نظم: ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے!

محب اردو — نومبر 20، 2013 10:19 شام
کیا خوب کہا جناب ۔
مکرر ارشاد ۔۔۔ مکرر ارشاد ۔۔۔ یہاں کہا جا سکتا ہے ؟ :confused::)
زبیر مرزا — نومبر 20، 2013 11:22 شام
واہ جناب بہت عمدہ نظم
ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں آپ جائیے
کیا کہنے ہیں اس میں کئی طویل مضامین کو قید کردیا ہے
مہدی نقوی حجاز — نومبر 21، 2013 4:18 صبح
کیا خوب کہا جناب ۔
مکرر ارشاد ۔۔۔ مکرر ارشاد ۔۔۔ یہاں کہا جا سکتا ہے ؟ :confused::)
آداب حضور۔ شکریہ! :)
مہدی نقوی حجاز — نومبر 21، 2013 4:18 صبح
واہ جناب بہت عمدہ نظم
ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں آپ جائیے
کیا کہنے ہیں اس میں کئی طویل مضامین کو قید کردیا ہے
مرزا صاحب حوصلہ افزائی کی خاطر شکر گزار ہوں۔ آداب۔
نیرنگ خیال — نومبر 21، 2013 4:22 صبح
گر ٹھان لی ہے جانے کی تو جائیے بہ شوق
پہنا کے اس غریب کو بیگانگی کا طوق
تنہائیِ حجازؔ پہ مت رحم کھائیے
ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے
واہ سرکار۔۔۔ واہ۔۔۔۔ لاجواب۔۔۔ عمدہ اور اعلیٰ۔۔۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 21، 2013 4:24 صبح
گر ٹھان لی ہے جانے کی تو جائیے بہ شوق
پہنا کے اس غریب کو بیگانگی کا طوق
تنہائیِ حجازؔ پہ مت رحم کھائیے
ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے
واہ سرکار۔۔۔ واہ۔۔۔ ۔ لاجواب۔۔۔ عمدہ اور اعلیٰ۔۔۔
آداب حضور۔ آپ نے کوچۂ آلکساں سے اٹھ تشریف لانے کی زحمت فرمائی، یہی کافی ہے ہماری حوصلہ افزائی کو!! :)
نیرنگ خیال — نومبر 21، 2013 4:34 صبح
آداب حضور۔ آپ نے کوچۂ آلکساں سے اٹھ تشریف لانے کی زحمت فرمائی، یہی کافی ہے ہماری حوصلہ افزائی کو!! :)
بس بات آپ کی تخلیق کی ہو تو پھر کہیں بھی جانے کو تیار ہیں۔۔۔ :)
شاہد شاہنواز — نومبر 21، 2013 9:08 شام
نظم بہت محنت سے لکھی ہے برادر مہدی نقوی حجاز۔۔۔
ہمار ے ہاں اس بات کو بہت کم سمجھا جاتا ہے کہ شاعری پر محنت کتنی ہوئی اور اسے چمکایا کتنا گیا، یہ زیادہ دیکھتے ہیں کہ مضامین کتنے پرانے یا نئے ہیں۔۔
واصف علی واصف نے اس ضمن میں بڑی خوب بات کہی۔۔ فرماتے ہیں کروڑوں سال پرانی کائنات کو انسان کھوجنے نکلتا ہے اور سوچتا ہے کہ اسے کچھ نیا ملے گا۔ پھر ایک جگہ اور کہتے ہیں کہ بے شک کائنات پرانی ہے لیکن اس کا نیا پن کبھی ختم نہیں ہوتا۔
یہی اس نظم پر میرا تاثر ہے کہ سارے ہی مضامین مجھے پرانے لگے لیکن محنت کا نتیجہ صرف اتنا کہ پوری نظم پرانے مضامین کے باوجود نیا تاثر دینے میں کامیاب رہی۔۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 22، 2013 9:31 صبح
نظم بہت محنت سے لکھی ہے برادر مہدی نقوی حجاز۔۔۔
ہمار ے ہاں اس بات کو بہت کم سمجھا جاتا ہے کہ شاعری پر محنت کتنی ہوئی اور اسے چمکایا کتنا گیا، یہ زیادہ دیکھتے ہیں کہ مضامین کتنے پرانے یا نئے ہیں۔۔
واصف علی واصف نے اس ضمن میں بڑی خوب بات کہی۔۔ فرماتے ہیں کروڑوں سال پرانی کائنات کو انسان کھوجنے نکلتا ہے اور سوچتا ہے کہ اسے کچھ نیا ملے گا۔ پھر ایک جگہ اور کہتے ہیں کہ بے شک کائنات پرانی ہے لیکن اس کا نیا پن کبھی ختم نہیں ہوتا۔
یہی اس نظم پر میرا تاثر ہے کہ سارے ہی مضامین مجھے پرانے لگے لیکن محنت کا نتیجہ صرف اتنا کہ پوری نظم پرانے مضامین کے باوجود نیا تاثر دینے میں کامیاب رہی۔۔
آپ کی آنکھ خوبصورت اور نیا دیکھتی ہے محترم۔ ورنہ بندے کی کاوش کس قابل ہے۔ بہت شکریہ آداب۔
ابن رضا — نومبر 22، 2013 9:45 صبح
عمدہ کاوش پر مبارک باد۔
اللہ حُسنِ قلم میں مزید نکھار عطا کرے
مہدی نقوی حجاز — نومبر 23، 2013 2:37 شام
عمدہ کاوش پر مبارک باد۔
اللہ حُسنِ قلم میں مزید نکھار عطا کرے
آداب حضور۔ نوازش
مدیحہ گیلانی — جنوری 1، 2014 1:38 شام
واہ واہ بہت عمدہ نظم ہے بھئی ۔
جیتے رہیں :)
نوید رزاق بٹ — جنوری 1، 2014 2:24 شام
۔
تنہائیِ حجازؔ پہ مت رحم کھائیے
ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے

بہت خوب جناب :)۔ ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے۔
بھلکڑ — جنوری 1، 2014 2:39 شام
خوبصورت نظم!
:) :) :)
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 2:45 شام
واہ واہ بہت عمدہ نظم ہے بھئی ۔
جیتے رہیں :)
بہت آداب محترمہ، نوازش۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 2:46 شام
بہت خوب جناب :)۔ ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے۔
حضور، ابھی آپ کے پائے کا کلام کہاں ہوتا ہے ہمارا
بہرکیف آداب، نوازش۔ خوش رہیں۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%85-%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%81-%D8%AC%D8%A6%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D8%A2%D9%BE-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.69454/page-2