واہ، ، تو پھر راحیل فاروق جنت کی باز یافت کب لکھ رہے ہیں؟
راحیل بھائی۔ ایک اور ثبوت۔
راحیل بھائی۔ ایک اور ثبوت۔
شکریہ، چھوٹے خان!



اب تو ہمیشگی محفل پر مجسم ہو کر بھی سامنے آ گئی ہے۔ کہیے تو ٹیگ کر دوں؟
تابش بھائی!! آپ کیوں ثبوت اکٹھے کر رہے ہیں؟؟
مانتے نہیں ہیں راحیل بھائی.
کچھ سیاق وسباق ہی لکھ دیتے آپ بات کا، ورنہ بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ راحیل بھائی کی شاعری پر کئے گئے ایسے سارے مراسلوں کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔
مذاق مراسلوں کا نہیں، لاریب بی بی۔ میرا اور تابش بھائی کا ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ یقیناً تابش بھائی کو بھی نہیں ہو گا۔



بہتر!!
آپ کے لئے کہانی اکٹھی کی ہے. معاملہ کھودا پہاڑ، نکلا چوہا والا ہی ہے.
ہم مگر آپ کے دھول دھپے کے ہمیشہ منتظر رہتے ہیں ۔
ہماری غلط فہمی دور کرنے کے لیے شکریہ تابش بھائی!!
ہمیشہ کی طرح لا جواب
شکریہ۔
شکریہ، حمیرا آپی!
محبت، قبلہ۔ نظمیں واقعی کم کم لکھی ہیں۔ طبیعت ہی کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ غزلوں اور غزالوں سے فرصت نہیں ملتی!
امتثالِ امر میں میں نے دونوں مصاریع پر غور کیا ہے، ظہیر بھائی۔ اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شاید ایک مصرع میں ظاہراً گرامر کی ایک غلطی آپ کے محلِ نظر ہے اور دوسرے میں تنافر۔
"میری جیسی نظر" سننے میں شاید عجیب معلوم ہوتا ہو۔ مگر فقیر کی تحقیق کہتی ہے کہ درست پیرایۂِ اظہار یہی ہے۔ عموماً لوگ اس جگہ "مجھ جیسی نظر" کہیں گے مگر درحقیقت یہ گرامر کی رو سے غلط ہے۔ "مجھ جیسی نظر" کہنے کا مطلب ہے قائل کی ذات جیسی نظر نہ کہ اس کی نظر جیسی نظر۔ اس میں اشارہ قائل کی طرف ہے نہ کہ اس کی نظر کی طرف۔ جبکہ "میری جیسی نظر" کہا جائے تو اس کا مفہوم بالتصریح یہ نکلتا ہے کہ قائل کی نظر جیسی نظر کی بات ہو رہی ہے۔
تنافر سے جان چھڑانے میں معانی ہاتھ سے جاتے ہیں۔ کوئی صلاح دیجیے تو ممنون ہوں گا۔
زبردست بلکہ زبر دستاااا
زبردست بلکہ زبر دستاااا
زبردست بلکہ زبر دستاااا
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85.92395/page-2