نظم : ۔۔۔۔۔ خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔ از : محمد احمد

محمداحمد — نومبر 7، 2013 9:21 صبح
بھئی واہ! کیا خوب نظم ہے۔ مدت بعد آپ کا تازہ کلام پڑھا جناب۔ لیکن حیف کہ انجام، یعنی جس کی سالگرہ تھی اس کا "ری ایکشن" تشنہ چھوڑ دیا!! :) :) :)

ہاہاہاہا ۔۔۔۔! یہ زیبِ داستاں ہے جتنی بڑھائیں اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ :)
دوسرا شعر غیر مقفی ہے! :) :)

جی ابنِ رضا بھائی نے راہ تو سُجھائی ہے لیکن فی الحال ایسے ہی چلا رہے ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں اس سلسلے میں۔
محمداحمد — نومبر 7، 2013 9:28 صبح
واہ ۔۔عمدہ!
زبردست احمد بھائی :)

ارے واہ ۔۔۔ ! آپ شاعری کے دھاگے میں۔
بہت بہت شکریہ ۔ :)
عائشہ عزیز — نومبر 7، 2013 9:29 صبح
ارے واہ ۔۔۔ ! آپ شاعری کے دھاگے میں۔
بہت بہت شکریہ ۔ :)
:)
فلک شیر — نومبر 7، 2013 10:02 صبح
سبحان اللہ۔۔۔بہت خوب احمد بھائی
الف عین — نومبر 7، 2013 10:19 صبح
بہت خوب۔ لیکن خنداں اور خیرہ تو قوافی نہیں ہیں؟؟
محمداحمد — نومبر 7، 2013 10:21 صبح
سبحان اللہ۔۔۔ بہت خوب احمد بھائی

بہت شکریہ فلک شیر بھائی۔۔۔!
الف عین — نومبر 7، 2013 10:22 صبح
بہت خوب۔ لیکن خنداں اور خیرہ تو قوافی نہیں ہیں؟؟
محمداحمد — نومبر 7، 2013 10:23 صبح
بہت خوب۔ لیکن خنداں اور خیرہ تو قوافی نہیں ہیں؟؟

بہت شکریہ اعجاز عبید صاحب،
جی بالکل یہاں قافیہ کا دھیان نہیں کیا میں نے۔
کیا "خندہ" کا لفظ "خنداں" کی جگہ استعمال کیا جا سکتاہے۔
ماہی احمد — نومبر 7، 2013 10:34 صبح
بہت عمدہ جناب، بہت ہی خوب لکھا :)
الف عین — نومبر 7، 2013 10:38 صبح
مفہوم کے لحاظ سے درست تو خنداں ہی ہے، لیکن یہاں بھی لایا جا سکتا ہے، میرے خیال میں کوئی حرج نہیں
مہدی نقوی حجاز — نومبر 7، 2013 12:31 شام
ہاہاہاہا ۔۔۔ ۔! یہ زیبِ داستاں ہے جتنی بڑھائیں اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ :)
جی ابنِ رضا بھائی نے راہ تو سُجھائی ہے لیکن فی الحال ایسے ہی چلا رہے ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں اس سلسلے میں۔
جناب میری ناقص رائے یہ ہے کہ "خندہ" بجائے "خنداں" آ ہی نہیں سکتا! "خندہ" مصدر ہے "ہنسنا"، اور "خنداں" صفت ہے "ہنستا ہوا"۔ لہٰذا کیوں کر ہم خندہ کو بجائے خنداں باندھ سکتے ہیں؟؟ میرے خیال سے خنداں کو رہنے دیں اور خیرہ کو حیراں کر دیجیے! ویسے بھی خیرہ کی ہ الف پڑھی جا رہی ہے۔ (اسے اگر اصلاح تصور کیا گیا تو میرے ساتھ زیادتی ہوگی! :) )
ابن رضا — نومبر 7، 2013 12:47 شام
جناب میری ناقص رائے یہ ہے کہ "خندہ" بجائے "خنداں" آ ہی نہیں سکتا! "خندہ" مصدر ہے "ہنسنا"، اور "خنداں" صفت ہے "ہنستا ہوا"۔ لہٰذا کیوں کر ہم خندہ کو بجائے خنداں باندھ سکتے ہیں؟؟ میرے خیال سے خنداں کو رہنے دیں اور خیرہ کو حیراں کر دیجیے! ویسے بھی خیرہ کی ہ الف پڑھی جا رہی ہے۔ (اسے اگر اصلاح تصور کیا گیا تو میرے ساتھ زیادتی ہوگی! :) )

مہدی بھائی "خندہ" تو اسمِ کیفیت ہے؟؟؟؟ مصدر کی کوئی مثال ہو تو از راہِ علم شریک کریں۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 7، 2013 12:55 شام
مہدی بھائی "خندہ" تو اسمِ کیفیت ہے؟؟؟؟ مصدر کی کوئی مثال ہو تو از راہِ علم شریک کریں۔
معذرت میں غلط کہہ گیا! خندہ یعنی ہنسی! اور خندیدن مصدر ہے۔ در اصل فارسی سے اردو میں آتے آتے اتنا کچھ بگڑ جاتا ہے کہ خبر ہی نہیں ہوتی! :) :)
زبیر مرزا — نومبر 7، 2013 12:58 شام
واہ جناب بہت خُوب
ابن رضا — نومبر 7، 2013 12:58 شام
معذرت میں غلط کہہ گیا! خندہ یعنی ہنسی! اور خندیدن مصدر ہے۔ در اصل فارسی سے اردو میں آتے آتے اتنا کچھ بگڑ جاتا ہے کہ خبر ہی نہیں ہوتی! :) :)
چلیں جی قبلہ اسی طرح تحقیق و استفسار سے ہم جیسے نو آموز لوگوں کے سیکھنے کا عمل بھی تقویت پاتا رہتا ہے۔ جزاک اللہ
محمداحمد — نومبر 8، 2013 5:59 صبح
بہت عمدہ جناب، بہت ہی خوب لکھا :)

بہت شکریہ ماہی احمد !
محمداحمد — نومبر 8، 2013 6:00 صبح

بہت بہت شکریہ زبیر بھائی۔۔۔!
آپ کی طرف سے داد کا ملنا بڑی خوش آئند بات ہے۔ :)
مدیحہ گیلانی — جنوری 1، 2014 1:25 شام
واہ واہ واہ!!
بہت ہی عمدہ ،لاجواب اور کمال کی نظم ہے ۔
جیتے رہیں اور یونہی لکھتے رہیں:)
نوید رزاق بٹ — جنوری 1، 2014 2:29 شام
خالی ہاتھ
کل ترے جنم دن پر ، کتنے لوگ آئے تھے
کیسے کیسے تحفوں میں آس رکھ کے لائے تھے
زر نگار تحفوں سے چشم چشم خیرہ تھی
چار سو تصنُع تھا، ساری بزم خنداں تھی
اِ س نمودِ ثروت میں ، ایک نادر و نادار
خود سے بے پناہ نالاں، دل سے برسرِ پیکار
صرف تجھ سے ملنے کو ایسا بھی تو آیا تھا
جس کے زرد چہرے پر دھوپ تھی نہ سایہ تھا
لیکن اُس کے آنے سے بام و در مہکتے تھے
سنگ و خشت گلیوں کے سر بہ سر مہکتے تھے
تو بھی جانتا ہوگا، یہ ترے گلی کوچے
گو صبا سے واقف تھے، نخلِ گل نہ تھے پہلے
پر یہ بزمِ کیف آگیں کیا کسی کو سمجھائے
ملتفت جہاں تجھ پر کون تجھ کو بتلائے
وہ جو تیرے ملنے کو خالی ہاتھ آیا تھا
دامنِ دریدہ میں پھول رکھ کے لایا تھا
محمد احمدؔ

۔۔

بہت خوب نظم ہے۔ بہت سی داد قبول فرمائیں۔
محمداحمد — جنوری 2، 2014 10:10 صبح
واہ واہ واہ!!
بہت ہی عمدہ ،لاجواب اور کمال کی نظم ہے ۔
جیتے رہیں اور یونہی لکھتے رہیں:)

بہت شکریہ مدیحہ گیلانی صاحبہ ۔۔۔۔۔!
حوصلہ افزائی اور دعاؤں کےلئے ممنون ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.69080/page-2