میری ایک تازہ غزل

مغزل — جون 13، 2008 2:22 شام
حضور رسید حاضر ہے ۔
باقی بجلی صاحبہ کی آمد پر ہی کچھ عرض کروں گا۔۔۔
محمد وارث — جون 13، 2008 3:31 شام
وارث صاحب،
آداب
ماشاءاللہ بہت اچھی غزل کہی ہے آپ نے، اور خاص طور پر یہ دو اشعار تو بہت عمدہ ہیں۔۔۔
موت، ڈر، ہار، سب روا لیکن
عشق میں بھاگنا حلال نہیں
خونِ دل بھی جلے گا اس میں اسد
شاعری صرف قیل و قال نہیں
اس ناچیز کی جانب سے نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے، قبول فرمائیے۔
مخلص
محمداحمد

نوازش آپ کی احمد صاحب، بہت شکریہ۔
حضور رسید حاضر ہے ۔
باقی بجلی صاحبہ کی آمد پر ہی کچھ عرض کروں گا۔۔۔

حضور آپ کی رسید، نوید بن کر آئی ہے دیدارِ یار کی، شکریہ محترم ۔
زرقا مفتی — جون 24، 2008 7:40 صبح
کیوں ملے مُجھ کو تیسرا درجہ
کیا مرے خوں کا رنگ لال نہیں؟
نظر آتا ہے ہر جمال میں وُہ
اس میں میرا تو کچھ کمال نہیں
بہت خوب
وارث صاحب
ایک عمدہ غزل کے لئے داد قبول کیجئے
والسلام
زرقا
مغزل — جون 24، 2008 10:18 صبح
بہت عرصے کے بعد کچھ کہنے کی جسارت کی ہے سو اہلِ محفلِ سخنوراں و سخن شناساں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:
آداب و سلامِ مسنون وارث صاحب۔۔
مجھے یہ بات ہضم نہیں ہورہی ۔۔ کہ ’کہنے کی جسارت‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکار یہ کہیئے اہلِ محفل کو ’ بڑے عرصے بعد نوازا ہے ‘
اہلِ محفلِ سخنوراں و سخن شناساں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وارث ، الف عین کا ۔۔۔۔۔۔۔باقی کوئی ہے تو مجھے پتہ نہیں ۔۔ :eek:
سب سے پہلے غزل پر تو دل کی عمیق بسیط گہرائیوں سے مبارکباد اور نظر نوازی کیلئے اظہارِ تشکّر۔
اب آپ کی غزل کی جانب چلتے ہیں۔

غم نہیں، دُکھ نہیں، ملال نہیں
لب پہ جو ایک بھی سوال نہیں
ایک بھرپور مطلع ہے مجھے نہیں معلوم کہ فرخ صاحب نے اسے ’ ووں ‘ جیسا انہوں نے لکھا ہے
کرنے کا کیوں‌کہا ہے ۔۔ میرے خیال میں ’’ ووں‌‘‘ کرنے سے شعر بڑے قرطاس سے چھوٹے کی طرف مائل ہورہاہے ۔
یہاں ’’ جو ‘‘ میں جو وسعت (زمانی مکانی صیغانی) وہ ’’ اب ‘‘ سے بری طرح مجروح ہوجاتی۔
استاتذہ فرماتے ہیں غزل کا مطلع ریل کے انجن کی طرح ہوتا ہے جتنا طاقتور ہوگا ڈبے ( باقی اشعار) بھی اس مزاج کے ہوں گے۔

کیوں ملے مُجھ کو تیسرا درجہ
کیا مرے خوں کا رنگ لال نہیں؟
سبحان اللہ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکار ۔۔۔واہ واہ واہ۔۔ بہت خوب ۔۔۔
ایک بڑا سوال عالمگیریت کے نمائندہ فسطائیت کے نقابوں میں چھپے مکروہ چہروں سے۔

فکرِ سُود و زیاں سے ہے آزاد
کار و بارِ جنوں وبال نہیں
ایک اور خوبصورت شعر ۔۔۔۔ واہ کیا جواب ہے۔
ن۔۔۔ظر آتا ہے ہر جمال میں وُہ
اس میں میرا تو کچھ کمال نہیں
اے ہے ۔۔۔ کیا بات ہے واہ ۔۔ کیا کہنے کس رخ سے باندھا ہے واہ۔۔
مستِ جامِ نگاہِ یار ہوں میں
ہوش جانے کا احتم۔۔۔ال نہیں
کلاسیکی رویے میں دل گداز شعر ۔۔ واہ واہ
موت، ڈر، ہار، سب روا لیکن
عشق میں بھاگنا حلال نہیں
کیا بات ہے واہ سرکار ۔۔واہ۔۔ کیا پہلو برتا ہے اور کیا قافیہ لائے ہیں۔۔ واہ واہ
خونِ دل بھی جلے گا اس میں اسد
شاعری صرف قیل و قال نہیں

بے شک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ ۔۔ آپ کے مقطع (امالہ) سے ان اشعار کو بھی تقویت ملتی ہے
ریاضت چاہیئے عمرِ خضر کی
غزل کہنا کوئی آساں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (احتشام انور)
کتنے ظالم ہیں مرے دوست کہ سنتے ہی نہیں
ج۔۔ب تلک خون کی خوشبو نہ سخن سے آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (رئیس فروغ)
بحیثتِ انفرادی ہر شعر لاجواب اور بحیثیتِ مجموعی ایک اچھی غزل
ناچیز کی جانب سے اظہار ِ تہنیت اور مبارکباد
تاخیر کی معذرت چاہتا ہوں
والسلام
محمد وارث — جون 24، 2008 1:32 شام
بہت شکریہ آپ کا زرقا مفتی صاحبہ، نوازش
بہت شکریہ آپ کا محمود مغل صاحب، نوازش، برادرم آپ اتنے دلکش اور دلفریب انداز سے داد دیتے ہیں کہ بس جی چاہتا ہے کہ آپ کہتے رہیں اور ہم سنتے رہیں، :) مہربانی آپ کی، عنایت آپ کی۔
خاورچودھری — جون 24، 2008 2:51 شام
خوب ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔واہ وا
محمد وارث — جون 24، 2008 4:32 شام
عنایت آپ کی خاور چودھری صاحب، نوازش۔
محمد بلال اعظم — جولائی 28، 2012 8:57 صبح
بہت خوب غزل ہے جناب، داد قبول فرمائیں۔
مہ جبین — جولائی 28، 2012 5:15 شام
محمد بلال اعظم چار سال پرانے ملبے سے محمد وارث بھائی کی ایک عمدہ غزل "کھود " کر لے آئے ہیں
نظر آتا ہے ہر جمال میں وُہ
اس میں میرا تو کچھ کمال نہیں
غزل میں جمال و کمال کا امتزاج کمال کا ہے
زبردست محمد وارث بھائی
مزمل شیخ بسمل — جولائی 29، 2012 8:25 شام
بہت عمدہ غزل وارث بھائی۔
پتا نہیں کہاں غائب ہین آپ :(
محمد وارث — جولائی 30، 2012 6:36 صبح
بہت شکریہ آپ سب دوستوں کا، نوازش آپ کی۔
مزمل صاحب پچھلے کچھ دنوں سے کچھ مصروفیت زیادہ ہے دفتر میں اور گھر کا فون اور نیٹ خراب ہونے کی وجہ سے موقع نہیں مل سکا، خیر۔۔۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — جولائی 30، 2012 8:10 صبح
یہی سوچ رہا تھا کے اللہ جانے آپ کہاں ہیں. خیر . امید ہے ٹھیک ہونگے.
حمیرا عدنان — فروری 28، 2016 6:32 صبح
واہہہہ بہت خوب بھائی
جاسمن — فروری 28، 2016 6:43 صبح
بہت خوب! دعاؤں بھری داد۔
سید عاطف علی — فروری 28، 2016 6:44 صبح
واہ وارث صاحب ، کیا خوب غزل ہے ، ۔۔۔
ساتھ ہی
حمیرا عدنان​
بہن کا شکریہ بھی ۔
محمد تابش صدیقی — فروری 28، 2016 6:52 صبح
واہ، بہت خوب وارث بھائی۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔
غم نہیں، دُکھ نہیں، ملال نہیں
لب پہ جو ایک بھی سوال نہیں

فکرِ سُود و زیاں سے ہے آزاد
کار و بارِ جنوں وبال نہیں

موت، ڈر، ہار، سب روا لیکن
عشق میں بھاگنا حلال نہیں
محمد وارث — فروری 28، 2016 7:52 صبح
واہہہہ بہت خوب بھائی
بہت خوب! دعاؤں بھری داد۔
واہ وارث صاحب ، کیا خوب غزل ہے ، ۔۔۔
ساتھ ہی
بہن کا شکریہ بھی ۔
واہ، بہت خوب وارث بھائی۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔
حمیرا عدنان صاحبہ، جاسمن صاحبہ، سید صاحب اور صدیقی صاحب، آپ سب کا بہت شکریہ۔ نوازش آپ سب کی۔ میری بھی کچھ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں :)
سلمان دانش جی — فروری 28، 2016 8:21 صبح
وارث صاحب پرانی یادوں کو پھر سے ترو تازہ کرنے کا سلسلہ جاری کیجے۔ مجھ جیسے بچونگڑوں کو بھی اسلوب سخن اور اندازِ بیان کے نادر نمونے ملتے رہیں گے
ابن رضا — فروری 28، 2016 8:26 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے جناب
محمد وارث — فروری 28، 2016 2:07 شام
وارث صاحب پرانی یادوں کو پھر سے ترو تازہ کرنے کا سلسلہ جاری کیجے۔ مجھ جیسے بچونگڑوں کو بھی اسلوب سخن اور اندازِ بیان کے نادر نمونے ملتے رہیں گے
کہاںکا اسلوب، کدھر کا اندازِ بیاں، کیسا نمونہ صاحب۔ کتاب زیست کے ورق ورق الٹتے الٹتے یہ باب بہت پیچھے رہ گیا، ہاں کبھی کبھی جب پچھلے صفحوں پر نظر پڑ جائے تو کچھ دیر کے لیے نظر ٹھہر بھی جاتی ہے سو بس کچھ ایسا ہی سلسلہ ہے۔ نوازش آپ کی۔
بہت خوبصورت غزل ہے جناب
نوازش آپ کی محترم، شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84.12994/page-2