میں تم سے کہہ نہیں سکتا

خرم شہزاد خرم — اگست 28، 2008 5:20 صبح
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل کے اندر ہے
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تری یادیں ستاتی ہیں
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
کبھی تم لوٹ آؤ نا
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
ستاروں کو بتاتا ہوں
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
خرم شہزاد خرم
اس کو بھی دیکھ لیں
جیا راؤ — اگست 28، 2008 5:45 صبح
واہ !!!
بہت پیارا لکھا خرم !
ابو کاشان — اگست 28، 2008 6:01 صبح
بہت خوب! لگے رہو خرّم بھائی :)
الف عین — اگست 28، 2008 6:22 صبح
تجھے کیون ایک جگہ جب کہ سب جگہ خطاب تم سے ہے۔
تکجھے کو تمہیں کر دو
خرم شہزاد خرم — اگست 28، 2008 10:34 صبح
بہت شکریہ سر جی اب کیسا ہے
زھرا علوی — اگست 28، 2008 10:36 صبح
اچھی نظم ہے خرم صاحب:)
خرم شہزاد خرم — اگست 28، 2008 10:37 صبح
بہت شکریہ آپی جی
ابوشامل — اگست 28، 2008 10:45 صبح
نظم تو اچھی ہے لیکن خرم شہزاد خرم کے نیچے لکھا گیا جملہ اس وقت تو بہت غیر مہذبانہ طرز تخاطب لگ رہا ہے۔
فرخ منظور — اگست 28، 2008 4:58 شام
اچھی نظم ہے خرم -
الف عین — اگست 28، 2008 7:01 شام
فہد۔۔ خرم کی اردو میں نون غنہ غائب ہے شاید۔ نہ جانے کیوں یہ زیادہ تر اسی طرح لکھتے ہیں۔
ابوشامل — اگست 29، 2008 7:27 صبح
لیکن اعجاز صاحب میرے خیال میں ے کے بعد نون غنہ لگانے کے بعد بھی الفاظ جڑیں گے نہیں بلکہ یوں دکھائی دیں گے "دیکھےں"
بہرحال یہ صرف ایک جانب چھوٹی سی توجہ تھی۔
خرم شہزاد خرم — اگست 29، 2008 8:24 صبح
نظم تو اچھی ہے لیکن خرم شہزاد خرم کے نیچے لکھا گیا جملہ اس وقت تو بہت غیر مہذبانہ طرز تخاطب لگ رہا ہے۔

سر اس کے لیے معافی چاہتا ہوں میں نے اس کو تبدیل کر دیا ہے اب ٹھیک ہے
خرم شہزاد خرم — اگست 29، 2008 8:25 صبح
لیکن اعجاز صاحب میرے خیال میں ے کے بعد نون غنہ لگانے کے بعد بھی الفاظ جڑیں گے نہیں بلکہ یوں دکھائی دیں گے "دیکھےں"
بہرحال یہ صرف ایک جانب چھوٹی سی توجہ تھی۔

نظم پر بھی اگر کچھ بات ہو جاتی تو بہتر تھا
ابوشامل — اگست 29، 2008 8:34 صبح
خرم زیادہ ٹینشن مت لیں، یہ ایک بے محل بات تھی۔ نظم کے حوالے سے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کر چکا ہوں۔ پریشان کرنے پر بہت معذرت
خرم شہزاد خرم — اگست 29، 2008 8:46 صبح
خرم زیادہ ٹینشن مت لیں، یہ ایک بے محل بات تھی۔ نظم کے حوالے سے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کر چکا ہوں۔ پریشان کرنے پر بہت معذرت

سر میں پرشان نہیں ہوا آپ نے اصلاح کی اچھا لگا اب کوشش کرؤں گا دوبارہ یہ غلطی نا کرؤں
مرک — اگست 29، 2008 4:37 شام
تو ڈاکٹر سے جوع کریں آپ:laugh::laugh::laugh:
مرک — اگست 29، 2008 4:41 شام
ویسے بہت اچھی غزل ہے میں نے دیکھہ لیا تھا آپ کے کہنے پر دوبارہ دیکھہ رہی ہوں وہی لکھا ہے جو پہلے لکھا وا تھا:laugh::laugh::laugh::laugh:
نوید صادق — اگست 29، 2008 4:45 شام
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل کے اندر ہے
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تری یادیں ستاتی ہیں
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
کبھی تم لوٹ آؤ نا
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
ستاروں کو بتاتا ہوں
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
خرم شہزاد خرم
اس کو بھی دیکھ لیں

پہلے مصرعہ میں "تم" ہے،
چوتھے مصرعہ میں "تم " ہے۔
پانچویں مصرعہ میں " تری" ہے
چھٹے مصرعہ میں " تمہیں" ہے
ساتویں میں " تم" ہے۔
گیارہویں میں "تم" ہے
بارہویں مصرعہ میں "تم" ہے
تیرہویں مصرعہ میں پھر "تم"
کس کو بدلا جائے، پانچویں مصرعہ کو یا باقی تمام کو،فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
ذرا اسے درست کریں، پھر بات کرتے ہیں۔
اور ہاں سند میں مومن کی غزل مت پیش کیجے گا کہ عیب عیب ہی ہوتا ہے۔ اس عیب کو کیا کہتے ہیں، نام تو بھول گیا ہے۔ خیر۔۔۔
مرک — اگست 29، 2008 5:19 شام
یہ کیا ہے؟؟؟
خرم شہزاد خرم — اگست 30، 2008 4:59 صبح
پہلے مصرعہ میں "تم" ہے،
چوتھے مصرعہ میں "تم " ہے۔
پانچویں مصرعہ میں " تری" ہے
چھٹے مصرعہ میں " تمہیں" ہے
ساتویں میں " تم" ہے۔
گیارہویں میں "تم" ہے
بارہویں مصرعہ میں "تم" ہے
تیرہویں مصرعہ میں پھر "تم"
کس کو بدلا جائے، پانچویں مصرعہ کو یا باقی تمام کو،فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
ذرا اسے درست کریں، پھر بات کرتے ہیں۔
اور ہاں سند میں مومن کی غزل مت پیش کیجے گا کہ عیب عیب ہی ہوتا ہے۔ اس عیب کو کیا کہتے ہیں، نام تو بھول گیا ہے۔ خیر۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%85-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%81%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7.14657/