بہت اچھی غزل ہے زھرا علوی لا جواب۔ سبھی اشعار لا جواب ہیں لیکن یہ تو بہت ہی اچھے ہیں:
خود اپنی محبت میں گرفتار ہیں ہم لوگ
بس اپنی محبت کے وفادار ہیں ہم لوگ
محفل ہو دکھاوے کی تو ہیں سب سے نمایاں
اور کہنا پڑے سچ تو شرمسار ہیں ہم لوگ
ایک دو گزارشات:
- غزل میں طاق اعداد میں اشعار کہنا (پانچ، سات، نو وغیرہ) ایک روایت ضرور ہے لیکن اصول بالکل بھی نہیں ہے، چار اشعار کی غزل بھی غزل ہی ہے۔
- دوسرے شعر کے پہلے مصرعے میں 'صورتِ سیرت' کی بجائے مجھے 'صورت و سیرت' زیادہ بہتر لگ رہا ہے۔
- آخری شعر بھی اچھا ہے لیکن اسکا پہلا مصرع وزن سے خارج ہے، ایک تو اس میں 'نرم' جو دراصل (نر،م) ہے (نَرَم) بندھا ہے اور دوسرا ایک آدھ لفظ کم ہے۔ درستگی کے بعد یہ شعر بھی بہت خوبصورت ہو جائے گا۔
امید ہے برا نہیں مانیں گی!
والسلام
وارث بھائی، یہ شرمسار تو یہاں وزن میں نہیں آتا، ہاں اگر پنجابی میں شرمسار ہوا جائے تو
شَرَمسار ہو سکتے ہیں۔ اردو میں تو
شَرمسار (ر-ساکن) ہوا جاتا ہے
وہ اقبال کا مصرعہ ہے نا!
آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھ شرمسار کر
یا داغ کا شعر ہے،
ذکرِ مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے (داغ)
ویسے اس بحر کے جوائز مجھے یاد نہیں ہیں۔