میری ایک غزل اور اسکے وزن پر بحث

سلیمان جاذب — جنوری 1، 2009 10:18 صبح
برسوں کا شناسا ، بھی شناسا نہیں‌لگتا
کچھ بھی پَسِ ہجراں مجھے اچھا نہیں لگتا​

کر لوں میں یقیں کیسے کہ بدلہ نہیں کچھ بھی
لہجہ ہی اگر آپ کا لہجہ نہیں لگتا​

اک تیرے نہ ہونے سے ہوا حال یہ دل کا
بستی میں کوئی شخص بھی اپنا نہیں لگتا​

کاغذ سے وہ مانوس سی خوشبو نہیں آئی
یہ خط تو تیرے ہاتھ کا لکھا نہیں لگتا​

آنکھوں میں میری اس لئے جاذب یہ نمی ہے
سوکھا ہوا دریا مجھے اچھا نہیں لگتا​
ابن سعید — جنوری 1، 2009 10:22 صبح
زبردست!!! !!!
محمد نعمان — جنوری 1، 2009 11:27 صبح
اک تیرے نہ ہونے سے ہوا حال یہ دل کا
بستی میں کوئی شخص بھی اپنا نہیں لگتا

جاذب بھائی بہت خوب۔
واہ واہ واہ
مغزل — جنوری 1، 2009 11:33 صبح
رسید حاضر ہے جناب ۔۔ ابھی حاضر ہوا
محمد وارث — جنوری 1، 2009 3:29 شام
بہت اچھی غزل ہے جاذب صاحب، لا جواب اور مقطع تو بہت جاندار ہے، بہت پسند آیا مجھے، واہ واہ
آنکھوں میں مری اس لئے جاذب یہ نمی ہے
سوکھا ہوا دریا مجھے اچھا نہیں لگتا
اور ایک استدعا یہ کہ موجودہ عنوان سے یہ ایک تنقید اور عروض کا تھریڈ لگتا ہے "آپ کی شاعری" زمرے میں، لہذا اسکا عنوان کچھ اسطرح کر دیں "میری ایک غزل اور اسکے وزن پر بحث" یا کوئی اور، جس سے کم از کم یہ نشاندہی ہو جائے کہ اس تھریڈ میں آپ کی اپنی شاعری ہے!
والسلام
محمد نعمان — جنوری 1، 2009 3:36 شام
محفِلِ اردو تجھے میرا سلام
اے دِلِ اردو تجھے میرا سلام
اس جہانِ برق، دل و جاں سوز میں
تُو گِلِ اردو تجھے میرا سلام

وارث بھائی آپکا دستخط بہت زبردست ہے۔
کیا یہ آپکا اپنا قطعہ ہے؟
محمد وارث — جنوری 1، 2009 3:52 شام
شکریہ نعمان۔ جی یہ اسی خاکسار کی ایک کاوش تھی :)
الف عین — جنوری 1، 2009 5:46 شام
اچھی غزل ہے
کاغذ سے وہ مانوس سی خوشبو نہیں آئی
یہ خط تو تیرے ہاتھ کا لکھا نہیں لگتا
دوسرا مصرع ’ترے‘ کا متقاضی ہے۔
اور شاید سلیمان جاذب نے موضوع کا عنوان اس لئے دیا ہے کہ ان کو یہ شک ہو کہ یہ بحر و اوزان درست ہیں یا نہیں۔ یہ غزل اسی بحر میں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن/فعولات
جس کو اکثر مبتدی اس بحر میں کنفیوز کرتے ہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن/فاعلات
اطلاع کے لئے کہ یہ سارے اشعار ایک ہی بحر میں ہیں، سلیمان جاذب کا ’فنڈا کلیر‘ ہے۔
آصف شفیع — جنوری 1، 2009 8:32 شام
بہت اچھی غزل ہے جاذب صاحب، لا جواب اور مقطع تو بہت جاندار ہے، بہت پسند آیا مجھے، واہ واہ
آنکھوں میں مری اس لئے جاذب یہ نمی ہے
سوکھا ہوا دریا مجھے اچھا نہیں لگتا
اور ایک استدعا یہ کہ موجودہ عنوان سے یہ ایک تنقید اور عروض کا تھریڈ لگتا ہے "آپ کی شاعری" زمرے میں، لہذا اسکا عنوان کچھ اسطرح کر دیں "میری ایک غزل اور اسکے وزن پر بحث" یا کوئی اور، جس سے کم از کم یہ نشاندہی ہو جائے کہ اس تھریڈ میں آپ کی اپنی شاعری ہے!
والسلام
وارث صاحب کی رائے بالکل ٹھیک ہے کہ یہ عنوان سے ایک تنقید کا تھریڈ ہی لگتا ہے۔ غزل بہت عمدہ ہے۔ جاذب صاحب کا اور کلام بھی نیٹ پر موجود ہے؟
سلیمان جاذب — جنوری 3، 2009 5:04 صبح
وارث بھائی، محمود بھائی، عبید صاحب،آصف بھائی ، نعمان بھائی آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میری اس کاوش کو پسند کیا
عبید بھائی در اصل میں واقع ھی وزن کے بارے تھوڑا محتاط تھا اتنا تو یقین ہے کہ غزل وزن میں ہے لیکن کس وزن میں اس میں تھوڑی کنفیوزن تھی عبید صاحب نے مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن/فعولات اس بحر کی طرف اشارہ کیا بھائی کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایک شعر کی تقطیع بھی فرما دیتے
مغزل — جنوری 3، 2009 6:23 صبح
وارث بھائی، محمود بھائی، عبید صاحب،آصف بھائی ، نعمان بھائی آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میری اس کاوش کو پسند کیا
عبید بھائی در اصل میں واقعی وزن کے بارے تھوڑا محتاط تھا اتنا تو یقین ہے کہ غزل وزن میں ہے لیکن کس وزن میں اس میں تھوڑی کنفیوزن تھی

بہت شکریہ سلیمان بھائی کہ مفت میں شکریہ ادا کیا آپ نے ، حالانکہ میں صرف رسید دے کر غائب ہوگیا تھا۔۔ :laugh:
محمد نعمان — جنوری 3، 2009 7:16 صبح
ارے محمود بھائی اگر یہ غلطی تھی تو بڑی پیاری غلطی تھی
سلیمان جاذب — جنوری 3، 2009 7:29 صبح
غلطیاں انسانوں سے ھی تو ہوتی ہیں
مغزل — جنوری 3، 2009 7:39 صبح
حیوانوں سے بھی تو ہوتی ہیں ،، سامنے کی مثال ہے میری
محمد نعمان — جنوری 3، 2009 7:45 صبح
حیوانوں سے بھی تو ہوتی ہیں ،، سامنے کی مثال ہے میری

محمود بھیا یہی اصل ہے کہ غلطی کا احساس ہو جائے۔
سلیمان جاذب — جنوری 3، 2009 2:51 شام
اب مزید کیا کہا جائے
الف عین — جنوری 3، 2009 4:15 شام
پہلے مصرع کی تقطیع حاضر ہے
برسوں کا شناسا ، بھی شناسا نہیں‌لگتا
برسوں کَ۔ مفعول۔ الف گرتا ہے
شناسا ب۔ مفاعیل۔ بھی کی ھ اور ی تقطیع میں نہیں آتیں۔
شناسا نَ۔ مفاعیل۔
ہِ لگتا۔ فعولن۔ نہیں کا ی اور ں دونوں تقطیع میں نہیں آتے۔
سلیمان جاذب — جنوری 4، 2009 6:45 صبح
عبید صاحب بڑی مہربانی آپ کی میری بہت بڑی کنفیوزن ختم ہے گئی
میں تحِ دل سے مشکور ہوں
محمد نعمان — جنوری 4، 2009 6:58 صبح
پہلے مصرع کی تقطیع حاضر ہے
برسوں کا شناسا ، بھی شناسا نہیں‌لگتا
برسوں کَ۔ مفعول۔ الف گرتا ہے
شناسا ب۔ مفاعیل۔ بھی کی ھ اور ی تقطیع میں نہیں آتیں۔
شناسا نَ۔ مفاعیل۔
ہِ لگتا۔ فعولن۔ نہیں کا ی اور ں دونوں تقطیع میں نہیں آتے۔
بہت شکریہ استاد محترم۔
جناب کیا نہیں کا وزن نظریہ ضرورت کے تحت 1 بھی لیا جا سکتا ہے کیا۔
مغزل — جنوری 4، 2009 7:00 صبح
عبید صاحب بڑی مہربانی آپ کی میری بہت بڑی کنفیوزن ختم ہے گئی
میں تحِ دل سے مشکور ہوں

سلیمان بھائی اول تو تہہِ دل یوں لکھا جاے گا۔ اورکنفیوژن یوں ۔۔
دوم یہ کہ مشکور (گرچہ شبلی نے شکرگزار کی مد میں اپنے خطوط میں استعمال کیا ہے ) مگر فصحا کے نزدیک ٹھیک نہیں۔
یعنی مشکور اسے کہیں گے جس کا شکریہ ادا کیا جائے یعنی یہاں عبید صاحب نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہو اور وہ آپ کے مشکور ہوں ۔۔
اس لیے متشکر یا شکر گزار صحیح الفاظ ہیں اس ضمن میں ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DB%92-%D9%88%D8%B2%D9%86-%D9%BE%D8%B1-%D8%A8%D8%AD%D8%AB.17865/