مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس ۔ فاتح الدین بشیر

توصیف یوسف مغل — جنوری 22، 2016 5:29 شام
واہ مزہ آ گیا
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2016 3:50 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ مزہ آگیا۔ بہت داد قبول فرمائیے
جاسمن — جنوری 23، 2016 4:05 صبح
کون سا شعر زیادہ اچھا ہے؟ نہیں یہ بالکل نہیں کہا جا سکتا۔ ہر شعر نگینہ ہے۔ ہر شعر موتی ہے۔ آپ کے پاس بہت نایاب موتی ہیں۔ اور کنتے پیارے قافیے استعمال کرتے ہیں! بہت تشفی ہوتی ہے آپ کی شاعری پڑھ کے۔اور یہ تبصرہ مجھے بہت ہی کم لگ رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ مزید کیا لکھوں۔ اِس لئے تھوڑے کو بہت جانیں۔:D
اکمل زیدی — جنوری 23، 2016 5:07 صبح
عالم ہے ہُو کا قبرِ سکندر کے آس پاس
مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس
واہ ...واہ ... حاصل کلام شعر ..پوری غزل بہترین ...
فاتح — جنوری 23، 2016 10:00 صبح
عالم ہے ہُو کا قبرِ سکندر کے آس پاس
مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس

خوابوں کو عاق کر کے نکالا ہی تھا ابھی
بازار لگ گیا ہے مرے گھر کے آس پاس
شاید اسی میں حسرتیں دفنا رہا ہوں میں
سگرٹ کی راکھ بکھری ہے بستر کے آس پاس
ابھرا ستارۂ سحَری ڈوب بھی گیا
سوتا رہا میں لوحِ مقدر کے آس پاس
تصویر ہاتھ میں تھی تصور دماغ میں
منظر تھا مجھ میں اور میں منظر کے آس پاس
پوری غزل بہت خوب ہے ۔۔۔۔۔ آخری شعر میں باہر نکلے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ قنوطیت رنگ بھر دیتی ہے ۔بہت خوب
بہت شکریہ سعدیہ۔ جیتی رہو
فاتح — جنوری 23، 2016 10:01 صبح
بہت شکریہ۔
فاتح — جنوری 23، 2016 10:02 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ مزہ آگیا۔ بہت داد قبول فرمائیے
خلیل بھائی، آپ جیسے صاحب سخن کو پسند آئی ہمارے لیے اعزاز ہے۔
فاتح — جنوری 23، 2016 10:03 صبح
کون سا شعر زیادہ اچھا ہے؟ نہیں یہ بالکل نہیں کہا جا سکتا۔ ہر شعر نگینہ ہے۔ ہر شعر موتی ہے۔ آپ کے پاس بہت نایاب موتی ہیں۔ اور کنتے پیارے قافیے استعمال کرتے ہیں! بہت تشفی ہوتی ہے آپ کی شاعری پڑھ کے۔اور یہ تبصرہ مجھے بہت ہی کم لگ رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ مزید کیا لکھوں۔ اِس لئے تھوڑے کو بہت جانیں۔:D
اتنی بھرپور اور خوبصورت داد نے تو ہمیں مغرور کر دیا ہے۔ نوازش
فاتح — جنوری 23، 2016 10:05 صبح
واہ ...واہ ... حاصل کلام شعر ..پوری غزل بہترین ...
شکریہ زیدی صاحب۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 25، 2016 12:12 صبح
شاید اسی میں حسرتیں دفنا رہا ہوں میں​
سگرٹ کی راکھ بکھری ہے بستر کے آس پاس
واہ واہ واہ! اچھی غزل ہے !!! اور مندرجہ بالا شعر تو بہت ہی خوبصورت ہے ! کیا عکاسی ہے فاتح بھائی ! سلامت رہیئے !! اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ!
(حسنِ اتفاق دیکھئے کہ 2003 کی میری ایک مسلسل غزل کی ردیف بھی یہی ’’آس پاس‘‘ ہے ۔ :) )
فاتح — جنوری 25، 2016 4:08 شام
شاید اسی میں حسرتیں دفنا رہا ہوں میں
سگرٹ کی راکھ بکھری ہے بستر کے آس پاس
واہ واہ واہ! اچھی غزل ہے !!! اور مندرجہ بالا شعر تو بہت ہی خوبصورت ہے ! کیا عکاسی ہے فاتح بھائی ! سلامت رہیئے !! اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ!
(حسنِ اتفاق دیکھئے کہ 2003 کی میری ایک مسلسل غزل کی ردیف بھی یہی ’’آس پاس‘‘ ہے ۔ :) )
بڑی محبت ہے حضور۔
کلیات شاہ نصیر کا مطالعہ کر رہا تھا تو اس زمین میں شاہ نصیر کی دو غزلیں پڑھیں اور طبیعت رواں ہو گئی اور یہ غزل ہوئی۔
شاہ نصیر کی اس زمین میں ان کی دونوں غزلوں کے مطلع پڑھ کر لطف اٹھائیے:
یک چند ہم پھرے ہیں ترے گھر کے آس پاس
مہ وش! ٹک اب تو بیٹھنے دے در کے آس پاس
اور
شیشے دھرے ہیں واں مرے دلبر کے آس پاس
یاں آبلے ہیں اس دلِ مضطر کے آس پاس
سید اسد معروف — جنوری 27، 2016 8:55 صبح
بہت خوب اور نسبتا" عام فہم اور سلیس بھی۔
کاشف اختر — جنوری 27، 2016 9:42 صبح
واہ جی واہ ! بہت خوب !
ناصر رانا — جنوری 27، 2016 10:53 صبح
بہت خوب۔
مطلع اور مقطع دونوں ہی پھڑکن سے بھرپور ہیں خاص کر مطلع۔
باقی غزل کا ہر شعربھی لاجواب ہے۔ مزہ آگیا پڑھ کر۔
عباس اعوان — جنوری 27، 2016 11:15 صبح
کیا خوب غزل ہے ۔ ایک ایک شعر اعلیٰ ہے۔
ابھرا ستارۂ سحَری ڈوب بھی گیا
سوتا رہا میں لوحِ مقدر کے آس پاس
تصویر ہاتھ میں تھی تصور دماغ میں
منظر تھا مجھ میں اور میں منظر کے آس پاس
اور ان کی تو کیا ہی بات ہے۔
ڈھیروں داد اور بہت بہت شکریہ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 2:13 شام
بڑی محبت ہے حضور۔
کلیات شاہ نصیر کا مطالعہ کر رہا تھا تو اس زمین میں شاہ نصیر کی دو غزلیں پڑھیں اور طبیعت رواں ہو گئی اور یہ غزل ہوئی۔
شاہ نصیر کی اس زمین میں ان کی دونوں غزلوں کے مطلع پڑھ کر لطف اٹھائیے:
یک چند ہم پھرے ہیں ترے گھر کے آس پاس
مہ وش! ٹک اب تو بیٹھنے دے در کے آس پاس
اور
شیشے دھرے ہیں واں مرے دلبر کے آس پاس
یاں آبلے ہیں اس دلِ مضطر کے آس پاس

بہت اعلیٰ ۔ فاتح بھائی ! نہ صرف یہ کہ آپ زمین کو دہلی سے نکال کر بلادِ جدید لے آئے بلکہ زمین کا حق بھی ادا کردیا ! واہ!
اگر شاہ نصیر کی کلیات کا ربط بھی عنایت ہوسکے تو ممنون رہوں گا۔
فاتح — جنوری 27، 2016 3:59 شام
بہت خوب اور نسبتا" عام فہم اور سلیس بھی۔
بہت محبت ہے آپ کی۔ شکریہ
فاتح — جنوری 27، 2016 3:59 شام
واہ جی واہ ! بہت خوب !
شکریہ جناب
فاتح — جنوری 27، 2016 4:00 شام
بہت خوب۔
مطلع اور مقطع دونوں ہی پھڑکن سے بھرپور ہیں خاص کر مطلع۔
باقی غزل کا ہر شعربھی لاجواب ہے۔ مزہ آگیا پڑھ کر۔
چلیے آپ کو اشعار میں پھڑکن مل گئی۔ ہمارے لیے اعزاز ہے۔ :)
فاتح — جنوری 27، 2016 4:01 شام
کیا خوب غزل ہے ۔ ایک ایک شعر اعلیٰ ہے۔
اور ان کی تو کیا ہی بات ہے۔
ڈھیروں داد اور بہت بہت شکریہ۔
بہت شکریہ جناب۔ سلامت رہیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%D9%85%D8%B9-%D9%84%DA%AF%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%A2%D8%B3-%D9%BE%D8%A7%D8%B3-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.66791/page-8