محبت ہو ہی جاتی ہے ………میری پہلی آزاد نظم

متلاشی — فروری 10، 2016 11:23 صبح
السلام علیکم !
کافی عرصے بعد کچھ کہنے کی جسارت کی ہے ۔ امید ہے احباب کے ذوق کی تسکین کا باعث ہو گی :)
اگر کچھ خامیاں یا کمیاں کوتاہیاں نظر آئیں تو مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں
’محبت ہو ہی جاتی ہے ‘
محبت کا حسیں جذبہ
کسی انجان لمحے میں
کسی معصوم سے دل میں
جو چپکے سے پنپتا ہے
لطیف و صندلیں احساس سے
معمور وہ دل پھر
کسی نو خیز غنچے کی طرح
کچھ یوں کھِل اٹھتا ہے
کہ رنگ و نور سے دل کے افق پر
قوس بنتی ہے
قزح کے رنگ مل کر پھر
عجب منظر بناتے ہیں
محبت کا جہاں
اتنا حسیں معلوم ہوتا ہے
زمیں تا آسماں
زیرِ نگیں معلوم ہوتا ہے
معطر ہو کہ خوشبو سے
یہ دل پھر جھوم اٹھتا ہے
کسی کی یاد چپکے سے
درِ دل پر جو دستک دینے آتی ہے
اچانک پھر لبوں پر
مسکراہٹ پھیل جاتی ہے
کسی کے ذکر سے دل کے
طرب خانے سے کچھ آواز اٹھتی ہے
عجب سا اک حسیں نغمہ
فضا میں گونج اٹھتا ہے
کسی انجان سی لے میں
کچھ ایسے ساز بجتے ہیں
زمین و آسماں مل کر
پھر ان پر رقص کرتے ہیں
وصالِ یار کے موسم
میں ایسے پل بھی آتے ہیں
زباں خاموش رہتی ہے
تلاطم دل میں اٹھتا ہے
پھر اس لمحے میں
لفظ اپنے معانی بھول جاتے ہیں
خموشی ایسے میں
بنتی ہے پھر اظہار کا ذریعہ
نگاہوں ہی نگاہوں میں
ہزاروں باتیں ہوتی ہیں
انہیں رنگینیوں میں پھر
کچھ ایسے موڑ آتے ہیں
محبت کا حسیں موسم
اچانک رنگ بدلتا ہے
دلوں میں میل آتاہے
تعلق ٹوٹ جاتاہے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
محبت چھوٹ جانے سے
کوئی دل ٹوٹ جانے سے
مجھے معلوم ہےجاناں!
بہت تکلیف ہوتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کوئی مر تو نہیں جاتا!!!
غمِ ہجراں بہت تکلیف دیتا ہے
اچانک رات کو اٹھ کر
کسی کو یاد کر کے
دل کی دھڑکن رک سی جاتی ہے
کسی کے ذکر سے پلکیں
اچانک بھیگ جاتی ہیں
کسی قلبِ حزیں میں پھر
اچانک درد کی
اک ٹیس اٹھتی ہے
کسی کا قلب
بن آواز روتا ہے
کوئی پھر ماہیٔ بے آب کی صورت
تڑپتا ہے ، سسکتا ہے ،بلکتا ہے
کبھی یہ سسکیاں ، آہوں کی صورت دھار لیتی ہیں
کبھی بن موسمی برسات ہوتی ہے
کبھی راتوں کی تنہائی ڈراتی ہے
فراق یار کےدن
گرچہ کرب آمیز ہوتے ہیں
مگر آہستہ آہستہ
ہر اک گھاؤ با لآخر بھر ہی جاتا ہے
سنا ہے وقت مرہم ہے
سبھی غم بھول جاتے ہیں
امنگیں جاگ اٹھتی ہیں
بہاریں لوٹ آتی ہیں
پرانے زخم بھرتے ہیں
نئے جذبے پنپتے ہیں
انہیں زخموں سےآخرپھر
نئے بوٹے کھل اٹھتے ہیں
جنم لیتی ہے پھر سے داستانِ نو محبت کی
نسیمِ صبح اک دن پھر
حسیں پیغام لاتی ہے
محبت کےاسیروں کو
محبت ہو ہی جاتی ہے
محبت ہو ہی جاتی ہے!!!!
محمد ذیشان نصر
10-2-2016
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 10، 2016 11:26 صبح
بہت خوب ہے ۔ داد قبول فرمائیے
متلاشی — فروری 10، 2016 11:50 صبح
بہت خوب ہے ۔ داد قبول فرمائیے
جزاک اللہ کچھ اصلاح بھی فرما دیجئے !
محمد تابش صدیقی — فروری 10، 2016 12:04 شام
اچھی نظم ہے، بہت خوب۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 10، 2016 12:06 شام
جزاک اللہ کچھ اصلاح بھی فرما دیجئے !
ہمارے خیال سے نظم بحر میں ہے اور ہماری صلاح کی ضرورت نہیں ۔ خوش رہیے۔
اصلاح کے لیے اساتذہ کا انتظار کرتے ہیں۔
ابن رضا — فروری 10، 2016 12:21 شام
خوب نظم ہے۔
سلمان حمید — فروری 10، 2016 12:24 شام
بہت خوب :)
سید عاطف علی — فروری 10، 2016 12:27 شام
متلاشی ! کچھ مقامات پر توجہ کی ضرورت ہے ۔
عجب سا ۔ کی جگہ یاتو عجیب سا ہونا چاہیئے یا صرف عجب۔
رنگ بدلتا ہے میں رنگ کچھ ناہموارار لگ رہا ہے ۔ اگر چہ آزاد نظم میں ایسی گرفت سخت نہیں ہو تی مگر روانی متاثر ہو تی ہے ۔
کوئی پھر ماہیٔ بے آب کی مانند۔یہاں مانند بھی تھوڑا سا روانی میں حائل لگا۔​
صورت دھارنا ۔ بھی رواں محاورے سے موافق نہیں ۔روپ دھارنا البتہ ہو جائے تو اچھا ہو ۔ اسی طرح اجالے کا کاٹ کھانا ۔
زخم مٹنا کی بجائے بھرنا ۔وغیرہ​
متلاشی — فروری 10، 2016 1:17 شام
متلاشی ! کچھ مقامات پر توجہ کی ضرورت ہے ۔
عجب سا ۔ کی جگہ یاتو عجیب سا ہونا چاہیئے یا صرف عجب۔
رنگ بدلتا ہے میں رنگ کچھ ناہموارار لگ رہا ہے ۔ اگر چہ آزاد نظم میں ایسی گرفت سخت نہیں ہو تی مگر روانی متاثر ہو تی ہے ۔
کوئی پھر ماہیٔ بے آب کی مانند۔یہاں مانند بھی تھوڑا سا روانی میں حائل لگا۔
صورت دھارنا ۔ بھی رواں محاورے سے موافق نہیں ۔روپ دھارنا البتہ ہو جائے تو اچھا ہو ۔ اسی طرح اجالے کا کاٹ کھانا ۔
زخم مٹنا کی بجائے بھرنا ۔وغیرہ​
بہت بہت شکریہ آپ کی نشان زدہ کچھ جگہوں پر اصلاح کر دی ہے باقی جگہوں پر بعد میں کرتا ہوں
نایاب — فروری 10، 2016 1:47 شام
واہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
رنگوں کی روانی ہے محبت کی کہانی ہے
یہی آج " اس " کو سنانی ہے ۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
متلاشی — فروری 12، 2016 6:55 صبح
واہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
رنگوں کی روانی ہے محبت کی کہانی ہے
یہی آج " اس " کو سنانی ہے ۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
جزاک اللہ
اکمل زیدی — فروری 12، 2016 7:09 صبح
بہت اچھے
...میری طرف سے بس اتنا کے عنوان کی تبدیلی پر توجہ دیں اس نام سے ایک مشہور نظم پہلے ہی موجود ہے ...
متلاشی — فروری 12، 2016 7:11 صبح
بہت اچھے
...میری طرف سے بس اتنا کے عنوان کی تبدیلی پر توجہ دیں اس نام سے ایک مشہور نظم پہلے ہی موجود ہے ...
بہت شکریہ ۔جی عنوان تبدیل کر دیتا ہوں :)
متلاشی — فروری 12، 2016 7:18 صبح
الہلال مقدس محمد اسامہ سَرسَری نور سعدیہ شیخ لاریب مرزا ایم اے راجا ادب دوست ظہیراحمدظہیر ابن رضا
محمدظہیر — فروری 12، 2016 7:26 صبح
بہت خوب جناب
متلاشی — فروری 12، 2016 7:29 صبح
ٹیگ نامہ
لاریب مرزا — فروری 12، 2016 7:55 صبح
متلاشی بھائی!! بہت عمدہ کاوش ہے۔ :)
نور وجدان — فروری 12، 2016 8:16 صبح
ولسلام علیکم
معطر ہو کہ خوشبو سے

مجھے لگتا ٹائپو ہوگیا ہو۔معطر ہوکے خوشبو سے۔۔۔۔۔
ایک نظم ماشاء اللہ مکمل ساخت لیے ۔۔۔۔سدا بہار خیال کے ساتھ ۔۔ محبت انسان ہر نئے پل کراتا۔وقت مرہم زخموں پر رکھتا ہے ۔اچھی نظم پر بہت داد قبول فرمائیں ۔جذبات مکمل عیاں کیے ایک بہت خوبصورت اور حساس دل کی داستان
متلاشی — فروری 12، 2016 8:36 صبح
ولسلام علیکم
مجھے لگتا ٹائپو ہوگیا ہو۔معطر ہوکے خوشبو سے۔۔۔۔۔
ایک نظم ماشاء اللہ مکمل ساخت لیے ۔۔۔۔سدا بہار خیال کے ساتھ ۔۔ محبت انسان ہر نئے پل کراتا۔وقت مرہم زخموں پر رکھتا ہے ۔اچھی نظم پر بہت داد قبول فرمائیں ۔جذبات مکمل عیاں کیے ایک بہت خوبصورت اور حساس دل کی داستان
پسندیدگی بھرے خوبصورت تبصرہ پر شکر گذار ہوں بہنا!
جی درست سمت نشاندہی کی ۔۔۔ واقعی ٹائپو ہو گیا تھا :) مگر اب تدوین کے اختیارات نہیں میرے پاس :(
متلاشی — فروری 12، 2016 8:36 صبح
متلاشی بھائی!! بہت عمدہ کاوش ہے۔ :)
بہت بہت شکریہ بہنا !
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%DB%81%D9%88-%DB%81%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%E2%80%A6%E2%80%A6%E2%80%A6%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%93%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85.87852/