میری دسویں غزل۔بجلیوں کا وہی نشانہ ہے

Mystic Enigma — مئی 14، 2015 12:34 صبح
چشم گریاں سے ہو گیا ظاہر
دل کا موسم بہت سہانا ہے
اعلی
ہما حمید ناز — مئی 20، 2015 5:17 شام
بہت شکریہ ہما حمید ناز صاحبہ پذیرائی پر ممنون ہوں اور آپ نے ایک اچھے نکتے کی طرف اشارہ فرمایا ۔ ویسے تو زبان و بیان کے لحاظ سے مانند کے ساتھ کی اور کے ،دونوں ہی اہل زبان کے موافق لگتے ہیں ۔ تا ہم مجھے آج کے مروج معیار کی نسبت کی زیادہ موافق تر لہجہ "کی" ہی لگا۔سو اسی کو استعمال کر لیا۔۔۔ الف عین صاحب سے رائے بھی لے لیتے ہیں۔آپ بھی کوئی مثال پیش کریں ۔میر تقی صاحب کے ہاں کے مانند کی ایک غزل ہے کے مانند کی ردیف کی۔تجھ بن اے نوبہار کے مانند۔چاک ہے دل انار کے مانند۔
تاہم میر ہی کا ایک شعر لڑکپن کے زمانے سے یونہی یاد پڑتا ہے۔۔۔۔نیز میر تقی صاحب کے زمانے کا املا ءبھی ی اور ے کے اعتبار سے اتنا مستحکم نہ تھا ۔
سر اٹھاتے ہی ہو ئے پامال
سبزہء نودمیدہ کی مانند

محسن نقوی صاحب کی ایک غزل ردیف کی مانند کی نظر سے گزری ہے ذہن میں آرہی ہے
مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند
------------------------
ایک بار پھر آداب و سپاس۔

سید صاحب مثال تو مجھے کوئی یاد نہیں آرہی ۔ بس بزرگوں سے یہی سنتے آئے تھے کہ زیادہ فصیح کا مانند اور کے مانند ہوتا ہے ۔ جون ایلیا مرحوم سے خود ایک دفعہ ایسا ہی سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ بہرحال یہ لفظ دونوں طرح سے ہی مستعمل ہے اس لئے مسئلہ تو کوئی نہیں ۔ میرا اشارہ اس طرف تھا کہ " کی پارسائی کی مانند" میں جو یائے معروف کی تکرار ہورہی ہے اسے "پارسائی کے مانند" لکھنے سے صوتی طور پر بہتر بنایا جاسکتا تھا۔ آپ زیادہ بہتر سوچ سکتے ہیں ۔ :)
غزل پر ایک دفعہ پھر داد!
سید عاطف علی — مئی 20، 2015 6:24 شام
بہت شکریہ ہما حمید ناز صاحبہ آپ کی توجہ پر بار ِدگر ممنون ہوں۔
umeeque bugti — مئی 31، 2015 5:28 شام
واہ جی واہ
ادب دوست — مئی 31، 2015 5:46 شام
شمع کے مانند ہم اس بزم میں
چشمِ نم آئے تھے دامن تر چلے
میردردؔ۔۔۔۔
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندہِ زر خریدہ کے مانند
میر تقی میرؔ
فاروق احمد بھٹی — مئی 31، 2015 6:55 شام
دل میرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا
عرق ریزِ تپش ہیں، موج کی مانند، زنجیریں
خیالِ سادگی ہائے تصور، نقشِ حیرت ہے
اور کے کے ساتھ
لگتی ہے مجھے تیر کے مانند، ہر انگشت
ہر غنچۂ گل صورتِ یک قطرۂ خوں ہے
دیکھ لی جوشِ جوانی کی ترقّی بھی کہ اب
بدر کے مانند، کاہش روز افزوں ہے مجھے
غالب
سید عاطف علی — جون 6، 2015 8:09 شام
دل میرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا
عرق ریزِ تپش ہیں، موج کی مانند، زنجیریں
خیالِ سادگی ہائے تصور، نقشِ حیرت ہے
اور کے کے ساتھ
لگتی ہے مجھے تیر کے مانند، ہر انگشت
ہر غنچۂ گل صورتِ یک قطرۂ خوں ہے
دیکھ لی جوشِ جوانی کی ترقّی بھی کہ اب
بدر کے مانند، کاہش روز افزوں ہے مجھے
غالب
ان اشعار سے تو لگتا ہے کہ مرزا نے یہاں "مانند" کے استعمال کی نسبت کو منسوب کی جنس کے مطابق ملتزم کیا ہے ۔ اور ہردو صورتوں کو مقبول رکھا ہے۔
آتش اور موج مؤنث ہیں، سو اس کے لیے ۔ کی مانند ۔
تیر اور بدر مذکر سو اس کے ساتھ ۔۔۔ کے مانند ۔۔۔ واللہ اعلم
سید عاطف علی — اکتوبر 25، 2015 5:17 شام
بجلیوں کا وہی نشانہ ہے
وہ شجر جس پہ آشیانہ ہے
-
کیوں بڑھائی گئی سزا میری ؟
کیا مرا جرم مسکرا نا ہے
-
شیخ کی پارسائی کی مانند
تیری نظروں کا تازیانہ ہے
-
میں سمجھ ہی نہ پایا آخر تک
اس کا انداز دوستانہ ہے
-
مسکرانے سے التفات گیا
اس سے بہتر تو روٹھ جانا ہے
-
پہلے قید قفس میں تھی بلبل
اب وہ پابند آب و دانہ ہے
-
چشم گریاں سے ہو گیا ظاہر
دل کا موسم بہت سہانا ہے
۔
ایک شعر بعد میں شامل کیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ کہتا رہا "یقین کرو"
وہ یہ کہتے رہے "دوانہ ہے"
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 25، 2015 6:00 شام
بہت عمدہ عاطف بھائی۔
حمیرا عدنان — اکتوبر 25، 2015 7:49 شام
واہ واہ بہت بہت عمدہ سید عاطف علی بھائی.. ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے خوش رہیں آباد رہیں
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 27، 2015 3:47 صبح
چشم گریاں سے ہو گیا ظاہر
دل کا موسم بہت سہانا ہے
واہ۔
عاطف بھائی کیا خوب غزل ہے۔
ڈھیروں داد ۔
ماشا اللہ۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 27، 2015 10:07 صبح
بہت عمدہ جناب!
ابن رضا — اکتوبر 27، 2015 10:42 صبح
شاہ جی غزل کے عنوان میں ہمیں ریاضی بھی سکھا رہے ہیں کیا؟؟؟:p:):p
کاشف اختر — اکتوبر 27، 2015 11:10 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے ۔۔۔۔ سید عاطف صاحب..۔۔واہ واہ ..۔۔۔۔بہت سی داد قبول فرمائیے ..
سید عاطف علی — اکتوبر 28، 2015 7:03 صبح
بہت عمدہ عاطف بھائی۔
بہت آداب و سپاس تابش صاحب
سید عاطف علی — اکتوبر 28، 2015 7:05 صبح
واہ واہ بہت بہت عمدہ سید عاطف علی بھائی.. ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے خوش رہیں آباد رہیں
آداب و شکریہ ۔حمیرا بہن۔
سید عاطف علی — اکتوبر 28، 2015 7:09 صبح
شاہ جی غزل کے عنوان میں ہمیں ریاضی بھی سکھا رہے ہیں کیا؟؟؟:p:):p
ابن رضا ۔ بھائی اسے آپ ہمارے ماضی پر علم ریاضی کے تسلط کا اثر کہہ سکتے ہیں لیکن یہاں تو نصیب دشمناں ، ایسا کوئی سبق نہیں تھا۔:)
ابن رضا — اکتوبر 28، 2015 11:25 صبح
ابن رضا ۔ بھائی اسے آپ ہمارے ماضی پر علم ریاضی کے تسلط کا اثر کہہ سکتے ہیں لیکن یہاں تو نصیب دشمناں ، ایسا کوئی سبق نہیں تھا۔:)
گویا
آٹھویں کے بعد نویں
میری ایک دسویں غزل (نویں کے بعد)
یہ سب لاشعوری کیفیت ہے :)
محمداحمد — اکتوبر 28، 2015 12:41 شام
شاہ جی غزل کے عنوان میں ہمیں ریاضی بھی سکھا رہے ہیں کیا؟؟؟:p:):p

ہم بھی یہ دیکھ رہے تھے کہ شاید یہ اہتمام اس لئے کیا جا رہا ہے کہ بیچ کی کوئی غزل 'مِس' نہ ہو جائے۔ :) :)
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 28، 2015 12:59 شام
بہت خوب جناب ۔ اچھی ہے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%88%DB%81%DB%8C-%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81-%DB%81%DB%92.81661/page-2