میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا

ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 5:50 شام
میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا
ادنیٰ سا آدمی تھا میں انسان بن گیا
اپنی حدیں ملی ہیں تو ادراکِ حق ہوا
عرفانِ ذات باعثِ ایمان بن گیا
ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز
جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
کچھ بھی نہیں تھا کہنے کو شہر ِوصال میں
ہجرت ملی غزل کو تو دیوان بن گیا
پہچانئے مجھے میں وہی ہوں ظہیر، جو
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۹​
فاتح — جنوری 27، 2016 5:54 شام
مطلع سے ہی اپنی گرفت میں لے لینے والی ایک خوبصورت غزل جو بیک وقت تصوف کے در بھی باز کرتی ہے اور اس کے دریچوں سے ہجرت کا درد بھی باہر نکلتا نظر آتا ہے۔ چہ خوب
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 5:54 شام
فاتح سید تابش صدیقی کاشف اختر سید عاطف علی
کاشف اختر — جنوری 28، 2016 4:40 صبح
واہ واہ بہت عمدہ ظہیر صاحب! ہر شعر عمدہ ہے!
محمد تابش صدیقی — جنوری 28، 2016 4:48 صبح
واہ واہ، ظہیر بھائی کیا کہنے۔ فکر کی پختگی پر دال ہے یہ غزل
میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا
ادنیٰ سا آدمی تھا میں انسان بن گیا
اپنی حدیں ملی ہیں تو ادراکِ حق ہوا
عرفانِ ذات باعثِ ایمان بن گیا
ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز
جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
کچھ بھی نہیں تھا کہنے کو شہر ِوصال میں
ہجرت ملی غزل کو تو دیوان بن گیا
پہچانئے مجھے میں وہی ہوں ظہیر، جو
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۹​
محمد وارث — جنوری 17، 2023 5:20 صبح
کیا کہنے ڈاکٹر صاحب، سبھی عمدہ اشعار ہیں اور تلمیحات کا استعمال بھی خوب ہے۔ اور یہ شعر بہت پسند آیا:
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
لاجواب!
محمد وارث — جنوری 17، 2023 5:25 صبح
یاد ش بخیر، آپ کے مطلعے سے مجھے یاد آیا کہ میرا بھی ایک ایسا مطلع ہے یا تھا اور وہ بھی ایک ڈیڑھ دہائی پرانا ہے:
دنیا میں تری، درد کا درمان نہیں ہے
ہر سمت خدا ہیں، کوئی انسان نہیں ہے
آپ کا مطلع پہلے پڑھ لیا ہوتا تو کبھی نہ کہتا۔ :)
ظہیراحمدظہیر — جنوری 18، 2023 3:15 شام
مطلع سے ہی اپنی گرفت میں لے لینے والی ایک خوبصورت غزل جو بیک وقت تصوف کے در بھی باز کرتی ہے اور اس کے دریچوں سے ہجرت کا درد بھی باہر نکلتا نظر آتا ہے۔ چہ خوب

واہ واہ بہت عمدہ ظہیر صاحب! ہر شعر عمدہ ہے!

واہ واہ، ظہیر بھائی کیا کہنے۔ فکر کی پختگی پر دال ہے یہ غزل
محترم قارئین ، محفلین ِ حاضرین و غائبین ! یہ بندۂ نامعقول یعنی خاکسار اپنی اس کوتاہی پر ازحد شرمندہ ہے کہ آپ حضرات کا شکریہ ادا کرنے میں قدرے تاخیر ہوئی ۔ امید ہے کہ آپ صاحبانِ کرم حسبِ معمول اپنی فراخدلی سے کام لیتے ہوئے عاجز کو معاف فرمائیں گے ۔ غزل پسند کرنے پر آپ سب کا شکریہ! بہت ممنون ہوں۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 18، 2023 3:18 شام
کیا کہنے ڈاکٹر صاحب، سبھی عمدہ اشعار ہیں اور تلمیحات کا استعمال بھی خوب ہے۔ اور یہ شعر بہت پسند آیا:
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
لاجواب!
آداب ، بہت نوازش ، بہت شکریہ!
قدر افزائی پر ہمیشہ کی طرح ممنون ہوں ، جناب وارث صاحب قبلہ! اللّٰہ کریم آپ کو سلامت رکھے ۔ آپ ہمیشہ عزت افزائی کرتے ہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 18، 2023 3:24 شام
یاد ش بخیر، آپ کے مطلعے سے مجھے یاد آیا کہ میرا بھی ایک ایسا مطلع ہے یا تھا اور وہ بھی ایک ڈیڑھ دہائی پرانا ہے:
دنیا میں تری، درد کا درمان نہیں ہے
ہر سمت خدا ہیں، کوئی انسان نہیں ہے
بہت اعلیٰ ، بہت خوب! خوبصورت مطلع ہے۔ جب آپ کی یہ غزل پڑھی تھی تو اس وقت بھی بہت پسند آیا تھا ۔ موجودہ دور کے عمومی عالمی حالات اور خصوصاً پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں یہ شعر انتہائی حسبِ حال ہے ۔ حقیقت نما ہے ۔ مکرر داد !
آپ کا مطلع پہلے پڑھ لیا ہوتا تو کبھی نہ کہتا۔ :)
:):):)
انسان تو میں اب بھی پورا نہیں بن سکا ہوں ۔ بس کوششیں جاری ہیں ۔
محمداحمد — جنوری 18، 2023 4:48 شام
سبحان اللہ!
ایک ہی غزل میں اتنے سارے اچھے شعر!
کیا بات ہے ظہیر بھائی! ماشاءاللہ!
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔ 💟
ظہیراحمدظہیر — جنوری 19، 2023 7:26 شام
سبحان اللہ!
ایک ہی غزل میں اتنے سارے اچھے شعر!
کیا بات ہے ظہیر بھائی! ماشاءاللہ!
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔ 💟
بہت بہت شکریہ ، احمد بھائی۔ آپ کو اشعار اچھے لگے تو دلی مسرت ہوئی ۔ یہ پرانی غزل ہے ، سات سال پہلے پوسٹ کی تھی۔ مری نالائقی دیکھیے کہ مراسلات کے جوابات اب دے رہاہوں۔
محمداحمد — جنوری 20، 2023 1:29 شام
بہت بہت شکریہ ، احمد بھائی۔ آپ کو اشعار اچھے لگے تو دلی مسرت ہوئی ۔ یہ پرانی غزل ہے ، سات سال پہلے پوسٹ کی تھی۔ مری نالائقی دیکھیے کہ مراسلات کے جوابات اب دے رہاہوں۔

اور ہماری نالائقی بھی قابلِ دید ہے کہ تبصرہ ہی سات سال بعد کیا ہے۔ :) :) :)
اور آپ نے ابھی سےجواب دے دیا۔ :)
عرفان علوی — جنوری 21، 2023 4:33 شام
میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا
ادنیٰ سا آدمی تھا میں انسان بن گیا
اپنی حدیں ملی ہیں تو ادراکِ حق ہوا
عرفانِ ذات باعثِ ایمان بن گیا
ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز
جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
کچھ بھی نہیں تھا کہنے کو شہر ِوصال میں
ہجرت ملی غزل کو تو دیوان بن گیا
پہچانئے مجھے میں وہی ہوں ظہیر، جو
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۹​
واہ ، واہ ، ظہیر بھائی ! ہمیشہ کی طرح عمدہ كلام . خاکسار کی داد قبول فرمائیے .
ایس ایس ساگر — جنوری 21، 2023 5:10 شام
میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا
ادنیٰ سا آدمی تھا میں انسان بن گیا
اپنی حدیں ملی ہیں تو ادراکِ حق ہوا
عرفانِ ذات باعثِ ایمان بن گیا
ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز
جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
کچھ بھی نہیں تھا کہنے کو شہر ِوصال میں
ہجرت ملی غزل کو تو دیوان بن گیا
پہچانئے مجھے میں وہی ہوں ظہیر، جو
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا
بہت خوب۔ ہر شعر لاجواب۔
داد قبول کیجیے سر
اللہ آپ کو سدا خوش رکھے۔ آمین۔
صابرہ امین — جنوری 21، 2023 11:16 شام
ہر شعر ہی خوبصورت ۔ ۔ واہ واہ! ماشا اللہ
ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز
جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا
خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں
اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا
کیا بات ہے آپ کی!!
سید عاطف علی — جنوری 22، 2023 4:38 صبح
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا
واہ اتنی پرانی غزل اور اب دیکھی ۔
خوب ظہیر بھائی عمدہ اشعار ہیں سب ۔ کیا بات ہے ۔
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا۔ الماس جڑ دیا ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2023 10:38 شام
اور ہماری نالائقی بھی قابلِ دید ہے کہ تبصرہ ہی سات سال بعد کیا ہے۔ :) :) :)
اور آپ نے ابھی سےجواب دے دیا۔ :)
محمداحمد بھائی ، نالائقی کے مقابلے میں اس دفعہ مجھے اول آنے دیں۔ اگلی دفعہ آپ جیت جائیے گا۔ :D
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2023 10:40 شام
واہ ، واہ ، ظہیر بھائی ! ہمیشہ کی طرح عمدہ كلام . خاکسار کی داد قبول فرمائیے .
بہت نوازش ، بہت شکریہ! بہت ممنون ہوں ،عرفان بھائی ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2023 10:42 شام
واہ اتنی پرانی غزل اور اب دیکھی ۔
خوب ظہیر بھائی عمدہ اشعار ہیں سب ۔ کیا بات ہے ۔
خود کو مٹاکر آپ کی پہچان بن گیا۔ الماس جڑ دیا ۔
آداب ، آداب! کرم نوازی ہے ، عاطف بھائی ! ممنونم بسیار۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D9%86-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.87534/