتے ہوئےپھر آٹھویں پہر اسے پڑھتے رہیں:
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔخوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئےغرض آٹھوں پہر اس غزل کو پڑھتے رہیں تب بھی دل نہیں بھرے گا۔
اُسامہ بھائی۔۔۔۔!
بہت شکریہ ایسی اچھی داد کا شکریہ ۔۔۔!
خوش رہیے۔