غزل - سوچ لے

امجد علی راجا — جنوری 29، 2013 8:10 صبح
بھیجا ہے ہم نے اس کو یہ پیغام، سوچ لے​
ہوتا برا ہے پیار کا انجام، سوچ لے​
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی​
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے​
مجھ سے بڑھا رہا ہے مراسم، زہے نصیب​
میں ہوں مگر جہان میں بدنام، سوچ لے​
ساغر سے دل کی آگ بجھانے چلا ہے تُو​
پانی نہیں یہ آگ کا ہے جام، سوچ لے​
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
راجا نہیں ہے دل پہ ابھی سے کچھ اختیار​
آغاز اس طرح ہے تو انجام، سوچ لے​
محمداحمد — جنوری 29، 2013 7:44 شام
بہت خوب راجہ صاحب،
اچھی غزل ہے۔
امجد علی راجا — جنوری 30، 2013 3:37 صبح
شکریہ، احمد بھیا
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 5:30 شام
گرمی سے پہلے پہلے مری داد کر قبول
کھانے لگیں گے گرمی میں ہم آم سوچ لے
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 4:29 صبح
گرمی سے پہلے پہلے مری داد کر قبول
کھانے لگیں گے گرمی میں ہم آم سوچ لے
گرمی میں آم کھائو گے میرے بغیر آپ؟
ایسے میں پیٹ کا بھی تو انجام سوچ لے
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 4:34 صبح
معذرت چاہتا ہوں، اس مراسلے میں آپ دوستوں کو ٹیگ کرنا بھول گیا تھا۔
محمد خلیل الرحمٰن سید شہزاد ناصر افلاطون الشفاء امر شہزاد باباجی ذوالقرنین شمشاد شوکت پرویز شہزاد احمد شیزان عمراعظم محسن وقار علی سید زبیر محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد وارث مقدس مہ جبین یوسف-2 متلاشی حوا کی بیٹی نایاب
نایاب — مارچ 16، 2013 4:40 صبح
بہت خوب راجہ صاحب
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کو روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 5:02 صبح
بہت خوب راجہ صاحب
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کو روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
شکریہ نایاب بھیا!
محمد علم اللہ — مارچ 16، 2013 5:06 صبح
بہت عمدہ کلام
مبارکباد
مہ جبین — مارچ 16، 2013 5:06 صبح
اچھی غزل ہے
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 5:07 صبح
شکریہ مہ جبین باجی
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 5:20 صبح
بہت عمدہ کلام
مبارکباد
شکریہ علم اللہ بھیا!
باباجی — مارچ 16، 2013 5:39 صبح
عمدہ کلام راجہ صاحب (y)
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 16، 2013 5:39 صبح
بھیجا ہے ہم نے اس کو یہ پیغام، سوچ لے
ہوتا برا ہے پیار کا انجام، سوچ لے
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے
مجھ سے بڑھا رہا ہے مراسم، زہے نصیب
میں ہوں مگر جہان میں بدنام، سوچ لے
ساغر سے دل کی آگ بجھانے چلا ہے تُو
پانی نہیں یہ آگ کا ہے جام، سوچ لے
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کو روبرو
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے
راجا نہیں ہے دل پہ ابھی سے کچھ اختیار
آغاز اس طرح ہے تو انجام، سوچ لے
بہت خوب جناب۔ داد قبول کیجیے۔
ا س مصرع میں اگر’’ستمگر کو روبرو ‘‘ کے بجائے’’ ستمگر کے رُو برُو ‘‘ کردیا جائے تو؟
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 5:44 صبح
بہت خوب جناب۔ داد قبول کیجیے۔
ا س مصرع میں اگر’’ستمگر کو روبرو ‘‘ کے بجائے’’ ستمگر کے رُو برُو ‘‘ کردیا جائے تو؟
اوہو، ٹائیپو کی غلطی بھیا جانی، نشاندہی کے لئے شکریہ
شیزان — مارچ 16، 2013 6:28 صبح
مجھ سے بڑھا رہا ہے مراسم، زہے نصیب
میں ہوں مگر جہان میں بدنام، سوچ لے
سوچنا کیا!!
جو بھی ہو گا ، دیکھا جائے گا۔۔
عمدہ کلام چھوٹے بھائی
یوسف-2 — مارچ 16، 2013 6:40 صبح
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
:zabardast1:
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 16، 2013 6:48 صبح
گرمی میں آم کھائو گے میرے بغیر آپ؟
ایسے میں پیٹ کا بھی تو انجام سوچ لے
شترگربہ؟:)
متلاشی — مارچ 16، 2013 6:49 صبح
بہت خوب امجد بھائی۔۔۔!
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 8:28 صبح
عمدہ کلام راجہ صاحب (y)
شکریہ باباجی
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%D9%88%DA%86-%D9%84%DB%92.59288/