فاتحِ عالم! پڑی ہوئی تھی ہوس بھی سالی جھولی میں ۔ فاتح الدین بشیرؔ

عاطف بٹ — نومبر 11، 2012 8:16 صبح
آپ کے کتنے پیسے دینے ہیں ؟؟؟
اب تو میں بھول ہی گیا ہوں، ابھی ڈائری سے دیکھ کر بتاتا ہوں۔ ;)
ناعمہ عزیز — نومبر 11، 2012 8:21 صبح
اب تو میں بھول ہی گیا ہوں، ابھی ڈائری سے دیکھ کر بتاتا ہوں۔ ;)
اتنا ادھار تھا :eek:
عاطف بٹ — نومبر 11، 2012 8:26 صبح
جی بالکل! :ROFLMAO:
احمد علی — نومبر 11، 2012 8:38 صبح
سینے کے تکیے پر سر تھا قدموں میں تہوار بِچھے​
ہولی کے سب رنگ تھے من میں اور دیوالی جھولی میں​
کیا کہنے۔۔۔۔:notworthy:
مقدس — نومبر 11، 2012 8:40 صبح
فاتح بھائی یہ کب لکھی آپ نے
غ۔ن۔غ — نومبر 11، 2012 10:50 صبح
دونوں جہاں کی مالک و ملکہ! بس میں اتنا جانتا ہوں
تیرا خالی پن ہی بھرا ہے میری خالی جھولی میں
واہ فاتح بھائی بہت خوب غزل کہی ہے آپ نے:)
تفصیل سے تو مغزل ہی آ کر رائے اور داد دے گا لیکن ابھی ہم دونوں کی طرف سے آپ کو اس تخلیق پر رسید کے طور پر بہت سی داد اور دعائیں
ش زاد — نومبر 11، 2012 12:48 شام
واہ واہ واہ بہت عمدہ غزل کہی ہے آپ نے بہت لطف ایا پڑھ کر تمام شعر بہت عمدہ ہیں بہت سی داد آپ کے لیے اور دعائیں
سید زبیر — نومبر 11، 2012 1:11 شام
بہت اعلیٰ فاتح
یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
واہ ۔ ۔ بہت خوب
محمد وارث — نومبر 11، 2012 3:44 شام
خوب غزل ہے فاتح صاحب، کیا کہنے۔
زیبِ مطلع کا تو جواب نہیں، واہ واہ واہ
مزمل شیخ بسمل — نومبر 11، 2012 4:04 شام
خوب است۔ :great::good::zabardast1:
عسکری — نومبر 11، 2012 4:14 شام
سالی جھولی میں :eek:
اس پر کوچہ کی دفعہ لگ سکتی ہے :biggrin:
صائمہ شاہ — نومبر 11، 2012 4:18 شام
کیا کہنے " فاتحِ عالم "
کاشفی — نومبر 11، 2012 5:03 شام
آگ اچانک بھڑک اٹھی تھی رات کی کالی جھولی میں​
فاتحِ عالم! پڑی ہوئی تھی ہوس بھی سالی جھولی میں​
ڈال دیا تھا میں نے بھی اک خواب سوالی جھولی میں​
اپنے ہاتھوں میں پھیلی رہ جانے والی جھولی میں​
کس کی دعاؤں کا تھا ثمر وہ شعلہ جوالہ شہوت کا​
ہائے کہاں سے آئی اتنی سندر گالی جھولی میں​
دونوں جہاں کی مالک و ملکہ! بس میں اتنا جانتا ہوں​
تیرا خالی پن ہی بھرا ہے میری خالی جھولی میں​
سینے کے تکیے پر سر تھا قدموں میں تہوار بِچھے​
ہولی کے سب رنگ تھے من میں اور دیوالی جھولی میں​
سانسیں لے کر جانے والا جاتے جاتے چھوڑ گیا​
چند اک بال مرے کالر پر اور اک بالی جھولی میں​
ہفت افلاک نگوں تھے اس شب، دو اجسام زمیں پر خلط​
قطب جنوبی جیب میں تھا اور قطب شمالی جھولی میں​
یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے​
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں​
فاتح الدین بشیر​
واہ واہ۔ سبحان اللہ۔
کیا کہنے جناب بہت عمدہ لاجواب۔ ایک ایک شعر عمدہ و لاجواب ہے۔ پورا کلام ہی خوبصورت ہے۔مزا آیا۔
یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
فاتح — نومبر 11، 2012 5:18 شام
واہ واہ فاتح، مزا آ گیا۔ ماشاء اللہ بہت پیاری غزل ہے، اگرچہ یہ کالر والر بالی والی تمہارا رنگ نہیں!!
بہت شکریہ اعجاز صاحب۔
آپ کی بات بجا ہے کہ کالر اور بالی کے الفاظ واقعی میری شاعری میں نئے ہیں لیکن میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ جس لمحے میں جو کیفیت ہو اسی کو لکھوں۔
فاتح — نومبر 11، 2012 5:19 شام
ہفت افلاک نگوں تھے اس شب، دو اجسام زمیں پر خلط
قطب جنوبی جیب میں تھا اور قطب شمالی جھولی میں
واہ بھئی فاتح میاں، آج تو محفل لوٹ لی آپ نے۔ بہت خوب!
بہت شکریہ بزرگوار۔۔۔ آپ کی حوصلہ افزائی پر :)
فاتح — نومبر 11، 2012 5:20 شام
پیسے کب تک ادھار رہیں گے ؟؟؟:rolleyes:
قیامت میں سنا ہے ستر گنا زیادہ دینے پڑیں گے۔۔۔ حساب لگا کے بتاؤ دو کلو آئس کریم کتنے کی ہے اور اس کا ستر گنا کیا بنے گا؟
فاتح — نومبر 11، 2012 5:23 شام
لگاؤں شکایت فاتح لالہ کو بچُو ؟؟؟
میں نے کہنا ہے عاطف لالہ کہہ رہے تھے کہ فاتح لالہ بھوکے شودے ہیں ۔
جلدی لگاؤ شکایت۔۔۔ ابھی تک تو مجھے معلوم نہیں ہوا کہ عاطف بٹ نے ایسا کچھ کہا ہے لیکن تمھاری جانب سے شکایت پر کسی تحقیق کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔۔۔۔ بس پھر۔۔۔ ہم تم ہوں گے عاطف ہو گا
فاتح — نومبر 11، 2012 5:23 شام
تمہارے فاتح لالہ نے تو پہلے ہی آدھی محفل کا ادھار دینا ہے اور نظر نہیں آتے۔ :ROFLMAO: اب تم بھی شامل ہوجاؤں ادھار لینے والوں میں! :p
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی۔۔۔ ہم نے جن جن کا قرض دینا ہے انھیں کبھی محفل کی راہ نہیں دکھاتے۔۔۔ :ROFLMAO:
فاتح — نومبر 11، 2012 5:25 شام
سینے کے تکیے پر سر تھا قدموں میں تہوار بِچھے​
ہولی کے سب رنگ تھے من میں اور دیوالی جھولی میں​
کیا کہنے۔۔۔ ۔:notworthy:
بہت شکریہ احمد علی صاحب
فاتح — نومبر 11، 2012 5:26 شام
فاتح بھائی یہ کب لکھی آپ نے
کل ہی مکمل کی تھی بیٹا۔۔۔ ویسے لکھنا تو شاید سات آٹھ ماہ قبل شروع کی تھی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D9%90-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D9%BE%DA%91%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%B3-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1%D8%94.56246/page-2