نظم ۔۔۔آنگن۔۔۔از محمد احمدؔ

ماہی احمد — جنوری 30، 2021 2:40 شام
ماشاءاللہ کتنی پیاری نظم لکھی ہے آپ نے۔۔۔۔ اللہ پاک آپ پر رحمت کرے۔۔۔۔ ایک بہترین موضوع انتہائی خوبصورت مگر سادہ ترین انداز۔۔۔ کوئی گنجلک باتیں نہیں۔۔۔۔ میری طرف سے شکریہ:)
محمد عبدالرؤوف — جنوری 30، 2021 2:51 شام
واہ احمد بھائی مزہ آ گیا
گو کہ میں ایک چھوٹے شہر سے ہوں مگر یہاں بھی صورتحال اچھی نہیں ہے یہاں بھی دیہاتوں کو کاٹ کاٹ کر ٹاؤن بنائے جا رہے ہیں
ایس ایس ساگر — جنوری 30، 2021 3:54 شام
بہت عمدہ اور خوبصورت نظم۔
ڈھیروں داد و تحسین قبول فرمائیے محمداحمد بھائی۔
اللہ آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں۔ آمین۔
محمداحمد — فروری 3، 2021 12:39 شام
بہت اعلیٰ !
ڈھیر ساری دعائیں سلامت رہیے !!!!

بہت شکریہ!
محمداحمد — فروری 3، 2021 12:40 شام
احمد بھیا آپ نے باز نہیں آنا :nottalking:

پرانی عادتیں اتنی آسانی سے جان نہیں چھوڑتیں۔ :)
محمداحمد — فروری 3، 2021 12:40 شام
ماشاءاللہ کتنی پیاری نظم لکھی ہے آپ نے۔۔۔۔ اللہ پاک آپ پر رحمت کرے۔۔۔۔ ایک بہترین موضوع انتہائی خوبصورت مگر سادہ ترین انداز۔۔۔ کوئی گنجلک باتیں نہیں۔۔۔۔ میری طرف سے شکریہ:)

بہت شکریہ ماہی!
خوش رہیے!
محمداحمد — فروری 3، 2021 12:41 شام
واہ احمد بھائی مزہ آ گیا
گو کہ میں ایک چھوٹے شہر سے ہوں مگر یہاں بھی صورتحال اچھی نہیں ہے یہاں بھی دیہاتوں کو کاٹ کاٹ کر ٹاؤن بنائے جا رہے ہیں

بہت شکریہ بھائی!
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ آمین۔
محمداحمد — فروری 3، 2021 12:41 شام
بہت عمدہ اور خوبصورت نظم۔
ڈھیروں داد و تحسین قبول فرمائیے محمداحمد بھائی۔
اللہ آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں۔ آمین۔

بہت بہت شکریہ جناب ایس ایس ساگر صاحب!
حوصلہ افزائی اور دعا کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
عرفان علوی — فروری 7، 2021 4:21 شام
آنگن
یہ میرا گھر ہے
یہ میرا کمرہ کہ جس میں بیٹھا
میں اپنے آنگن کو دیکھتا ہوں
کشادہ آنگن کہ جس میں مٹی کی سُرخ
اینٹیں بچھی ہوئی ہیں
کیاریوں میں سجیلے گُل ہیں
حسین بیلیں قطار اندر قطار دیوار پر چڑھی ہیں
بسیط آنگن کے ایک کونے میں اک شجر ہے
شجر کے پتے ہوا کے ہمراہ جھومتے ہیں
میں اپنے کمرے سے دیکھتا ہوں
کہ میرے بچے شجر کے اطراف
اپنے ہمجولیوں کے ہمراہ گھومتے ہیں
عجب مُسرت سے اُن کی آنکھیں دمک رہی ہیں
اور اُن کے چہرے خوشی سے پیہم چمک رہے ہیں
ہوا میں نکہت ہے اور شجر پر
پرندے بیٹھے چہک رہے ہیں
اِک ایسا منظر کہ جس کی ضو سے
چمک رہا ہے مرا بھی چہرہ
سکوں کا احساس ہے فزوں تر
خوشی کا ہر رنگ، ہر تاثر
ہر ایک پل ہو رہا ہے گہرا
میں سوچتا ہوں کہ اس مسرت سے بڑھ کے کوئی خوشی نہیں ہے
جہاں کا سب سے حسین منظر
یہاں نہیں تو کہیں نہیں ہے
مگر یکایک!
مگر یکا یک! یہ سارا منظر ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے
میں اپنے بستر پہ ہوں، کوئی ہے
جو مجھ کو پیہم پکارتا ہے
میں دیکھتا ہوں کہ میرے بچے
مجھے مسلسل ہلا رہے ہیں، جگا رہے ہیں
میں اُٹھ کے بیٹھا ہوں اپنی آنکھوں کو مل رہا ہوں
میں دیکھتا ہوں
میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ آنگن نہ وہ شجر ہے
طیور ہی ہیں نہ تو ہواؤں کی رہگزر ہے
میں دیکھتا ہوں کہ میرے آنگن پہ چھت پڑی ہے
کہیں سے آنگن میں ایک دیوار آ گڑی ہے
میں دیکھتا ہوں، کشادہ آنگن جو تھا کبھی اب
وہ تِیرہ کمروں میں بٹ گیا ہے
اُجالوں جیسا تھا خواب میرا جو
تیرہ بختی سے اَٹ گیا ہے
میں دیکھتا ہوں کہ میرے بچے
مجھے جگاتے ہیں ،
پارک چلنے کا کہہ رہے ہیں
میں سوچتا ہوں!
میں سوچتا ہوں کہ اُن کو کیسے بتاؤں آخر
کہ پارک جو تھا
وہ زرپرستوں کی حرص کی نذر ہو چکا ہے
وہاں پہ اب اِک پلازہ تعمیر ہو رہا ہے
محمد احمد ؔ

محمد احمد صاحب، سلام عرض ہے!
بہت عمدہ نظم ہے ۔ داد قبول فرمائیے ۔
نیازمند،
عرفان عؔابد
محمداحمد — فروری 9، 2021 9:36 صبح
محمد احمد صاحب، سلام عرض ہے!
بہت عمدہ نظم ہے ۔ داد قبول فرمائیے ۔
نیازمند،
عرفان عؔابد

بہت شکریہ عرفان صاحب!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
سید رافع — جون 11، 2021 4:34 شام
بہت ہی خوبصورت نظم ہے۔ آنگن کی کمی ہے۔ آہ!
لاريب اخلاص — جون 13، 2021 12:24 صبح
کیاریوں میں سجیلے گُل ہیں
حسین بیلیں قطار اندر قطار دیوار پر چڑھی ہیں
واہ!
بہت عمدہ نظم!
غزل ہی نہیں کبھی کبھی نظم بھی دل میں اتر جاتی ہے۔
نیرنگ خیال — جون 24، 2021 11:45 صبح
بہت خوبصورت نظم ہے۔۔ اور ہمارا المیہ بھی۔۔۔ کمال احمد بھائی۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔
نیرنگ خیال — جون 24، 2021 12:03 شام
جو بھی اچھی نظم پڑھتی ہوں، مجھے لگتا ہے یہ میں نے کہی ہے۔
بس یہ بھی میری کہی ہوئی ہے۔:)
آپ نے کتنی اچھی بات کہی ہے۔ خاص کر احمد بھائی کو پڑھ کر یہی محسوس ہوتا ہے۔۔۔ جیسے یہی شعر دیکھیں ان کا۔۔۔
میں نقش گر ہوں، تبسّم لبوں پہ رکھتا ہوں
مجھے پسند نہیں سوگوار تصویریں
ایسا لگتا ہے جیسے میں نے ہی کہا ہو۔۔۔۔
محمد عبدالرؤوف — جون 24، 2021 12:15 شام
جو بھی اچھی نظم پڑھتی ہوں، مجھے لگتا ہے یہ میں نے کہی ہے۔
بس یہ بھی میری کہی ہوئی ہے۔:)

ایسا لگتا ہے جیسے میں نے ہی کہا ہو۔۔۔۔

احمد بھائی جلدی سے آئیں یہاں پر قبضہ گروپ کا ”لُٹ پروگرام“ چل رہا ہے :)
محمداحمد — جون 24، 2021 12:35 شام
احمد بھائی جلدی سے آئیں یہاں پر قبضہ گروپ کا ”لُٹ پروگرام“ چل رہا ہے :)
ہاہاہاہا۔۔۔!
ارے عبدالرؤوف بھائی! یہ تو بڑی بات ہے کہ اتنے اچھے اچھے لوگوں سے آپ کی فریکوئنسی مل جائے۔ :) :)
ایسا تو قسمت سے ہی ہوتا ہے۔ :) :) :)
محمداحمد — جون 24، 2021 12:35 شام
بہت ہی خوبصورت نظم ہے۔ آنگن کی کمی ہے۔ آہ!

بہت شکریہ رافع بھائی!
ممنون ہوں۔
گُلِ یاسمیں — جون 24، 2021 3:11 شام
بہت زبردست
کیا خوب منظر کشی کی ہے کہ لگتا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔۔ آنگن، پیڑ، بیلیں،گل اور کھیلتے بچوں نے بھرپور تازگی کا احساس دلایا
مگر پھر تیرہ کمروں اور آنگن کی چھت کا ذکر آتے ہی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہونے کے باوجود گھٹن محسوس ہوئی ۔ بہت باکنال نقشہ کھینچا ہے
خوش رہئیے اور لکھتے رہئیے
محمد عبدالرؤوف — جون 24، 2021 3:19 شام
اب کہاں کہاں اصلاح کرتے پھریں
"کلی جندڑی تے دکھ ہزاراں"
گُلِ یاسمیں — جون 24، 2021 3:32 شام
اب کہاں کہاں اصلاح کرتے پھریں
"کلہی جندڑی تے دکھ ہزاراں"
پہلے اپنا کلی درست کریں نا :rollingonthefloor:
با کنال یعنی کہ ایک کنال رقبے کا نقشہ کھینچا ہے کیونکہ بیلیں بوٹے پرندے بچے سب کچھ تو ہے اور یہ سب ایک مرلے میں تھوڑی سماتا ہے
آپ تو یہ شکر کیجئیے کہ ہم نے با کنال لکھا
اگر با ایکڑ لکھا ہوتا تو؟؟؟:rollingonthefloor:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A2%D9%86%DA%AF%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.114851/page-2