سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 6:10 شام
اقبال کے کلام میں کئی اشعار کفریہ ہیں
آپ صرف نثر پڑھا کریں ۔ اگرچہ اپنے فہم و نظر کو وسعت دینے کی وہاں بھی ضرورت ہو سکتی ہے ۔
یہ ایک مخلصانہ اور دوستانہ مشورہ ہے ۔
عرفان سعید — اپریل 12، 2020 6:12 شام
وہ کیوں جناب مسلمان کا کلام بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
پھر تو سورۃ الشعرا کو پڑھیں اور شاعری دیکھنے سے بھی توبہ کر لیں۔
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 6:12 شام
ایک انگریزی جملہ زیادہ حسب حال بار بار زبان پر آرہا ہے ۔
آئی ایم ریسپانسبل فور واٹ آئی سیڈ ناٹ واٹ یو انڈرسٹڈ ۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:12 شام
تب تو اقبال بھی مسلمان تھے یا نہیں۔ اور ’’انا الحق‘‘ کہنے والا؟
اقبال کی توبہ مشہور ہے
اور اناالحق کہنے والے
حضرت منصور بن حلاج ہیں
انہوں نے "اَنَاالاَحَق" کہاتھا لوگوں کو غلط فہمی ہوئی
جس کا مطلب ہے "میں ہی زیادہ حقدار ہوں"
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 6:14 شام
اقبال کی توبہ مشہور ہے
اور اناالحق کہنے والے
حضرت منصور بن حلاج ہیں
انہوں نے "اَنَاالاَحَق" کہاتھا لوگوں کو غلط فہمی ہوئی
جس کا مطلب ہے "میں ہی زیادہ حقدار ہوں"
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
نہ اقبال نے توبہ کی تھی اور نہ ہی منصور نے انالحق کے علاوہ کہا تھا۔
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 6:15 شام
اقبال کی توبہ مشہور ہے
اور اناالحق کہنے والے
حضرت منصور بن حلاج ہیں
انہوں نے "اَنَاالاَحَق" کہاتھا لوگوں کو غلط فہمی ہوئی
جس کا مطلب ہے "میں ہی زیادہ حقدار ہوں"
آپ کو اللہ تعالی جلد "اسیری" سے نجات دلائے ۔ آمین ۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:31 شام
-
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
نہ اقبال نے توبہ کی تھی اور نہ ہی منصور نے انالحق کے علاوہ کہا تھا۔
اللہ پاک دین کا علم عطا فرمائے
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:33 شام
آپ کو اللہ تعالی جلد "اسیری" سے نجات دلائے ۔ آمین ۔
No no no
اللہ پاک اپنے محبوبوں کا اسیر ہی رکھے آمین
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:35 شام
آپ کو اللہ تعالی جلد "اسیری" سے نجات دلائے ۔ آمین ۔
الدنیا سجن المؤمن وجنت الکافر
دنیا مومن کے لیے قید خانہ کافر کے لیے جنت ہے
الحدیث
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 6:36 شام
وہ کیوں جناب مسلمان کا کلام بھی اسلام کے مطابق ہونا ضروری وہ نظم ہو یا نثر
اللہ پاک اپنے محبوبوں کا اسیر ہی رکھے آمین
اپنے محبوبوں سے ذرا اس شعر ذیل کے شعر کا مطلب معلوم کیجیئے (امید ہے وہاں سب کو اس کا مطلب آتا ہو گا ) ۔
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود زرسم و راہ منزل ہا
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 6:38 شام
اپنے محبوبوں سے ذرا اس شعر ذیل کے شعر کا مطلب معلوم کیجیئے (امید ہے وہاں سب کو اس کا مطلب آتا ہو گا ) ۔
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود زرسم و راہ منزل ہا
او بھائی میں نے اللہ پاک کے محبوبوں کی بات کی
محمد وارث — اپریل 12، 2020 6:49 شام
اللہ پاک دین کا علم عطا فرمائے
قَالَ عَلِيُّ: کَلِمَۃُ حَقٍّ أُرِیْدُ بِھَا بَاطِل ۔
اقتباس، صحیح مسلم
نصر — اپریل 12، 2020 7:23 شام
عفریت کے کیا معنی ہیں؟
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 7:25 شام
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 7:26 شام
بھوووووووووت ۔
خیالی یا غیر حقیقی مخلوق وغیرہ ۔
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 7:30 شام
اس مطلب "جن" ہے
عفریت عربی کا لفظ ہے
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 7:34 شام
بھوووووووووت ۔
خیالی یا غیر حقیقی مخلوق وغیرہ ۔
حضرت جی "جن " کا وجود قرآن مجید سے ثابت ہے
لہذا یہ حقیقی مخلوق ہے نہ کہ خیالی،
"جن" کے وجود کا انکار کفر ہے
نصر — اپریل 12، 2020 7:35 شام
حاضرین کا شکریہ۔۔۔ رہنماءی کے لیے۔۔
بہت عمدہ اشعار ہیں۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 7:44 شام
عشق کی بات بیسوا جانیں
ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں
سروش — اپریل 12، 2020 7:46 شام
بہت اعلیٰ عاطف بھائی !!!!