مشعلِ دل جلا کے لائے ہیں

ظہیراحمدظہیر — مئی 5، 2024 6:35 صبح
احبابِ کرام ! چند سال پرانی ایک غزل آج نظر آئی تو جی چاہا کہ اسے آپ کے ذوق کی نظر کیا جائے۔ ان اشعار کا لہجہ آپ کو میرے عمومی لہجے سے ذرا مختلف محسوس ہوگا ۔ اپنی قابلِ قدر آرا سے نوازیے گا۔غزل پیشِ خدمت ہے!
گر قبول افتد زہے عز و شرف!
٭٭٭
مشعلِ دل جلا کے لائے ہیں
ہم سندیسے ضیا کے لائے ہیں
جن سے اُمید تھی چراغوں کی
وہ تھپیڑے ہوا کے لائے ہیں
ایک دن یہ بھی چھین لے گا وقت
ہم جو لمحے چُرا کے لائے ہیں
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
بزمِ دنیا سے اور کیا ملتا
اپنے دل کو اٹھا کے لائے ہیں
۔ق۔
کرکے ناراض ہر خوشی کو ہم
تیرے غم کو منا کے لائے ہیں
کارگاہِ خیال و خواب سے ہم
ایک دنیا بنا کے لائے ہیں
اک شکستہ پرانے کاغذ پر
نقشِ تازہ سجا کے لائے ہیں
آگہی مرگئی تھی فاقوں سے
اُس کی میّت اٹھا کے لائے ہیں
سیم و زر کی فریب گاہوں سے
سنگِ عبرت اٹھاکے لائے ہیں
دن کو تسخیر کرنے نکلے تھے
شامِ غربت کما کے لائے ہیں
-
اتنی سفاک تھی انا کی جنگ
خود کو خود سے بچا کے لائے ہیں
اور کیا تھا ظہیؔر اپنے پاس
چند ٹکڑے انا کے لائے ہیں
٭٭٭
ظہیؔر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱ ء
الف نظامی — مئی 5، 2024 12:43 شام
بزمِ دنیا سے اور کیا ملتا
اپنے دل کو اٹھا کے لائے ہیں
بہت خوب!​
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 5، 2024 1:14 شام
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
بہت خوب
کرکے ناراض ہر خوشی کو ہم
تیرے غم کو منا کے لائے ہیں
زبردست بہت اعلی
بہترین اور شاندار کلام
صابرہ امین — مئی 5، 2024 1:46 شام
واہ واہ۔۔ بہت عمدہ خیالات اور ان کا نہایت سلیقے سے اظہار۔۔
کتنے سارے اشعارُدل کو بھا گئے۔۔ ماشااللہ۔۔ ڈھیروں ڈھیر داد!!
سیم و زر کی فریب گاہوں سے
سنگِ عبرت اٹھاکے لائے ہیں

اتنی سفاک تھی انا کی جنگ
خود کو خود سے بچا کے لائے ہیں

آگہی مرگئی تھی فاقوں سے
اُس کی میّت اٹھا کے لائے ہیں
کیا بات ہے آپ کی!!
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔۔ اللہ انہیں خوش رکھے! 😄
محمد ریحان قریشی — مئی 5، 2024 3:39 شام
ایک دن یہ بھی چھین لے گا وقت
ہم جو لمحے چُرا کے لائے ہیں
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
واہ، بہت خوب!
صریر — مئی 5، 2024 8:24 شام
احبابِ کرام ! چند سال پرانی ایک غزل آج نظر آئی تو جی چاہا کہ اسے آپ کے ذوق کی نظر کیا جائے۔ ان اشعار کا لہجہ آپ کو میرے عمومی لہجے سے ذرا مختلف محسوس ہوگا ۔ اپنی قابلِ قدر آرا سے نوازیے گا۔غزل پیشِ خدمت ہے!
گر قبول افتد زہے عز و شرف!
٭٭٭
مشعلِ دل جلا کے لائے ہیں
ہم سندیسے ضیا کے لائے ہیں
جن سے اُمید تھی چراغوں کی
وہ تھپیڑے ہوا کے لائے ہیں
ایک دن یہ بھی چھین لے گا وقت
ہم جو لمحے چُرا کے لائے ہیں
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
بزمِ دنیا سے اور کیا ملتا
اپنے دل کو اٹھا کے لائے ہیں
۔ق۔
کرکے ناراض ہر خوشی کو ہم
تیرے غم کو منا کے لائے ہیں
کارگاہِ خیال و خواب سے ہم
ایک دنیا بنا کے لائے ہیں
اک شکستہ پرانے کاغذ پر
نقشِ تازہ سجا کے لائے ہیں
آگہی مرگئی تھی فاقوں سے
اُس کی میّت اٹھا کے لائے ہیں
سیم و زر کی فریب گاہوں سے
سنگِ عبرت اٹھاکے لائے ہیں
دن کو تسخیر کرنے نکلے تھے
شامِ غربت کما کے لائے ہیں
-
اتنی سفاک تھی انا کی جنگ
خود کو خود سے بچا کے لائے ہیں
اور کیا تھا ظہیؔر اپنے پاس
چند ٹکڑے انا کے لائے ہیں
٭٭٭
ظہیؔر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱ ء
ہر شعر پر جدا جدا داد دینے کا من کرتا ہے، لیکن پھر لڑی طویل ہو جائے گی 😄۔۔ بہت عمدہ سر، ہر شعر لاجواب ، چھوٹی بحر میں فلسفیانہ مضامین بآسانی اور بخوبی سموئے ہیں۔👍🏻
الف عین — مئی 5، 2024 11:15 شام
واہ @ظہیراحمدظہیر، بہت اچھی غزل ہے
سیما علی — مئی 6، 2024 4:52 صبح
آگہی مرگئی تھی فاقوں سے
اُس کی میّت اٹھا کے لائے ہیں
کیا کہیں !!!ہم کیا اور ہماری بساط کیا ۔۔
ظہیر بھائی بہت بہترین ۔۔سلامت رہیے۔پر نعمتوں میں سے ایک نعمت آگہی بھی ہے ۔۔۔جو منہ موڑیں وہ سمجھتے ہیں وہ راحت میں ہیں جبکہ ایسا نہیں وقتی راحت سے کچھ حاصل نہیں ۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میٹھا میٹھا سا مستقل درد جس سے عشق ہو جاتا ہے۔ پھر انسان ایک سوال یا ایک جواب پر نہیں رکتا۔
جیتے رہیے ہر شعر لاجواب ہے اور ہم جیسے دیوانوں کے پاس وہ الفاظ نہیں جو آپکی تعریف کا حق ادا کر سکیں ۔۔۔
ڈھیروں دعائیں اللہ تعالیٰ صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ۔۔
محمد عبدالرؤوف — مئی 6، 2024 6:24 صبح
واقعی یہ غزل آپ کے مزاج سے قدرے مختلف لگ رہی ہے۔ مگر خوب ہے۔ ماشاء اللّٰه
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:45 شام
بزمِ دنیا سے اور کیا ملتا
اپنے دل کو اٹھا کے لائے ہیں
بہت خوب!​
بہت بہت شکریہ ، نظامی صاحب! بہت مشکور ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے!
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:46 شام
بہت خوب
زبردست بہت اعلی
بہترین اور شاندار کلام
نوازش ، بہت شکریہ، معان بھائی! شکر گزار ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:47 شام
واہ واہ۔۔ بہت عمدہ خیالات اور ان کا نہایت سلیقے سے اظہار۔۔
کتنے سارے اشعارُدل کو بھا گئے۔۔ ماشااللہ۔۔ ڈھیروں ڈھیر داد!!
بہت شکریہ، بہت نوازش! بہت ممنو ن ہوں ۔ اللہ کریم شاد و آباد رکھے! سللامت رہیں۔
لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔۔ اللہ انہیں خوش رکھے! 😄
:):):)
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:50 شام
بہت شکریہ ، نوازش! بہت مشکور ہوں ، ریحان! اللہ خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:51 شام
ہر شعر پر جدا جدا داد دینے کا من کرتا ہے، لیکن پھر لڑی طویل ہو جائے گی 😄۔۔ بہت عمدہ سر، ہر شعر لاجواب ، چھوٹی بحر میں فلسفیانہ مضامین بآسانی اور بخوبی سموئے ہیں۔👍🏻
:):):)
بہت شکریہ ، بھائی! اللہ کریم سلامت رکھے! بہت ممنون ہوں آپ کی توجہ کے لیے!
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:53 شام
واہ @ظہیراحمدظہیر، بہت اچھی غزل ہے
آداب ، بہت نوازش!! سراپا ممنون ہوں ، اعجاز بھائی !
اللہ کریم آپ کا سایا سلامت رکھے! آپ کی سرپرستی قائم رکھے!
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 2:59 شام
کیا کہیں !!!ہم کیا اور ہماری بساط کیا ۔۔
ظہیر بھائی بہت بہترین ۔۔سلامت رہیے۔پر نعمتوں میں سے ایک نعمت آگہی بھی ہے ۔۔۔جو منہ موڑیں وہ سمجھتے ہیں وہ راحت میں ہیں جبکہ ایسا نہیں وقتی راحت سے کچھ حاصل نہیں ۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میٹھا میٹھا سا مستقل درد جس سے عشق ہو جاتا ہے۔ پھر انسان ایک سوال یا ایک جواب پر نہیں رکتا۔
جیتے رہیے ہر شعر لاجواب ہے اور ہم جیسے دیوانوں کے پاس وہ الفاظ نہیں جو آپکی تعریف کا حق ادا کر سکیں ۔۔۔
ڈھیروں دعائیں اللہ تعالیٰ صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ۔۔
بہت بہت نوازش ، بہت شکریہ، آپا!
آپ تعریف و تحسین میں اس قدر فراخدلی سے کام لیتی ہیں کہ آدمی شرمندہ ہوجاتا ہے ۔ یہ کچھ ٹوٹے پھوٹے حروف ہیں کہ جنہیں آپ اس قدر پذیرائی بخشتی ہیں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، صحت و ایمان والی طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین !
سیما علی — مئی 7، 2024 3:06 شام
بہت بہت نوازش ، بہت شکریہ، آپا!
آپ تعریف و تحسین میں اس قدر فراخدلی سے کام لیتی ہیں کہ آدمی شرمندہ ہوجاتا ہے ۔ یہ کچھ ٹوٹے پھوٹے حروف ہیں کہ جنہیں آپ اس قدر پذیرائی بخشتی ہیں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، صحت و ایمان والی طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین !
جیتے رہیے
اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
ظہیراحمدظہیر — مئی 7، 2024 3:22 شام
واقعی یہ غزل آپ کے مزاج سے قدرے مختلف لگ رہی ہے۔ مگر خوب ہے۔ ماشاء اللّٰه
بہت شکریہ ، نوازش! بہت مشکور ہوں ، عبدالرؤف!
غزل کی خوبی یہی ہے کہ اس میں ہر طرح کا رنگ اور نقش سما جاتا ہے۔
محمداحمد — مئی 8، 2024 7:34 صبح
مشعلِ دل جلا کے لائے ہیں
ہم سندیسے ضیا کے لائے ہیں
کیا بات ہے!
ایک دن یہ بھی چھین لے گا وقت
ہم جو لمحے چُرا کے لائے ہیں
واقعی!
چھوڑ کر جا چکا تھا میں خود کو
لوگ سمجھا بجھا کے لائے ہیں
انتہائی خوبصورت شعر ہے یہ ظہیر بھائی! مجھے بے حد پسند آیا۔
اس پر بالخصوص داد قبول فرمائیے۔
کارگاہِ خیال و خواب سے ہم
ایک دنیا بنا کے لائے ہیں
واہ!
اک شکستہ پرانے کاغذ پر
نقشِ تازہ سجا کے لائے ہیں
کیا بات ہے۔ شکستہ اور پرانا کاغذ اور اس پر نقشِ تازہ! واہ
سیم و زر کی فریب گاہوں سے
سنگِ عبرت اٹھاکے لائے ہیں
واہ ! ایسی نظر بھی قسمت والوں کو ہی ملتی ہے۔
سبحان اللہ! ظہیر بھائی بہت خوبصورت غزل ہے۔ پڑھ کر بے حد لطف آیا۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
نیرنگ خیال — مئی 8، 2024 1:48 شام
کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔۔۔ اعلی اعلی۔۔۔
اک شکستہ پرانے کاغذ پر
نقشِ تازہ سجا کے لائے ہیں
مزا آگیا
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B4%D8%B9%D9%84%D9%90-%D8%AF%D9%84-%D8%AC%D9%84%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.120643/