تمام طرف سے قینچیاں استرے چل چکے اب ہمارے نشتر جانفزا کو بھی کچھ موقع ملنا چاہئے۔
میسّر اب قیادت ہو گئی ہے
جہالت ہی سیادت ہوگئی ہے
کیا کہنے! کیا ہی کہنے! سبحان اللہ! کیا مضمون باندھا ہے سماجی حالات کی خوب نقشہ کشی ہے تاہم ایطائے خفی وغیرہ کی تہمت اساتذہ کی جانب سے ہے ہم کو کچھ ایسا نہیں دکھائی دیا یہی اساتذہ ہماری غزل گوئي کو خطائے جلی قرار دیتے ہیں۔

دعا دیتے تھے "عمر ِجاوداں ہو“
مبارک ہو! شہادت ہوگئی ہے
کیا کہنے! سبحان اللہ! سفر سخن کے آغاز میں ہی مرنے مارنے کی باتیں۔
جسے رکھتا تھا اپنی جاں کا دشمن
اب اس سے بھی ارادت ہوگئی ہے
خوش قسمتی ہے جناب کی۔
جسے سمجھے تھے سعئ رائگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
بہت خوب۔۔۔
ترے کوچے کو ہی جاتے ہیں اب تو
مرے قدموں کو عادت ہوگئی ہے
کیا کہنے۔۔۔ ایسا بھی ہوتا ہے۔
تمنا شعر کہنے کی تھی فرّخ
غزل مجھکو، سعادت ہوگئی ہے
یہ سعادت ہم کو کب ہو گی؟ ہم بھی سوچ رہے ہیں کہ ہریڑ اور آملے کے مربے وغیرہ شروع کیے جائيں۔
بہرطور، فرخ بھائی پہلی غزل بہت مبارک ہو! امید ہے مزید پڑھنے کو ملتا رہے گا۔