دراصل نبیل بھیا! یہ غیر ارادی طور پر لکھی گئی ہے۔ میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ کل شب جب سونے لیٹا تو ایک شعر نے دستک دی
تو مجھے لگا کہ کچھ بن سکتا ہے۔۔۔ لہٰذا میرے دماغ نے چلنا شروع کیا اور میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا اور اسی میں لکھ کر ڈرافٹ محفوظ کرتا رہا۔ یوں یہ صورت نکل آئی۔
تو مجھے لگا کہ کچھ بن سکتا ہے۔۔۔ لہٰذا میرے دماغ نے چلنا شروع کیا اور میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا اور اسی میں لکھ کر ڈرافٹ محفوظ کرتا رہا۔ یوں یہ صورت نکل آئی۔

کرنی پڑے گی..