مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی

ان کہی — جولائی 20، 2016 12:50 صبح
جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی
سمجھ، تشنہ کامی کی حد ہو گئی
روا نا روا میں پھنسے رہ گئے
غلامو! غلامی کی حد ہو گئی
اُدھر ذرہ ذرہ ہوا آفتاب
اِدھر نا تمامی کی حد ہو گئی
وہی ایک خامی جنوں کی رہی
اور اس ایک خامی کی حد ہو گئی
خفا کس سے راحیلؔ صاحب نہیں؟
مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی
فغاں قریہ قریہ، غزل شہر شہر
پریشاں کلامی کی حد ہو گئی
صبا ہو گئی قاصدوں میں شمار
شگفتہ پیامی کی حد ہو گئی
بہت راہ دیکھا کیے منتظر
تری خوش خرامی کی حد ہو گئی
راحیلؔ فاروق​
مشمولہ: زار
کیا کہنے بہت ہی خوب.............!!
محمداحمد — اگست 15، 2016 1:17 شام
روا نا روا میں پھنسے رہ گئے
غلامو! غلامی کی حد ہو گئی

اُدھر ذرہ ذرہ ہوا آفتاب
اِدھر نا تمامی کی حد ہو گئی

وہی ایک خامی جنوں کی رہی
اور اس ایک خامی کی حد ہو گئی

خفا کس سے راحیلؔ صاحب نہیں؟
مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی

فغاں قریہ قریہ، غزل شہر شہر
پریشاں کلامی کی حد ہو گئی

صبا ہو گئی قاصدوں میں شمار
شگفتہ پیامی کی حد ہو گئی

خوبصورت کلام!
خوش رہیے راحیل بھائی! :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC%D9%90-%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D8%AF-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C.90809/page-2