مزے کی بات یہ ہے اعجاز صاحب کہ فرخ صاحب نے یہ مصرع ایسے ہی کہا تھا جیسا آپ نے لکھا، لیکن اسے میں نے تبدیل کیا اور اس میں سے 'تھے' نکال دیا، اس لیئے کہتے ہیں شاید کہ نیم ملا خطرۂ جان
خیر تفنن برطرف، سعی کے وزن پر مجھے بھی شعبہ ہوا تھا اور اسے علمی اردو لغت سے کنفرم کیا تو اسے 'سَ عی' یعنی 'سَبَب' کے وزن پر پایا اور اسی لیئے 'سعیٔ را' کا ٹکڑا مفاعیلن کے وزن پر پورا ہوا۔ لیکن آپ کی بات نے پھر مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔
پہلے تو برادرم فرخ صاحب کو داد۔۔ٲ بہت خوب غزل ہے۔۔۔۔ لیکن وارث صاحب ۔۔۔ الف عین صاحب نے درست فرمایا ہے یہ سعی تلفظ درد کے وزن پر ہے۔۔۔ جیسا کہ وحی کا ہے۔ عربی میں یہ فعل معتل ہے ۔اوراس سے اسم سعی اسی وزن پر بنتا۔۔۔اسی وزن پر اساتذہ نے باندھا ہے۔۔۔ ۔۔۔
کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ۔۔۔۔۔غالب۔