ہاہاہاہا ۔۔۔۔! یہ زیبِ داستاں ہے جتنی بڑھائیں اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔
جی ابنِ رضا بھائی نے راہ تو سُجھائی ہے لیکن فی الحال ایسے ہی چلا رہے ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں اس سلسلے میں۔
جناب میری ناقص رائے یہ ہے کہ "خندہ" بجائے "خنداں" آ ہی نہیں سکتا! "خندہ" مصدر ہے "ہنسنا"، اور "خنداں" صفت ہے "ہنستا ہوا"۔ لہٰذا کیوں کر ہم خندہ کو بجائے خنداں باندھ سکتے ہیں؟؟ میرے خیال سے خنداں کو رہنے دیں اور خیرہ کو حیراں کر دیجیے! ویسے بھی خیرہ کی ہ الف پڑھی جا رہی ہے۔ (اسے اگر اصلاح تصور کیا گیا تو میرے ساتھ زیادتی ہوگی!
معذرت میں غلط کہہ گیا! خندہ یعنی ہنسی! اور خندیدن مصدر ہے۔ در اصل فارسی سے اردو میں آتے آتے اتنا کچھ بگڑ جاتا ہے کہ خبر ہی نہیں ہوتی!
چلیں جی قبلہ اسی طرح تحقیق و استفسار سے ہم جیسے نو آموز لوگوں کے سیکھنے کا عمل بھی تقویت پاتا رہتا ہے۔ جزاک اللہ