کچھ (اجنبی) الفاظ کو مروڑ نے میں مزہ آتا ہے

۔ اس کی انگریزی شکل برتی ہے میں نے کوارنٹین ۔
اصل میں یہ اصطلاح -قرنطینہ - حال ہی میں سامنے آئی موجودہ حالات سے پہلے میں نے نہیں سنی ، اور میں نے اس کے مجموعی تاثر سے اسے وہ "رہائشی فیسلٹی" سمجھا جہاں لوگوں کو آئسولیشن کے اصولوں کے مطابق الگ رکھا جائے اور اس کی افعالی شکل قرنطین کرنا خود ایجاد کر لی (اس کے انگریزی استعمال کی بنیاد پر) ۔
میں نے جدید عربی میں بھی ایسی کافی مزیدار مثالیں دیکھی ہیں ۔ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنا مجھے قابل قبول انداز لگا لیکن لوگوں کو قرنطینہ کر نا عجیب لگا سو میں نے یہ تفرد و تصرف اختیار کر لیا اور مجھے خوشگوار لگا ۔ آپ کے فکری ڈھانچے میں عین ممکن ہے کہ یہ مس فٹ ہو ، سو آپ اپنی رائے سے بھی فیضیاب فرمائیے ۔
عاطف بھائی، لفظ قرنطینہ تو اردو میں بہت پرانا ہے ۔ تاریخی اور طبی کتب میں نظر آتا ہے۔ لغات میں بھی موجود ہے۔ قدیم مسلم عربی اطباء ( ابنِ نفیس ، بو علی سینا وغیرہم) کے تذکروں میں یہ عام ملتا ہے ۔ اب اسے اتفاق ہی کہئے کہ یہ لفظ ان حالات سے پہلے آپ کی نظر سے نہیں گزرا۔ یا ہوسکتا ہے کہ گزرا بھی ہو تو آپ کو یاد نہ رہا ہو۔ بہرحال ، قرنطینہ اسمِ مکان اور اسمِ زمان دونوں صورتوں کے لئے مستعمل ہے(یعنی نظربندی کی مدت اور نظر بندی کی جگہ دونوں)۔
قرنطینہ میں ہونا ، قرنطینہ میں ڈالنا اور قرنطینہ میں رکھنا مستعمل ہیں ۔ لیکن قرنطینہ کرنا میری نظر سے کبھی نہیں گزرا ۔ یہ ترکیب مجھے جدید اور موجودہ دور کی پیداوار لگتی ہے ۔ اور آپ سے متفق ہوں کہ قرنطینہ کرنا کچھ عجیب اور خلافِ معمول لگتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جہاں تک اس لفظ پر آپ کے تصرف کا تعلق ہے اور آپ نے اس بارے میں مجھ حقیر کی رائے پوچھی ہے تو یہی کہوں گا کہ میری طرف سے تو آپ کو سات خون معاف ہیں ۔



لیکن اگر اصولی طور پر دیکھیں تو شعری ضرورت کے تحت کسی لفظ کی ساخت یا ہیئت میں تبدیلی کی اجازت تو نہیں ہے اور اس کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح کے تصرف کے بارے میں محبی و مشفقی سرور عالم راز سرور نے ایک دفعہ ایک دلچسپ واقعہ لکھا تھا۔ اس واقعہ کو اِس گفتگو میں نقل کرنا خلافِ ادب سمجھتا ہوں لیکن آپ اجازت دیں گے تو شیئر کرلوں گا ۔
