خرم صاحب اگر آپ نے کہیں غالب کی محولہ بالا غزل میں "نے" پڑھا ہے تو پھر وہ یقیناً کاتب کی یا پرنٹنگ کی غلطی ہے، کیونکہ غالب کی یہ غزل بحرِ خفیف میں ہے اور اگر 'نہ' کو 'نے' سے بدل دیں، جو کہ ایک سببِ خفیف ہے، تو شعر بے وزن ہو جاتا ہے۔
بہت خوب وارث بھائي
خوب ہے ليکن سادہ
اچھا ہے
واعظ ! جو نہيں خوف مجھے نارِ س۔۔قر کا
اس شعر پر پہلے بات ہو چکي ہے اور "ي" کو گرانے کي رخصت بھي زير بحھ لائي گئي ليکن ميں سمجھتا ہوں کہ رخصت کي اجازت بحالت مجبوري ہوتي ہے اور يہاں کوئي ايسي مجبوري نہيں کہ اس رخصت سے فائدہ اٹھايا جائے مصرع کي موجودہ صورت طبع موزوں پر گراں گزرتي ہے
بے شک يہ کوئي شرعي عذر نہيں ليکن ہر فن کے اپنے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہيں اور فن شعر گوئي کي "شرع" ميں رخصت نام کي چيز مخصوص حالات ميں ہي ہوتي ہے اب کوئي اگر اسے ہر حالت ميں استعمال کرنا چاہے تو مجھے کيا عذر ہو سکتا ہے سائيں
درست ہے کہ تمام لوگوں نے ايسي رخصت کو برتا ہے ليکن مجھے يقين ہے کہ ان شعراء کے جن جن مصرعوں ميں ايسا کيا گيا ہے جب آپ غور فرمائيں گے تو معلوم ہوگا انہوں نے خواہ مخواہ اس کو نہيں برتا ہوگا ۔۔ اب ايسا بھي تو نہيں ناں کہ اخفا يا اشباع کے بغير اگر مصرع بن سکتا ہے تو بھي يہ ان کو برتنا لازم ہے
محترم اعجازاختر صاحب کو يہ ترکيب کھٹکي بھي تھي اور انہوں نے اس کي غرابت بھي محسوس کي تھي اور يہ کھٹکا تو آپ کو خود بھي تھا تاہم آپ نے غرابت ميں ندرت تلاش کرلي اور اس دريافت پر ميں آپ کا بھي شکر گزار ہوں
بہت خوب!
بہت شکریہ آپ کا۔