میری پہلی غزل "محفل" کی نذر

محمد وارث — اپریل 15، 2009 9:49 صبح
جی بالکل وہی صورت حال ہے جو فرخ کی غزل میں ہے۔ چلیں فرخ بھائی اور ناصر کاظمی میں کچھ مماثلت تو ہوئی۔:)

مگر اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کچھ ثقہ شاعر بھی اس کو صحیح سمجھتے ہیں! :)
جیہ — اپریل 16، 2009 8:13 صبح
فرہنگ آصفیہ از مولوی سید احمد دہلوی (طبع اول 1898ء) جلد سوم صفحہ 194، پہلے پاکستانی ایڈیشن 1974ء سے 'شہادت ہونا' کی سند مع شعر کے:
"
شہادت ہونا (ا) فعل لازم۔ (1) گواہی ہونا، (2) شہید ہونا، راہِ خدا میں مارا جانا، امرِ حق پر مارا جانا، (3) فوت ہونا، قضا ہونا، مرنا۔
سُنتے ہیں آج وہ بُت تیغ بکف آتا ہے
کون روکے گا جو قسمت میں شہادت ہوگی
(رشید)
"

شکریہ وارث
میں نے بھی علمی لغات جامع شایع کردہ علمی کتب خانہ میں دیکھا تو افعال میں شہادت ہونا کے معنی موجود پائے
فرخ منظور — جولائی 13، 2009 6:35 شام
وارث صاحب ایک واصف علی واصف کی غزل پڑھی جس میں ہو بہو یہی مصرع تھا۔
"مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے"
اب میں حیران ہوں کہ یہ کیا ماجرا ہے میں نے زندگی میں کبھی واصف علی واصف کو نہیں پڑھا۔
:eek:
محمد وارث — جولائی 14، 2009 5:58 صبح
تو آپ کو مبارک ہو :)
خیال کا توارد ہونا عام بات ہے
یا یوں کہہ لیں کہ عظیم آدمی ایک جیسا ہی سوچتے ہیں، پوری کہاوت کا یہ محل نہیں ہے :)
مغزل — جولائی 14، 2009 6:53 صبح
کیا بات ہے ، واہ ، واہ، وارث صاحب ایک زحمت دینے لگا ہوں آپ کو۔ ذپ کرتا ہوں
محمد رضا سلیم — جولائی 14، 2009 8:07 صبح
فرخ صاحب
آداب عرض ہے
;)
فرخ منظور — جولائی 14، 2009 4:31 شام
فرخ صاحب
آداب عرض ہے
;)

تسلیمات جناب رضا صاحب!
:)
محمد وارث — جولائی 14، 2009 6:21 شام
کیا بات ہے ، واہ ، واہ، وارث صاحب ایک زحمت دینے لگا ہوں آپ کو۔ ذپ کرتا ہوں

جی قبلہ ضرور :)
ابن سعید — جولائی 14، 2009 6:42 شام
بھئی یہاں اشعار میں توارد ہوا تو کیا ہوا مجھ سے طبعیات اور ریاضی جیسے علوم میں کئی بار توارد سرزد ہو چکا ہے۔
ویسے سخنور صاحب لاجواب اشعار ہیں۔
فرخ منظور — جولائی 14، 2009 7:39 شام
بھئی یہاں اشعار میں توارد ہوا تو کیا ہوا مجھ سے طبعیات اور ریاضی جیسے علوم میں کئی بار توارد سرزد ہو چکا ہے۔
ویسے سخنور صاحب لاجواب اشعار ہیں۔

بہت شکریہ ابن سعید صاحب!
مغزل — اگست 12، 2009 8:50 صبح
تازہ کلام کا انتظار زور پکڑتا جارہا ہے جناب
محمد شعیب خٹک — جولائی 2، 2010 11:43 صبح
میسّر اب قیادت ہو گئی ہے
جہالت ہی سیادت ہوگئی ہے
دعا دیتے تھے "عمر ِجاوداں ہو“
مبارک ہو! شہادت ہوگئی ہے
جسے رکھتا تھا اپنی جاں کا دشمن
اب اس سے بھی ارادت ہوگئی ہے
جسے سمجھے تھے سعئ رائگاں ہم
وہی الفت، عبادت ہوگئی ہے
ترے کوچے کو ہی جاتے ہیں اب تو
مرے قدموں کو عادت ہوگئی ہے
تمنا شعر کہنے کی تھی فرّخ
غزل مجھکو، سعادت ہوگئی ہے
اس غزل کی اصلاح محمد وارث صاحب کی مرہونِ منت ہے - بہت شکریہ وارث صاحب !

بہت خوب ۔۔۔
یقین نہیں آرہا کہ کوئی اپنی پہلے غزل اتنی شاندار کہ سکتا ہے ۔۔۔
فرخ منظور — جولائی 2، 2010 11:55 صبح
بہت خوب ۔۔۔
یقین نہیں آرہا کہ کوئی اپنی پہلے غزل اتنی شاندار کہ سکتا ہے ۔۔۔

شکریہ خٹک صاحب لیکن اس حادثے کے دو گواہان تو اسی فورم میں موجود ہیں۔ ایک وارث صاحب اور دوسرے فاتح صاحب۔ :)
سید عاطف علی — مئی 5، 2012 11:59 صبح
مزے کی بات یہ ہے اعجاز صاحب کہ فرخ صاحب نے یہ مصرع ایسے ہی کہا تھا جیسا آپ نے لکھا، لیکن اسے میں نے تبدیل کیا اور اس میں سے 'تھے' نکال دیا، اس لیئے کہتے ہیں شاید کہ نیم ملا خطرۂ جان :)
خیر تفنن برطرف، سعی کے وزن پر مجھے بھی شعبہ ہوا تھا اور اسے علمی اردو لغت سے کنفرم کیا تو اسے 'سَ عی' یعنی 'سَبَب' کے وزن پر پایا اور اسی لیئے 'سعیٔ را' کا ٹکڑا مفاعیلن کے وزن پر پورا ہوا۔ لیکن آپ کی بات نے پھر مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔
پہلے تو برادرم فرخ صاحب کو داد۔۔ٲ بہت خوب غزل ہے۔۔۔۔ لیکن وارث صاحب ۔۔۔ الف عین صاحب نے درست فرمایا ہے یہ سعی تلفظ درد کے وزن پر ہے۔۔۔ جیسا کہ وحی کا ہے۔ عربی میں یہ فعل معتل ہے ۔اوراس سے اسم سعی اسی وزن پر بنتا۔۔۔اسی وزن پر اساتذہ نے باندھا ہے۔۔۔ ۔۔۔
کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ۔۔۔۔۔غالب۔
محمد وارث — مئی 5، 2012 12:21 شام
پہلے تو برادرم فرخ صاحب کو داد۔۔ٲ بہت خوب غزل ہے۔۔۔ ۔ لیکن وارث صاحب ۔۔۔ الف عین صاحب نے درست فرمایا ہے یہ سعی تلفظ درد کے وزن پر ہے۔۔۔ جیسا کہ وحی کا ہے۔ عربی میں یہ فعل معتل ہے ۔اوراس سے اسم سعی اسی وزن پر بنتا۔۔۔ اسی وزن پر اساتذہ نے باندھا ہے۔۔۔ ۔۔۔
کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ۔۔۔ ۔۔غالب۔

جی مجھے آپ سے اتفاق ہے سیّد صاحب، سعی بروزن درد ہی ہے، اس وقت کوئی مغالطہ رہا ہوگا لیکن اب یقیناً نہیں ہے :)
فرخ منظور — مئی 5، 2012 12:34 شام
پہلے تو برادرم فرخ صاحب کو داد۔۔ٲ بہت خوب غزل ہے۔۔۔ ۔ لیکن وارث صاحب ۔۔۔ الف عین صاحب نے درست فرمایا ہے یہ سعی تلفظ درد کے وزن پر ہے۔۔۔ جیسا کہ وحی کا ہے۔ عربی میں یہ فعل معتل ہے ۔اوراس سے اسم سعی اسی وزن پر بنتا۔۔۔ اسی وزن پر اساتذہ نے باندھا ہے۔۔۔ ۔۔۔
کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ۔۔۔ ۔۔غالب۔

بہت شکریہ عاطف صاحب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.11472/page-5