اچھا ہے
چوھدری صاب ایس کے درست تلفظ کو س سے ہی ادا کیا جاتا ہے
چونکہ یہ ترجمہ نہیں ہے اس لیے دونوں طرح لکھا جاسکتاہے ۔ بہتر یہ ہے کہ ز ہی لکھیں کیوں کہ مدرس پرحرکات (زیر زبر پیش ) نہ ہونے کے سبب تلفظ میں خرابی کے امکانات واضح ہیں۔
میں نے ایم اے اور ایم فل دونوں سطحوں پر ترجمہ پڑھا، ترجمے کےمسائل سے واقفیت حاصل کی اور تین کتابوں کے تراجم بھی کیے ۔ ترجمے میں جہاں ضروری ہو کسی بھی لفظ کو اپنی زبان کے مطابق ڈھالا جا سکتاہے۔دراصل ہم ترجمہ کرتے وقت ترجمہ نہیں بلکہ تفہیم کررہے ہوتے ہیں اور یہ تفہیم چونکہ ہمارے اپنے لوگوں کے لیے ہے تو سمجھانے کی خاطر اسے آسان اور سادہ بنایا جاسکتاہے۔ ترجمے میں بہت سے مسائل جو کہ الفاظ کی تلفظ کے حوالے سے بھی اہم ہیں ابھی تک لاینحل ہیں۔ مثلا ہسپتال کو اسپتال لکھنا ضروری یا غیر ضروری، بدیہی زبانوں کے الفاظ مثلا انگریزی، عربی فارسی کے اردومیں مستعمل الفاظ کی جمع بنانے کے کلیات مثلا شرح کی جمع شروح یا شرحات یا پھر شروحات؟ استاد کی جمع اساتذہ یا استادزہ ، ناموں کے تراجم کے مسائل جیسے محبوب خان کا مشینی انگریزی ترجمہ کریں گے توکیا کریں گے؟ کیا یہ ضروری ہے یا نہیں وغیرہ۔ اس کا سادہ اور آسان حل یہی ہے کہ جہاں دو آرا ہوں یا دو آپشنز موجود ہوں جیسا کہ اوپر کے معاملے میں ہے مدرس یا مدرز تو اسے اپنی زبان کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ میں نے ایم فل میں دیو ناگری رسم الخط، حروفَ تہجی اور ہندی کا باقاعدہ قاعدہ پڑھا تھا، اس میں اور عام اردو میں جو پاکستان میں بولی جاتی ہے تھوڑا سا فرق اس طرح پیدا ہوجاتاہے کہ ہندی میں کئی حروف کی آوازیں اور ان کو لکھنا ایک جیسا ہے۔ جیسے ھ اور ح ہندی میں ایک ہی ہیں۔ س ص ث یہ تینوں بھی ایک ہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ایسی صورت حال میں ایک ہی لفظ کی ادائیگی جب ایک ہندوستانی یا پاکستانی کرتاہے تو بعض اوقات دو طرح سے کرتاہے۔ ترجمے کے مسائل کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے ایک انٹرنیشنل سیمینار میں ایسے بہت سارے مسائل کو سامنے لایا گیا تھا۔ ساری دنیا سے اردو کے نمائندے اس سیمینار میں شامل ہوئے تھے۔ میری ناقص رائے کے مطابق میں جو ابھی تک اس سارے معاملے میں سمجھ سکا ہوں وہ یہی ہے کہ مدرز یا مدرس ان دونوں میں جو فرق ہے وہ وہ محض صوت کا نہیں حرکات کا بھی ہے اور اس کا تعلق ہماری معاشرت سے بھی ہے۔ اس قسم کے معاملات کے حل کے لیے ہم اپنی زبان پر غور کریں، جو عوام الناس کے لیے اور خود ہمارے لیے آسان ہو اسے رکھ لیا جائے، باقی چھوڑ دیا جائے۔