تمام دوستوں سے معذرت کے ساتھ ۔ ۔ ۔
میں تو بڑے مان سے یہاں آیا تھا، مانتا ہوں کہ میرے لکھنے میں بے شمار نقص ہوں گے لیکن ایک بات آپ سب سے پوچھنا چاھتا ہوں کہ کیا تنقید کا یہ انداز(جوآپ دوستوں کا ہے) مناسب ہے؟ پہلے ہی دن آپ سب نے میرے بہت اچھی اور مہمان نوازی اور بہت اچھی تواضع کی جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اس سے تو مجھے ایسا ہی لگا جیسے آپ کے گھر کی بزم ہے اور میں آپ کی بزم میں ایسے آ گیا جیسے کوئی کسی کے گھر دستک دیے بغیر داخل ہو جائے اہر پھر جیسے دُرگت اس کی بنتی ہے کچھ یہی حال میرا بھی ہے۔ ایک بات بتانا چاہونگا مجھے اُردو سے دلی محبت ہے میں اسے کسی کی وجہ سے گنوانا نہیں چاھتا لیکن اگر آپ دوست ذرا طریقے سے سمجھاتے تو بہت اچھا ہوتا۔ مجھے بہت دُکھ ہوا کاص طور پر الف عین،ادب دوست اور صائمہ شاہ صاحبہ کے کمنٹس پر لیکن آپ اچھے ہیں سمجھدار ہیں۔۔۔ آپ چاھیں تو مجھے بھی اپنے جیسا سمجھدار بنا سکتے ہیں۔
سلامت رھیں
بھائی، میری طرف سے دلی معذرت ، بغیر یہ پوچھے کہ میری کس بات سے شیشہءدل پر بال آیا۔
میرا یہ جملہ شاید اپنا درست تاثر قائم نہیں کرسکا۔
واہ فرخ صاحب اچھی غزل ہے ۔ داد قبول ہو
شاید دیگر مراسلوں کی موجودگی میں دب گیا ہو۔
دوسری اور اہم بات۔
بے عیب کلام اللہ کا ہے۔ انسانوں سے غلطی کا ہونا کوئی ایسی انوکھی بات نہیں۔ یہاں سب لوگ بہت وسیع المطالعہ ہیں ۔ کچھ نہ کچھ یہ ناچیز بھی پڑھتا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر کہتا ہوں تنقیدنگاروں کو پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کثرت سے اساتذہ کے کلام سے عیوب نکال کر دیکھائے جاتےہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اساتذہ نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ انسان بہرحال انسان ہے غلطی سے خالی نہیں۔
میں نے عرض کیا تھا کہ یہ تو ممکن ہے کہ کبھی کسی تبصرے میں تلخی زیادہ ہوجائے ۔ (یہاں میں نے دیگر احباب سے غیر محسوس طریقے پر ، نرمی برتنے کی درخواست کی تھی)
پھر آپ سے عرض کیا۔"چراغ کی لو سے ہاتھ جل بھی جائے تب بھی روشنی کو ترک نہیں کیا جاسکتا" یعنی دوستوں کی بات سے دلبرداشتہ نہ ہوں یہ آپ کی خیرخواہ ہیں۔