میں تم سے کہہ نہیں سکتا

نوید صادق — اگست 30، 2008 8:37 صبح
جب پوری نظم میں تخاطب کے لئے تم کہا جا رہا ہے تو "تری" کا کوئی جواز نہیں بن پاتا۔
تو کے مقابل "تری" ہوتا ہے
تم کے مقابل "تمہاری"
بات شائد کلئر ہو گئی ہو۔
" تری یادیں ستاتی ہیں" میں تمہاری ہونا چاہیے۔ مثلا" "تمہاری یاد آتی ہے"
میں شائد اردو گرامر کی ساری اصطلاحات بھول گیا ہوں۔
محمد وارث — اگست 30، 2008 9:49 صبح
پہلے مصرعہ میں "تم" ہے،
چوتھے مصرعہ میں "تم " ہے۔
پانچویں مصرعہ میں " تری" ہے
چھٹے مصرعہ میں " تمہیں" ہے
ساتویں میں " تم" ہے۔
گیارہویں میں "تم" ہے
بارہویں مصرعہ میں "تم" ہے
تیرہویں مصرعہ میں پھر "تم"
کس کو بدلا جائے، پانچویں مصرعہ کو یا باقی تمام کو،فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
ذرا اسے درست کریں، پھر بات کرتے ہیں۔
اور ہاں سند میں مومن کی غزل مت پیش کیجے گا کہ عیب عیب ہی ہوتا ہے۔ اس عیب کو کیا کہتے ہیں، نام تو بھول گیا ہے۔ خیر۔۔۔

اس سے ملتے جلتے عیب کو 'شتر گربہ' کہتے ہیں یعنی اونٹ اور بلی (اکھٹے باندھ دینا)، یعنی ایک ہی شعر یا نظم میں کسی جگہ 'تُو' اور کسی جگہ 'آپ' وغیرہ وغیرہ۔
نوید صادق — اگست 30، 2008 9:53 صبح
یہی شتر گربہ میرے ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ شکریہ۔
خرم شہزاد خرم — اگست 30، 2008 10:12 صبح
اچھا اچھا اب سمجھ آ گی ہے نوید بھائی میں صبح سے آپ کو فون کر رہا تھا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے لیکن آپ کا فون ہی بند ہے خیر بہت شکریہ میں اس کو تبدیل کر لیتا ہوں
سیدہ شگفتہ — اگست 30، 2008 10:20 صبح
السلام علیکم خرم ، نظم اچھی لگی ۔
خرم شہزاد خرم — اگست 30، 2008 10:20 صبح
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل کے اندر ہے
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تمہاری یاد آتی ہے
مجھے آ کر ستاتی ہے
بہت یادیں رُلاتی ہیں
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
کبھی تم لوٹ آؤ نا
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
ستاروں کو بتاتا ہوں
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
خرم شہزاد خرم
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
جیا راؤ — اگست 30، 2008 10:25 صبح
ایک بار پھر لکھ دوں ؟
پیاری نظم ہے۔:):)
خرم شہزاد خرم — اگست 30، 2008 10:28 صبح
اک بار پھر کہتا ہوں بہت شکریہ آپی جی
سعود الحسن — اگست 30، 2008 10:39 صبح
خرم صاحب ہمیں تو اصلاح کے بغیر بھی مزا دے رہی تھی، لیکن اب مزید نکھر گئی ہے۔
خرم شہزاد خرم — اگست 30، 2008 10:42 صبح
بہت شکریہ سعود بھائی میں محفل پر آتا ہی اسی لیے ہوں کے یہاں سارے میرے اپنے ہیں جو بہت جلد اصلاح کر دیتے ہیں ورنہ کس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے پسند کرنے کا بہت شکریہ
نوید صادق — اگست 31، 2008 9:19 صبح
اچھا اچھا اب سمجھ آ گی ہے نوید بھائی میں صبح سے آپ کو فون کر رہا تھا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے لیکن آپ کا فون ہی بند ہے خیر بہت شکریہ میں اس کو تبدیل کر لیتا ہوں

خرم! معذرت خواہ ہوں۔ میں دراصل کل تقریبا" سارا دن زمیں سے 250 فٹ اوپر رہا ہوں۔ وہاں موبائل سگنل نہیں آتے۔
نوید صادق — اگست 31، 2008 9:35 صبح
خرم! آپ بھی کہیں گے میں نظم کے پیچھے ہی پڑ گیا ہوں، لیکن جب تک مطمئن نہیں ہو جاتا ، لکھتا رہوں گا،
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل کے اندر ہے
("دل کے اندر" کہنا ضروری ہے کیا؟ "دل میں ہے" کہہ دینا کافی نہیں کیا؟ وزن کا مسئلہ دیکھ بھال کر!!)
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تمہاری یاد آتی ہے
مجھے آ کر ستاتی ہے
بہت یادیں رُلاتی ہیں
( تینوں مصرعے ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ شائد آپ اپنی اس کیفیت پر زور دینا چاہتے ہیں لیکن یوں نہیں ، میرے بھائی! اتنا کہہ دینا بھی تو کافی تھا، تمہاری یاد آتی ہے، مجھے کتنا ستاتی/رلاتی ہے۔ میرے حساب سے تیسری لائن بے کار ہے)
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
کبھی تم لوٹ آؤ نا
( ویسے "کبھی" کی جگہ "تو پھر" لگا کر بھی ایک بار دیکھ لیں ، )
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
("جاگ جانا"- وارث بھائی کیا کہتے ہیں آپ اس جاگ جانے پر)
ستاروں کو بتاتا ہوں
("ستاروں کو بتانا" یار یہ "بتانے" کی جگے کچھ اور لاؤ۔ )
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
بات یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کی آپ کی تخلیق میں کون سے ایسے الفاظ ہیں کہ جنہیں نکال دیا جائے ، تو نظم متاثر نہ ہو، کون سے الفاظ ایسے ہیں جن سے بہتر لفظ موجود ہے۔
باقی دیکھتے ہیں
خرم شہزاد خرم — ستمبر 9، 2008 6:47 صبح
خرم! آپ بھی کہیں گے میں نظم کے پیچھے ہی پڑ گیا ہوں، لیکن جب تک مطمئن نہیں ہو جاتا ، لکھتا رہوں گا،
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل کے اندر ہے
("دل کے اندر" کہنا ضروری ہے کیا؟ "دل میں ہے" کہہ دینا کافی نہیں کیا؟ وزن کا مسئلہ دیکھ بھال کر!!)
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تمہاری یاد آتی ہے
مجھے آ کر ستاتی ہے
بہت یادیں رُلاتی ہیں
( تینوں مصرعے ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ شائد آپ اپنی اس کیفیت پر زور دینا چاہتے ہیں لیکن یوں نہیں ، میرے بھائی! اتنا کہہ دینا بھی تو کافی تھا، تمہاری یاد آتی ہے، مجھے کتنا ستاتی/رلاتی ہے۔ میرے حساب سے تیسری لائن بے کار ہے)
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
کبھی تم لوٹ آؤ نا
( ویسے "کبھی" کی جگہ "تو پھر" لگا کر بھی ایک بار دیکھ لیں ، )
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
("جاگ جانا"- وارث بھائی کیا کہتے ہیں آپ اس جاگ جانے پر)
ستاروں کو بتاتا ہوں
("ستاروں کو بتانا" یار یہ "بتانے" کی جگے کچھ اور لاؤ۔ )
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
بات یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کی آپ کی تخلیق میں کون سے ایسے الفاظ ہیں کہ جنہیں نکال دیا جائے ، تو نظم متاثر نہ ہو، کون سے الفاظ ایسے ہیں جن سے بہتر لفظ موجود ہے۔
باقی دیکھتے ہیں

میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
جو میرے دل میں ہے کب سے
وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا
میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا
تمہاری یاد آتی ہے
مجھے کتنا ستاتی ہے
تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں
تو پھر تم لوٹ آؤ نا
مرے دل میں سماؤنا
میں شب کو جاگ جاتا ہوں
ستاروں کو بتاتا ہوں
میں تم بن رہ نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
خرم شہزاد خرم
سر جی جاگ جاتا ہوں
اور بتاتا ہوں
اس کا آپ ہی کچھ کریں میں نے تو بہت سوچا ہے
الف عین — ستمبر 11، 2008 6:19 صبح
شکریہ نوید۔ مجھے اتنا وقت نہیں ملتا کہ زیادہ تفصیل سے دیکھوں۔ موٹی موٹی باتیں بتا دیتا ہں۔
خرم اب بہتر ہے۔
کنگ پٹھان — ستمبر 13، 2008 5:50 شام
بہت خوب
بہت اچھا
خرم شہزاد خرم — ستمبر 16، 2008 8:51 صبح
بہت شکریہ بھائی جان

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%85-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%81%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7.14657/page-2