نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے ، وہ خطا کیا ہے
علامہ اقبالؒ
نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
یہ کسی غزل کا مکمل مضمون نہیں بلکہ ایک مسلسل نظم کا شعر ہے جس کا اگلا شعر پیشِ خدمت ہے
بھائی صاحب جری ہونا اور بات ہے جملہ غلط ہونا اور شے ہے ۔ آپ کی اصل مراد کیا ہے ۔
ڈبل ڈبل منہ میٹھا ہو گیا آج تو ۔ اللہ رحم کرے ہم جیسے پری ڈائیبیٹک افراد پر ۔
آج تو میں تقریر کی لذتوں سے شیرے میں ڈوب گیا ۔ کوئی مجھے نکالو بھئی ۔
اگلے شعر کا تعلق انسان کے ساتھ ہے
اور تمام جملے انسان کے ہی لیے ہیں کسی اور کے لیے نہیں ،
شاعری شریعت کے مطابق ہو تب ہی درست ورنہ آگ ہے
اس حساب سے اقبال کا مکمل کلام دال ہے جری ہونے پر۔ ان پر بھی کوئی حکم صادر فرمائیے!
شاعری محض شاعری ہے۔ اس سے مذہب برآمد نہیں کرنا چاہیے۔
آگ بھی بری چیز نہیں بشر طے کہ سمجھ داری سے استعمال کی جائے ۔ شاعری کو بھی اسی طرح سمجھیں ۔
اقبال کے کلام میں کئی اشعار کفریہ ہیں
اشعار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
السلام علیکم
وہ کیوں جناب مسلمان کا کلام بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
یہاں کچھ بھی تعلیماتِ اسلام کے خلاف نہیں۔ اگر سمجھ کر پڑھیں تو۔
لیکن شاعر کا مذھب ہوتا ہے
تب تو اقبال بھی مسلمان تھے یا نہیں۔ اور ’’انا الحق‘‘ کہنے والا؟
عمدہ ، حسب حال غزل ہے سید صاحب محترم۔