میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں (الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ) ۔ فاتح الدین فاتح

ثامر شعور — مارچ 27، 2014 2:21 شام
فاتح بھائی بہت خوبصورت غزل ہے ۔ شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ ۔
فاتح — مارچ 27، 2014 3:50 شام
فاتح بھائی بہت خوبصورت غزل ہے ۔ شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ ۔
بہت شکریہ بھائی۔۔۔ جیتے رہیں
جاسمن — جنوری 7، 2016 2:45 صبح
بہت خوب!بہت داد!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 7، 2016 3:25 صبح
بہت خوب! کیا بات ہے!
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں ۔ واہ!
محمد تابش صدیقی — جنوری 7، 2016 4:51 صبح
بہت عمدہ، کیا کہنے
جسم کی حد سے پرے روح کی منزل سے بعید
تیری ہی ذات میں تا حد نظر چاہتا ہوں
الشفاء — جنوری 7، 2016 5:16 صبح
باندازِ دگر ۔ واہ۔
فاتح — جنوری 7، 2016 9:18 صبح
جاسمن بہن! آپ کا شکریہ۔ داد کے لیے بھی اور اس پرانی لڑی کو تازگی بخشنے پر بھی :)
فاتح — جنوری 7، 2016 9:18 صبح
بہت خوب! کیا بات ہے!
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں ۔ واہ!
آپ کو پسند آئی۔ ہمیں محنت وصول ہوئی
فاتح — جنوری 7، 2016 9:19 صبح
بہت عمدہ، کیا کہنے
محبتیں ہیں آپ کی
فاتح — جنوری 7، 2016 9:19 صبح
باندازِ دگر ۔ واہ۔
نوازش ہے جناب
سارہ خان — جنوری 7، 2016 9:38 صبح
بہت زبردست شاعری ہے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ۔۔۔
فاتح — جنوری 7، 2016 9:41 صبح
بہت زبردست شاعری ہے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ۔۔۔
شکریہ سارہ۔ ویسے داد تو ہماری بہن جاسمن کے لیے بنتی ہے ورنہ یہ غزل تو نجانے کتنے ملبے تلے دبی ہوئی تھی۔ :)
سارہ خان — جنوری 7، 2016 9:44 صبح
شکریہ سارہ۔ ویسے داد تو ہماری بہن جاسمن کے لیے بنتی ہے ورنہ یہ غزل تو نجانے کتنے ملبے تلے دبی ہوئی تھی۔ :)
صحیح کہہ رہے ہیں ۔۔۔ میری نظر سے نہیں گذری پہلے یہ ۔۔۔۔
شکریہ جاسمن :)
فاتح — جنوری 7، 2016 9:47 صبح
صحیح کہہ رہے ہیں ۔۔۔ میری نظر سے نہیں گذری پہلے یہ ۔۔۔۔
شکریہ جاسمن :)
اب ٹھیک ہے۔ جاسمن کا شکریہ ادا کرنا ضروری تھا۔
پہلے نظر سے گذری ہوتی اور اس پر کچھ لکھا نہ ہوتا تو تم سے میری جنگ ہونی تھی۔ :laughing:
نور وجدان — جنوری 7، 2016 9:48 صبح
گر خدا چاہے تو چاہوں میں تجھے بعد الموت
یوں نہیں ہے کہ فقط زندگی بھر چاہتا ہوں

جسم کی حد سے پرے روح کی منزل سے بعید
تیری ہی ذات میں تا حد نظر چاہتا ہوں

میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
تیری دیوارِ حرم میں کوئی در چاہتا ہوں

(y):applause::applause:
لاجواب
فاتح — جنوری 7، 2016 9:53 صبح
ممنون :)
سارہ خان — جنوری 7، 2016 10:19 صبح
اب ٹھیک ہے۔ جاسمن کا شکریہ ادا کرنا ضروری تھا۔
پہلے نظر سے گذری ہوتی اور اس پر کچھ لکھا نہ ہوتا تو تم سے میری جنگ ہونی تھی۔ :laughing:

ہاہاہا ۔۔۔ پھر تو دیکھنا پڑے گا کہ میں نے کہاں کہاں صرف ریٹنگ سے کام چلایا ہے ۔۔ :-P
ادب دوست — جنوری 7، 2016 10:19 صبح
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
(الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ)
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
تیری دیوارِ حرم میں کوئی در چاہتا ہوں
نالۂ شعر میں آثارِ اثر چاہتا ہوں
گو ہوں درماندہ مگر دستِ ہنر چاہتا ہوں
بے کراں ایک سمندر ہے محبت میری
چار اطراف میں اعجازِ اثر چاہتا ہوں
جسم کی حد سے پرے روح کی منزل سے بعید
تیری ہی ذات میں تا حد نظر چاہتا ہوں
روز مرّہ کی ضرورت کی طرح صبح و مسا
میں تجھے مثلِ چراغ اور سحر چاہتا ہوں
عالمِ تیرگی میں تیرے بدن کی شمعیں
مثلِ تابانیِ خورشید و سحر چاہتا ہوں
زیست کی تیرگی میں اے کہ مری مشعلِ جاں
شبِ پر نور و جہاں تاب سحر چاہتا ہوں
کسی کھوئی ہوئی معصوم محبت کی طرح
ہر اک انجام سے بے خوف و خطر چاہتا ہوں
جبر کی قید میں پامردی و بیباکی سے
اپنی معصوم دعاؤں کا ثمر چاہتا ہوں
چاہتا ہوں کہ ہر اک ڈال پہ ہوں برگ و ثمر
اور پرندوں سے بھی آباد شجر چاہتا ہوں
گر خدا چاہے تو چاہوں میں تجھے بعد الموت
یوں نہیں ہے کہ فقط زندگی بھر چاہتا ہوں
(فاتح الدین فاتح)​

فاتح بھائی، یقین کیجئے مزہ آگیا۔۔ واہ واہ۔۔ بہت خوب ۔۔ بہت خوب
فاتح — جنوری 7، 2016 10:25 صبح
فاتح بھائی، یقین کیجئے مزہ آگیا۔۔ واہ واہ۔۔ بہت خوب ۔۔ بہت خوب
اور ہمیں آپ کی محبت کا انداز مزا دے گیا۔
فہد اشرف — دسمبر 15، 2018 5:54 شام
سبحان اللہ۔ جب ماخوذ اتنا خوب ہے تو ماخذ کیسا ہو گا۔ فاتح بھائی الزبتھ بیرٹھ کی نظم کا ربط مل سکتا ہے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%D9%90-%D8%AF%DA%AF%D8%B1-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A8%D8%AA%DA%BE-%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D9%B9-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A4%D9%86%D9%86%DA%AF-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%AE%D9%88%D8%B0-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.72888/page-5