وزن میں نون غنہ ساقط ہوتا ہے، قافیہ میں نہیں۔ یہاں معاملہ صرف وزن کا نہیں قافیے کا بھی ہے۔
عین ممکن ہے کہ ایک مصرع میں اعتبار ساجد کی نظر چوک گئی ہو (بالکل فطری بات ہے)۔ غلطی کو سند نہیں مانا جا سکتا۔
وزن میں نون غنہ ساقط ہوتا ہے، قافیہ میں نہیں۔ یہاں معاملہ صرف وزن کا نہیں قافیے کا بھی ہے۔
ادب نازک مزاجی کا متحمل نہیں ہوتا اگر آپ کو واقعی اردو سے محبت ہے تو محنت کیجیے اور اردو شاعری سیکھیے بجائے اس کہ کے دامن جھاڑ کر آسان راستہ ڈھونڈیں ۔ اور معذرت خواہ ہوں کہ جھوٹی تعریف نہیں کی اور آپ کا کیا بھلا ہوتا اس تعریف سے ؟
میں یہ پیراگراف پہلے پڑھ لیتا تو وہ جو دو مختصر جملے لکھ دئے ہیں، وہ بھی نہ لکھتا۔ ویسے بھی میں نے جو کچھ کہا وہی کچھ دوست پہلے کہہ چکے تھے۔
ایک بات تو طے ہے کہ اگر آپ حصولِ علم اور اردو سے محبت کی نیت سے یہاں آئے ہیں تو یہ باتیں آپ کو ناگوار نہیں گزرنی چاہیں. کیونکہ یہ تنقید ہی ہے جو غلطیاں سدھارنے میں مدد کرتی ہے. ہاں اگر آپ کا مطمع ءِ نظر یہ ہے کہ آپ کی چونکہ دو کتب چھپ چکی ہیں اور آپ کی اصلاح بھی ایک معتبر نام.سے ہو چکی ہے تو پھر اب آپ کو ہر جگہ پذیرائی ہی ملنی چاہیے چاہے کلام مسحورکن ہو یا نہیں تو پھر آپ غلطی پر ہیں. یہاں کچھ وقت گزارئیے توامید ہے آپ اپنی رائے بدلنے میں کامیاب ہونگے.