غزل - سوچ لے

امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 8:30 صبح
مجھ سے بڑھا رہا ہے مراسم، زہے نصیب
میں ہوں مگر جہان میں بدنام، سوچ لے
سوچنا کیا!!
جو بھی ہو گا ، دیکھا جائے گا۔۔
عمدہ کلام چھوٹے بھائی
شکریہ شیزان بھیا!
کیا بات ہے آج غزل پر ہاتھ صاف نہیں کریں گے :)
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 8:31 صبح
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
:zabardast1:
بہت نوازش یوسف بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 8:31 صبح
بہت خوب امجد بھائی۔۔۔ !
نوزش، کرم، مہربانی متلاشی بھیا!
شیزان — مارچ 16، 2013 8:33 صبح
شکریہ شیزان بھیا!
کیا بات ہے آج غزل پر ہاتھ صاف نہیں کریں گے :)

نہیں بھئی سنجیدہ غزلوں سے ہاتھ کرتے ذرا اچھا نہیں لگتا۔۔
دوسرے ویسے بھی آج میرے ہاتھ بہت صاف صاف ہیں۔۔ ڈیٹول سے دھوئے ہیں نا:)
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 8:46 صبح
نہیں بھئی سنجیدہ غزلوں سے ہاتھ کرتے ذرا اچھا نہیں لگتا۔۔
دوسرے ویسے بھی آج میرے ہاتھ بہت صاف صاف ہیں۔۔ ڈیٹول سے دھوئے ہیں نا:)
نہ مٹی میں کھیلا کریں نا، پھر آنٹی جی ڈانٹ کر ڈیٹول سے ہاتھ دھلواتی ہیں;)
محسن وقار علی — مارچ 16، 2013 9:01 صبح
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی​
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے​
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
بہت خوب راجا بھائی​
داد قبول کیجیے:applause::applause:
شیزان — مارچ 16، 2013 9:07 صبح
نہ مٹی میں کھیلا کریں نا، پھر آنٹی جی ڈانٹ کر ڈیٹول سے ہاتھ دھلواتی ہیں;)
یہ تو ہے۔۔ پر وہ بچے ہی کیا جو ڈانٹ سے گھبرا گئے۔۔
اور ویسے بھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں نا;)
تھوڑی دیر بعد پھر ہاتھ گندے ہوں گے تو آؤں گا اپنے راجا جی کے پاس صاف کرنے۔۔ او کے
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 9:14 صبح
یہ تو ہے۔۔ پر وہ بچے ہی کیا جو ڈانٹ سے گھبرا گئے۔۔
اور ویسے بھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں نا;)
تھوڑی دیر بعد پھر ہاتھ گندے ہوں گے تو آؤں گا اپنے راجا جی کے پاس صاف کرنے۔۔ او کے
میں شدت سے انتظار کروں گا، ڈیٹول لے کر :grin:
یوسف-2 — مارچ 16، 2013 10:16 صبح
شکریہ شیزان بھیا!
کیا بات ہے آج غزل پر ہاتھ صاف نہیں کریں گے :)
آج شیزان بھیا کے ہاتھ پہلے سے صاف ہیں ناں :p
پس نوشت: یہ جواب ہم نے اوپر شیزان بھائی کا جواب پڑھے بغیر لکھا تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم نے یہ جواب ”نقل“ کرکے لکھا ہے۔ :)
محمد بلال اعظم — مارچ 16، 2013 10:21 صبح
عمدہ غزل ہے امجد بھائی۔
سید زبیر — مارچ 16، 2013 11:19 صبح
بہت خوب
ساغر سے دل کی آگ بجھانے چلا ہے تُو
پانی نہیں یہ آگ کا ہے جام، سوچ لے
واہ
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 11:27 صبح
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی​
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے​
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
بہت خوب راجا بھائی​
داد قبول کیجیے:applause::applause:
شکریہ وقار بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 11:28 صبح
عمدہ غزل ہے امجد بھائی۔
بہت مہربانی بلال بھیا
امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 11:28 صبح
بہت خوب
ساغر سے دل کی آگ بجھانے چلا ہے تُو
پانی نہیں یہ آگ کا ہے جام، سوچ لے
واہ
شکریہ زبیر بھیا!
عمراعظم — مارچ 16، 2013 3:25 شام
بہت عمدہ کلام ۔۔داد قبول فرمائیں۔
سوچنا کیا جناب۔
گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا،ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
سید شہزاد ناصر — مارچ 16، 2013 3:38 شام
ساغر سے دل کی آگ بجھانے چلا ہے تُو​
پانی نہیں یہ آگ کا ہے جام، سوچ لے​
واہ واہ​
کیا حسبِ حال شعر کہا ہے​
دل کچھ ایسا ہی چاہ رہا تھا​
آگ کو آگ ہی بجھا سکتی ہے​
الف عین — مارچ 16، 2013 5:46 شام
خوب۔ لیکن کچھ ہلکی نہیں ہے؟
شوکت پرویز — مارچ 18، 2013 6:50 صبح
جناب امجد علی راجا صاحب!
سنجیدہ غزل لکھنے کی اچّھی کوشش ہے، اللہ آپ کو اور عروج پر لے جائے، آمین۔۔۔
مجھے ان دو اشعار میں کچھ کلام ہے، گزارش ہے کہ ان پر ذرا غور کریں، شکریہ!!
بھیجا ہے ہم نے اس کو یہ پیغام، سوچ لے
ہوتا برا ہے پیار کا انجام، سوچ لے
جو پیغام بھیجا گیا ہے اس میں "سوچ لے" دو مرتبہ آ رہا ہے۔۔۔ ظاہرا پیغام یہی لگ رہا ہے کہ "سوچ لے، پیار کا انجام برا ہوتا ہے، سوچ لے"
-----------
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے

یہاں لفظ "اجنبی" کچھ کھٹک رہا ہے، اس کی جگہ "میرے یار" یا "میرے دوست" وغیرہ یا کچھ اور لایا جائے تو شاید بہتر ہو، کیونکہ ایک "اجنبی" کو یہ بات کہنا ذرا مشکل لگتا ہے۔۔۔
-----------
بقیہ اشعار اچّھے ہیں خصوصا مقطع کمال کا ہے، شکریہ!!
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 7:08 صبح
جناب امجد علی راجا صاحب!
سنجیدہ غزل لکھنے کی اچّھی کوشش ہے، اللہ آپ کو اور عروج پر لے جائے، آمین۔۔۔
مجھے ان دو اشعار میں کچھ کلام ہے، گزارش ہے کہ ان پر ذرا غور کریں، شکریہ!!
جو پیغام بھیجا گیا ہے اس میں "سوچ لے" دو مرتبہ آ رہا ہے۔۔۔ ظاہرا پیغام یہی لگ رہا ہے کہ "سوچ لے، پیار کا انجام برا ہوتا ہے، سوچ لے"
-----------
یہاں لفظ "اجنبی" کچھ کھٹک رہا ہے، اس کی جگہ "میرے یار" یا "میرے دوست" وغیرہ یا کچھ اور لایا جائے تو شاید بہتر ہو، کیونکہ ایک "اجنبی" کو یہ بات کہنا ذرا مشکل لگتا ہے۔۔۔
-----------
بقیہ اشعار اچّھے ہیں خصوصا مقطع کمال کا ہے، شکریہ!!

شوکت بھیا آپ کی نقطہ چینی کے لئے شکرگزار ہوں۔
ہاں پہلے شعر میں کچھ اسی طرح کا بیان مقصود تھا
دوسرے شعر پر تنقید بجا ہے۔ اس کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 7:30 صبح
آساں نہیں ہے راستہ الفت کا اجنبی​
آئے گی پیش گردشِ ایام، سوچ لے​
کرتا ہے حق کی بات ستمگر کے روبرو​
آئے گا سر پہ اور ہی الزام، سوچ لے​
بہت خوب راجا بھائی​
داد قبول کیجیے:applause::applause:
شکریہ محسن وقار بھیا!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%D9%88%DA%86-%D9%84%DB%92.59288/page-2