نظم: ڈر لگتا ہے۔۔۔ محمد بلال اعظم

محمد بلال اعظم — جنوری 20، 2016 12:55 شام
ایک نظم جو اے پی ایس پشاور کے شہداء کے لئے لکھی تھی۔۔۔ آج باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پہ ہونے والے حملے کے بعد پھر یاد آ گئی :cry::cry::cry:
ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
( آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید طلباء کے نام)

پھر وہی صبح کہ جس صبح نے مانگا آ کر
تنِ مجروح سے صد چاک لبادے کا خراج
پھر وہی شام کہ جس شام کے دامن میں ہے
میرے لفظوں کی اداسی، میری آنکھوں کا مزاج
پھر وہی رنگ کہ جس رنگ سے اوراقِ حیات
جب لہو رنگ ہوئے، آنکھ بھی کھل کر برسی
پھر وہی ابرِ عداوت کی گھٹا، ربِ دعا!
کیوں مرے دیس کے بچوں پہ ہی اکثر برسی
میرے بچوں کی شہادت یہ گواہی دے گی
ہم نے شہ رگ کا لہو دے کے نکھاریں ہیں نجوم
میرے بچوں کی شہادت نے یہ پیغام دیا
تازہ تر ہم سے ہوئیں آج شجاعت کی رسوم
پھر مرے دیس پہ اترا ہے یہ پرنم موسم
در و دیوار پہ صدیوں کی تھکن طاری ہے
عرصۂ ظلم کی ساعت کو تو صدیاں بیتیں
دھوپ کے دشت میں وحشت کا سفر جاری ہے
میں نے دیکھے ہیں کئی شمس و قمر آبلہ پا
میری آنکھوں نے سمیٹا ہے دھواں خوابوں کا
میرے بچوں کے وہ بکھرے ہوئے لاشے چننے
قافلہ اترا مرے شہر پہ مہتابوں کا
حوصلہ لاؤں کہاں سے کہ وہ مائیں دیکھوں
درد اتنا ہے کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ہوں
آنچ اتنی ہے کہ یخ بستہ نفس بھی پگھلا
لفظ ایسے ہیں کہ میں سہہ بھی نہیں سکتا ہوں
شامِ وحشت کی طوالت سے بھی خوف آتا ہے
اب قلم، کاپی، کتابوں سے بھی ڈر لگتا ہے
میں نے قبروں کی رداؤں پہ بھی دیکھا ہے انہیں
ماں! مجھے سرخ گلابوں سے بھی ڈر لگتا ہے
محمد بلال اعظم
نور وجدان — جنوری 20، 2016 1:02 شام
آج کے دن اس موقع پر واقعی ہی پر نم کرتی ایک خوبصورت نظم ۔۔ ڈر لگتا ہے ۔۔
محمد بلال اعظم — جنوری 20، 2016 1:12 شام
آج کے دن اس موقع پر واقعی ہی پر نم کرتی ایک خوبصورت نظم ۔۔ ڈر لگتا ہے ۔۔
کاش یہ سب نہ ہوتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ :(
قرۃالعین اعوان — جنوری 20، 2016 1:29 شام
ڈر لگتا ہے اور دل کہتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ..
جیسے خلا میں معلق ہوں...ہماری درسگاہیں تک محفوظ نہیں ..
کیا بو رہے ہیں ہم کہ بس خسارہ ہی خسارہ ہے :(
چھوٹے بھیا بہت روانی ہے آپ کے کلام میں..
خوبصورتی ہے ..!! حساسیت ہے..!!
لاریب مرزا — جنوری 20، 2016 1:39 شام
حوصلہ لاؤں کہاں سے کہ وہ مائیں دیکھوں :love-over:
:cry::cry:
مشکل ہے اس موضوع پہ کچھ کہنا، میرے پاس تو الفاظ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ :(
ہمارے احساسات کی ہی ترجمانی کرتی ہوئی ایک اعلیٰ تحریر.. :(
نایاب — جنوری 20، 2016 1:51 شام
کسی بھی داد سے بےنیاز اداس کرتی اک سچی نظم
بہت دعائیں
سعیدالرحمن سعید — جنوری 20، 2016 3:02 شام
اللہ پناہ دے ۔ اک المیہ در المیہ ، اک سانحہ در سانحہ ہے شب روز
سید اسد معروف — جنوری 20، 2016 3:48 شام
بہت عمدگی سے ہم سب کے احساسات کی ترجمانی کی آپ نے۔ بہت خوب
مگر المیہ یہ ہے کہ آج چارسدہ میں پھر وہی کہانی دھرانے کی کوشش کی گئی۔ اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ آمین
فاتح — جنوری 20، 2016 4:57 شام
احساسات کی بہت پر سوز عکاسی کی ہے بلال جیتے رہو
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2016 5:01 شام
لا جواب۔ کرب کا اظہار اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا۔ جزاک اللہ
اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر رحم فرمائے، اور ظالموں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2016 5:08 شام
پروفیسر ڈاکٹر حامد حسین برسٹول یونیورسٹی یو کے سے کیمسٹری میں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کرنے کے بعد واپس ملک آ کر معمارِ قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ انہوں نے طلبہ کو بچانے کے لئے دشمن پر فائر بھی کئے اور اسی کوشش میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اللہ ان کی قربانی کو قبول فرمائے۔ آمین۔
12508954_10207717810076864_8538552278345060943_n.jpg
سارہ خان — جنوری 20، 2016 6:12 شام
پروفیسر ڈاکٹر حامد حسین برسٹول یونیورسٹی یو کے سے کیمسٹری میں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کرنے کے بعد واپس ملک آ کر معمارِ قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ انہوں نے طلبہ کو بچانے کے لئے دشمن پر فائر بھی کئے اور اسی کوشش میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اللہ ان کی قربانی کو قبول فرمائے۔ آمین۔
12508954_10207717810076864_8538552278345060943_n.jpg
:weep::weep::(
یوسف سلطان — جنوری 20، 2016 6:17 شام
ایک نظم جو اے پی ایس پشاور کے شہداء کے لئے لکھی تھی۔۔۔ آج باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پہ ہونے والے حملے کے بعد پھر یاد آ گئی :cry::cry::cry:
ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
( آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید طلباء کے نام)

پھر وہی صبح کہ جس صبح نے مانگا آ کر
تنِ مجروح سے صد چاک لبادے کا خراج
پھر وہی شام کہ جس شام کے دامن میں ہے
میرے لفظوں کی اداسی، میری آنکھوں کا مزاج
پھر وہی رنگ کہ جس رنگ سے اوراقِ حیات
جب لہو رنگ ہوئے، آنکھ بھی کھل کر برسی
پھر وہی ابرِ عداوت کی گھٹا، ربِ دعا!
کیوں مرے دیس کے بچوں پہ ہی اکثر برسی
میرے بچوں کی شہادت یہ گواہی دے گی
ہم نے شہ رگ کا لہو دے کے نکھاریں ہیں نجوم
میرے بچوں کی شہادت نے یہ پیغام دیا
تازہ تر ہم سے ہوئیں آج شجاعت کی رسوم
پھر مرے دیس پہ اترا ہے یہ پرنم موسم
در و دیوار پہ صدیوں کی تھکن طاری ہے
عرصۂ ظلم کی ساعت کو تو صدیاں بیتیں
دھوپ کے دشت میں وحشت کا سفر جاری ہے
میں نے دیکھے ہیں کئی شمس و قمر آبلہ پا
میری آنکھوں نے سمیٹا ہے دھواں خوابوں کا
میرے بچوں کے وہ بکھرے ہوئے لاشے چننے
قافلہ اترا مرے شہر پہ مہتابوں کا
حوصلہ لاؤں کہاں سے کہ وہ مائیں دیکھوں
درد اتنا ہے کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ہوں
آنچ اتنی ہے کہ یخ بستہ نفس بھی پگھلا
لفظ ایسے ہیں کہ میں سہہ بھی نہیں سکتا ہوں
شامِ وحشت کی طوالت سے بھی خوف آتا ہے
اب قلم، کاپی، کتابوں سے بھی ڈر لگتا ہے
میں نے قبروں کی رداؤں پہ بھی دیکھا ہے انہیں
ماں! مجھے سرخ گلابوں سے بھی ڈر لگتا ہے
محمد بلال اعظم
:(:(:(
اللہ پاک شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔آمین
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 6:41 شام
بلال بھائی آپ کے جذبات میں دل برابر کا شریک ہے ۔ کیا عکاسی کی ہے آپ نے !
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
مجھے یونیورسٹی والےاس تازہ واقعہ کا علم نہیں تھا ۔ اس دھاگے کی وجہ سے علم ہوا ۔ ظالموں کو ایک حد تک ہی ڈھیل ملتی ہے ۔ اللہ کرے ان ظالموں کا انجام قریب ہو ۔ خدا سب کو اپنی امان میں رکھے۔
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:02 شام
ڈر لگتا ہے اور دل کہتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ..
جیسے خلا میں معلق ہوں...ہماری درسگاہیں تک محفوظ نہیں ..
کیا بو رہے ہیں ہم کہ بس خسارہ ہی خسارہ ہے :(
چھوٹے بھیا بہت روانی ہے آپ کے کلام میں..
خوبصورتی ہے ..!! حساسیت ہے..!!
جہاں ترجیحات تعلیم کی بجائے کچھ اور ہوں، وہاں یہی ہوتا ہے۔۔۔ حکومت اور عوام دونوں قصوروار ہیں
:(
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:04 شام
حوصلہ لاؤں کہاں سے کہ وہ مائیں دیکھوں :love-over:
:cry::cry:
مشکل ہے اس موضوع پہ کچھ کہنا، میرے پاس تو الفاظ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ :(
ہمارے احساسات کی ہی ترجمانی کرتی ہوئی ایک اعلیٰ تحریر.. :(
ہم چاہ کر بھی اُن ماؤں کا دکھ محسوس نہیں کر سکتے
:(:(
کاش یہ سب نہ ہوتا :cry:
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:06 شام
کسی بھی داد سے بےنیاز اداس کرتی اک سچی نظم
بہت دعائیں
آپ کی یہ دعائیں میرا سرمایہ ہیں
اللہ آپ کو سلامت رکھے
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:07 شام
اللہ پناہ دے ۔ اک المیہ در المیہ ، اک سانحہ در سانحہ ہے شب روز
اور ہم پھر بھی کچھ نہیں سیکھتے :(
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:08 شام
بہت عمدگی سے ہم سب کے احساسات کی ترجمانی کی آپ نے۔ بہت خوب
مگر المیہ یہ ہے کہ آج چارسدہ میں پھر وہی کہانی دھرانے کی کوشش کی گئی۔ اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ آمین
ثم آمین
اور نجانے کب یہ سلسلہ رکے گا۔۔۔۔
محمد بلال اعظم — جنوری 22، 2016 4:34 شام
احساسات کی بہت پر سوز عکاسی کی ہے بلال جیتے رہو
شکریہ فاتح بھائی
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%88%D8%B1-%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85.87343/