محمد تابش صدیقی بھائی (بصد معذرت) کے بطور شاعر نمودار ہونے کا غم ابھی تازہ تھا اور آج
محمداحمد بھائی (بصد معذرت) آپ کا کلام دیکھا تو طبیعت میں ہیجان آگیا۔

آپ محفلین کو شاید علم نہیں کہ آپکی وجہ سے کسی کی زندگی اجیرن بھی ہو سکتی ہے۔

یقین جانیئے جب سے محفل پر آیا ہوں بھٹناگر شاداب صاحب کے علمِ عروض پر 25 لیکچر سن سن کر تقریباً ذہنی توازن کھو بیٹھا ہوں۔
اگر اس بات سے آپ کی تسکینِ قلب ہوتی ہے تو ہم بتا دیتے ہیں کہ ہم نے محفل میں اپنی پہلی غزل فروری 2007 میں پیش کی تھی۔ اُس وقت شاید آپ اسکول میں پڑھتے ہوں۔

بہرکیف شاعری اتنی مشکل نہیں ہے۔ بس اچھی شاعری پڑھتے رہیے، سُنتے رہیے ، آپ کی طبیعت از خود موزوں ہو جائے گی اور آپ کے فقرے مصروں میں ڈھلنے لگ جائیں گے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عروض سیکھنا شاعری سیکھنا ہے۔
دراصل عروض شاعری نہیں ہیں بلکہ شاعری کے وزن اور معیار وغیرہ کو جانچنے کا طریقہ ہے۔ ہر چند کے عروض سیکھ سیکھ کر شاعری کے اوزان سمجھ آنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر طبیعت میں موزونیت ہو تو یہ راستہ اتنا دشوار نہیں ہوتا جتنا کہ صرف عروض کے راستے سے آنے والوں کے لئے ہوتا ہے۔
پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر شاعری "آپ کا چائے کا کپ" نہیں بھی ہے تو نثر بھی لکھی جا سکتی۔ بلکہ دیکھا جائے تو آج کے دور میں اچھے نثر نگار بہت ہی کم ملتے ہیں۔ اور یہ میدان آپ کے لئے بلکہ ہم سب کے لئے کھلا ہے۔

میری طرف سے تمام تر نیک تمنائیں آپ کے لئے۔

جیتے رہیے۔
