قرنطینہ ۔ کچھ تازہ واردات ۔اشعار ۔قرنطین

محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2020 5:47 شام
[
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
وہ خطا کیا ہے
یہ جملہ درست نہیں کیونکہ اپنی غلطی کے بارے میں سوال قائم کرنا جری ہونے پر دلالت کرتا ہے،
نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے ، وہ خطا کیا ہے
علامہ اقبالؒ
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 5:48 شام
[
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
وہ خطا کیا ہے
یہ جملہ درست نہیں کیونکہ اپنی غلطی کے بارے میں سوال قائم کرنا جری ہونے پر دلالت کرتا ہے،
یہ کسی غزل کا مکمل مضمون نہیں بلکہ ایک مسلسل نظم کا شعر ہے جس کا اگلا شعر پیشِ خدمت ہے
جو نشہء ِلذاتِ جہاں میں ہوا بدمست
اک شورش ِ پیہم میں گرفتار ہوا ہے
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:49 شام
جری ہونے پر دلالت کرتا ہے
بھائی صاحب جری ہونا اور بات ہے جملہ غلط ہونا اور شے ہے ۔ آپ کی اصل مراد کیا ہے ۔
ویسے ایک عرض یہ بھی ہے کہ یہ "شاعری" ہے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 5:50 شام
نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے ، وہ خطا کیا ہے
علامہ اقبالؒ
درست!
اقبال کا معرکۃ الآراء کلام ’’شکوہ‘‘ کے متعلق کیا فرماتے ہیں ذوالقرنین رضا اسیر بھائی؟
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:50 شام
نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے ، وہ خطا کیا ہے
علامہ اقبالؒ
ڈبل ڈبل منہ میٹھا ہو گیا آج تو ۔ اللہ رحم کرے ہم جیسے پری ڈائیبیٹک افراد پر ۔ :)
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:52 شام
یہ کسی غزل کا مکمل مضمون نہیں بلکہ ایک مسلسل نظم کا شعر ہے جس کا اگلا شعر پیشِ خدمت ہے
آج تو میں تقریر کی لذتوں سے شیرے میں ڈوب گیا ۔ کوئی مجھے نکالو بھئی ۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 5:55 شام
یہ کسی غزل کا مکمل مضمون نہیں بلکہ ایک مسلسل نظم کا شعر ہے جس کا اگلا شعر پیشِ خدمت ہے
اگلے شعر کا تعلق انسان کے ساتھ ہے
اس جملے سے نہیں
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:57 شام
اگلے شعر کا تعلق انسان کے ساتھ ہے
اس جملے سے نہیں
اور تمام جملے انسان کے ہی لیے ہیں کسی اور کے لیے نہیں ،
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 5:58 شام
بھائی صاحب جری ہونا اور بات ہے جملہ غلط ہونا اور شے ہے ۔ آپ کی اصل مراد کیا ہے ۔
ویسے ایک عرض یہ بھی ہے کہ یہ "شاعری" ہے ۔
شاعری شریعت کے مطابق ہو تب ہی درست ورنہ آگ ہے
جملہ دال ہے جری ہونے پر
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 6:01 شام
شاعری شریعت کے مطابق ہو تب ہی درست ورنہ آگ ہے
جملہ دال ہے جری ہونے پر
اس حساب سے اقبال کا مکمل کلام دال ہے جری ہونے پر۔ ان پر بھی کوئی حکم صادر فرمائیے!
عرفان سعید — اپریل 12، 2020 6:01 شام
شاعری شریعت کے مطابق ہو تب ہی درست ورنہ آگ ہے
جملہ دال ہے جری ہونے پر
شاعری محض شاعری ہے۔ اس سے مذہب برآمد نہیں کرنا چاہیے۔
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 6:01 شام
شاعری شریعت کے مطابق ہو تب ہی درست ورنہ آگ ہے
جملہ دال ہے جری ہونے پر
آگ بھی بری چیز نہیں بشر طے کہ سمجھ داری سے استعمال کی جائے ۔ شاعری کو بھی اسی طرح سمجھیں ۔ :)
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:02 شام
اس حساب سے اقبال کا مکمل کلام دال ہے جری ہونے پر۔ ان پر بھی کوئی حکم صادر فرمائیے!
اقبال کے کلام میں کئی اشعار کفریہ ہیں
عرفان سعید — اپریل 12، 2020 6:03 شام
اقبال کے کلام میں کئی اشعار کفریہ ہیں
اشعار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2020 6:04 شام
اقبال کے کلام میں کئی اشعار کفریہ ہیں
السلام علیکم
مزید کوئی بات کرنا عبث ہے۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:04 شام
شاعری محض شاعری ہے۔ اس سے مذہب برآمد نہیں کرنا چاہیے۔
وہ کیوں جناب مسلمان کا کلام بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2020 6:06 شام
وہ کیوں جناب مسلمان کا بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
یہاں کچھ بھی تعلیماتِ اسلام کے خلاف نہیں۔ اگر سمجھ کر پڑھیں تو۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:06 شام
اشعار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
لیکن شاعر کا مذھب ہوتا ہے
شعر شاعر کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 6:07 شام
وہ کیوں جناب مسلمان کا کلام بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
تب تو اقبال بھی مسلمان تھے یا نہیں۔ اور ’’انا الحق‘‘ کہنے والا؟
محمد وارث — اپریل 12، 2020 6:08 شام
گزشتہ شب کی بے چینی و بےخوابی ان اشعار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔

۔عنوان قرنطین ۔
مدت ہوئی اک حشر سا عالم میں بپا ہے
اور سامنے انساں ہے جو لاچار کھڑا ہے
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
جو نشہء ِلذاتِ جہاں میں ہوا بدمست
اک شورش ِ پیہم میں گرفتار ہوا ہے
گھر گھر جو ہوا صورت زندان ، قرنطین
اندوہِ فراواں کا اک انبار لگا ہے
ہر شہر کی گلیوں میں ہے سناٹوں کا عفریت
ویران طلسمات کا ایک روگ لگا ہے
طاری ہے مسیحاؤں میں بھی خوف جہاں کے
اس رات کا ہر تارہ ہی بے نور و ضیا ہے
تاراج دساتیر ہیں قربِ دل و جاں کے
انسان ہی انسان سے اب دور کھڑا ہے
اے کاشفِ غم کھول دے یہ بند وگرنہ
اٹھے گا نہیں سر جو یہ سجدے میں پڑا ہے
آشفتہ ؤ پژمردہ ؤ آزردہ ہے عاطف
یہ بیکس و بیچارے کی مجبور صدا ہے
---
سید عاطف علی ۔ 12 اپریل 2020​
عمدہ ، حسب حال غزل ہے سید صاحب محترم۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B1%D9%86%D8%B7%DB%8C%D9%86%DB%81-%DB%94-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%AA-%DB%94%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DB%94%D9%82%D8%B1%D9%86%D8%B7%DB%8C%D9%86.111219/page-2