میری پہلی غزل "محفل" کی نذر

فرخ منظور — اپریل 2، 2008 6:49 صبح
میسّر اب قیادت ہو گئی ہے
خصومت ہی سیاست ہوگئی ہے
نشاطِ وصل کی جو آرزو تھی
اب اس سے بھی عداوت ہوگئی ہے
صنم ہم بھی کبھی پوجا کئے تھے
سمٹ کر اب یہ وحدت ہوگئی ہے
دعا دیتے تھے "عمر ِجاوداں ہو“
مبارک ہو! شہادت ہوگئی ہے
جسے رکھتا تھا اپنی جاں کا دشمن
اب اس سے بھی ارادت ہوگئی ہے
جسے سمجھے تھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
ترے کوچے کو ہی جاتے ہیں اب تو
مرے قدموں کو عادت ہوگئی ہے
تمنا شعر کہنے کی تھی فرّخ
غزل مجھکو، سعادت ہوگئی ہے
(فرخ منظور)



اس غزل کی اصلاح محمد وارث صاحب کی مرہونِ منت ہے - بہت شکریہ وارث صاحب !
محمد وارث — اپریل 2، 2008 8:32 صبح
واہ واہ واہ۔ سبحان اللہ۔ کیا لاجواب غزل ہے فرخ صاحب، اور سبھی اشعار بہت اچھے ہیں اور پسند آئے مجھے۔ یہ اس لیئے نہیں لکھ رہا کہ اوپر آپ نے مروتاً اصلاح والا "جرم" میرے سر لگا دیا حالانکہ میری "غلطی" صرف اتنی تھی کہ میں نے یہ غزل سنی تھی، بلکہ اسکی پیدایش کا چشم دید گواہ ہوں ;)، بلکہ واقعتاً غزل اچھی ہے۔
حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ آپ نے اسے وزن میں کیسے رکھا جب کہ یہ ہے بھی آپ کی پہلی غزل۔
امید ہے اس شاعری کے شغل کو جاری رکھیں گے۔
فرخ منظور — اپریل 2، 2008 9:05 صبح
واہ واہ واہ۔ سبحان اللہ۔ کیا لاجواب غزل ہے فرخ صاحب، اور سبھی اشعار بہت اچھے ہیں اور پسند آئے مجھے۔ یہ اس لیئے نہیں لکھ رہا کہ اوپر آپ نے مروتاً اصلاح والا "جرم" میرے سر لگا دیا حالانکہ میری "غلطی" صرف اتنی تھی کہ میں نے یہ غزل سنی تھی، بلکہ اسکی پیدایش کا چشم دید گواہ ہوں ;)، بلکہ واقعتاً غزل اچھی ہے۔
حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ آپ نے اسے وزن میں کیسے رکھا جب کہ یہ ہے بھی آپ کی پہلی غزل۔
امید ہے اس شاعری کے شغل کو جاری رکھیں گے۔

بہت بہت شکریہ وارث صاحب - یہ تو آپ کا ہی فیضانِ نظر ہے ورنہ ہم کس قابل ہیں - :)
فاتح — اپریل 2، 2008 12:00 شام
سبحان اللہ! انتہإی خوبصورت غزل ہے۔ واقعی یہ شے حیران کن ہے کہ پہلی غزل اور وہ بھی اس قدر با وزن۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
میں تو مشورہ یہی دوں گا کہ یہ شغل جاری رکھیے اور لکھتے رہیے، لکھتے رہیے، لکھتے رہیے۔
وارث صاحب نے کہا کہ وہ اس غزل کی پیدائش کے چشم دید گواہ ہیں تو میں کس امر کی گواہی دوں؟;)
ایم اے راجا — اپریل 2، 2008 12:19 شام
بہت خوبصورت اور حقیقت پر مبنی غزل ہے، واہ واہ واہ۔
زونی — اپریل 2، 2008 12:23 شام

جسے سمجھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
بہت خوب فرخ بھائی تو آپ نے اپنا کام شروع کر ہی دیا :grin:
فرخ منظور — اپریل 2، 2008 12:31 شام
سبحان اللہ! انتہإی خوبصورت غزل ہے۔ واقعی یہ شے حیران کن ہے کہ پہلی غزل اور وہ بھی اس قدر با وزن۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
میں تو مشورہ یہی دوں گا کہ یہ شغل جاری رکھیے اور لکھتے رہیے، لکھتے رہیے، لکھتے رہیے۔
وارث صاحب نے کہا کہ وہ اس غزل کی پیدائش کے چشم دید گواہ ہیں تو میں کس امر کی گواہی دوں؟;)

ہا ہا میں چپ - کچھ نہیں‌بولوں گا - ;)
حسن علوی — اپریل 2، 2008 12:35 شام
ترے کوچے کو ہی جاتے ہیں اب تو
مرے قدموں کو عادت ہوگئی ہے
بہت اعلٰی فرخ بھائی۔
فرخ منظور — اپریل 2، 2008 12:36 شام

جسے سمجھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
بہت خوب فرخ بھائی تو آپ نے اپنا کام شروع کر ہی دیا :grin:

بہت شکریہ زونی - یہ کام کرنے کی تو ایک مدت سے خواہش تھی - ;)
فرخ منظور — اپریل 2، 2008 12:56 شام
ترے کوچے کو ہی جاتے ہیں اب تو
مرے قدموں کو عادت ہوگئی ہے
بہت اعلٰی فرخ بھائی۔

بہت شکریہ حسن علوی بھائی :)
فرخ منظور — اپریل 2، 2008 1:30 شام
بہت خوبصورت اور حقیقت پر مبنی غزل ہے، واہ واہ واہ۔

بہت شکریہ ساگر صاحب!
الف عین — اپریل 2، 2008 5:21 شام
واقعوی بہت اچھی غزل کہی ہے فرخ۔۔ توقع سے زیادہ اچھی۔۔۔
جسے سمجھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
یہہ شعر ہے تو عمدہ،لیکن سعی کا تلفظ غلط باندھاگیا ہے۔ سعی در اصل درد کے ہموزن ہے، یعنی فعل۔ عین اور یا دونوں ساکن ہیں۔
اس میں ایک تھے کا اضافہ کرنے سے یہ سقم بھی دور ہو جاتا ہے اور مطلب بھی زیادہ واضح ہعو جاتا ہے۔ یعنی
جسے سمجھے تھےسعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
اور کسی مصرعے میں کچھ بہتری لائی جا سکے تو سوچوں گا۔
ایک بار پھر مبارک
محمد وارث — اپریل 2، 2008 5:36 شام
واقعوی بہت اچھی غزل کہی ہے فرخ۔۔ توقع سے زیادہ اچھی۔۔۔
جسے سمجھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
یہہ شعر ہے تو عمدہ،لیکن سعی کا تلفظ غلط باندھاگیا ہے۔ سعی در اصل درد کے ہموزن ہے، یعنی فعل۔ عین اور یا دونوں ساکن ہیں۔
اس میں ایک تھے کا اضافہ کرنے سے یہ سقم بھی دور ہو جاتا ہے اور مطلب بھی زیادہ واضح ہعو جاتا ہے۔ یعنی
جسے سمجھے تھےسعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
اور کسی مصرعے میں کچھ بہتری لائی جا سکے تو سوچوں گا۔
ایک بار پھر مبارک

مزے کی بات یہ ہے اعجاز صاحب کہ فرخ صاحب نے یہ مصرع ایسے ہی کہا تھا جیسا آپ نے لکھا، لیکن اسے میں نے تبدیل کیا اور اس میں سے 'تھے' نکال دیا، اس لیئے کہتے ہیں شاید کہ نیم ملا خطرۂ جان :)
خیر تفنن برطرف، سعی کے وزن پر مجھے بھی شعبہ ہوا تھا اور اسے علمی اردو لغت سے کنفرم کیا تو اسے 'سَ عی' یعنی 'سَبَب' کے وزن پر پایا اور اسی لیئے 'سعیٔ را' کا ٹکڑا مفاعیلن کے وزن پر پورا ہوا۔ لیکن آپ کی بات نے پھر مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔
شعیب خالق — اپریل 2، 2008 9:36 شام
بہت اچھی غزل ہے فرخ بھائی
سکون — اپریل 2، 2008 11:11 شام
بہت ہی عمدہ اور معیارے ہے جناب ۔۔۔۔اپ کا تو کوئی جواب نہیں ہے
فرخ منظور — اپریل 3، 2008 6:13 صبح
واقعوی بہت اچھی غزل کہی ہے فرخ۔۔ توقع سے زیادہ اچھی۔۔۔
جسے سمجھے سعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
یہہ شعر ہے تو عمدہ،لیکن سعی کا تلفظ غلط باندھاگیا ہے۔ سعی در اصل درد کے ہموزن ہے، یعنی فعل۔ عین اور یا دونوں ساکن ہیں۔
اس میں ایک تھے کا اضافہ کرنے سے یہ سقم بھی دور ہو جاتا ہے اور مطلب بھی زیادہ واضح ہعو جاتا ہے۔ یعنی
جسے سمجھے تھےسعئ رائیگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
اور کسی مصرعے میں کچھ بہتری لائی جا سکے تو سوچوں گا۔
ایک بار پھر مبارک

بہت شکریہ اعجاز صاحب! آپ کی مزید رہنمائی کا منتظر رہوں گا -
فرخ منظور — اپریل 3، 2008 6:20 صبح
بہت اچھی غزل ہے فرخ بھائی
بہت شکریہ شعیب صاحب!
فرخ منظور — اپریل 3، 2008 6:21 صبح
بہت ہی عمدہ اور معیارے ہے جناب ۔۔۔۔اپ کا تو کوئی جواب نہیں ہے

بہت شکریہ مولا صاحب!
سارہ خان — اپریل 3، 2008 11:32 صبح
واہ ۔۔ زبردست غزل لکھی ہے ۔۔ :clapp:
سخنور اب صحیح معنوں میں سخنور ہو گئے ۔۔ مبارک ۔۔:)
فرخ منظور — اپریل 3، 2008 11:50 صبح
واہ ۔۔ زبردست غزل لکھی ہے ۔۔ :clapp:
سخنور اب صحیح معنوں میں سخنور ہو گئے ۔۔ مبارک ۔۔:)

بہت شکریہ سارہ خان - واقعی سخنور اب جا کے کہیں سخنور ہوا -
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا :)
صفحات: 1 2 3 4 5

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.11472/