”القلم“ معرف باللام کا عطف قرطاس و لوح پر بترکیب فارسی؟
”القلم“ معرف باللام کا عطف قرطاس و لوح پر بترکیب فارسی؟
غالباً ”انسانیت“ کی یا مشدد ہے۔ اس صورت میں بحر سے خارج ہوجائے گا مصرع۔
مرسل کا مطلب ہے بھیجا ہوا تو ”مرسل دین صفا“ کا مطلب ہوا خالص دین کا بھیجا ہوا۔
”عرضِ السلام“ کی ترکیب بھی محل نظر لگ رہی ہے۔ پھر اس مصرع میں ”واؤ عاطفہ“ بھی بھرتی کا لگ رہا ہے۔
”آفتاب“ آف اور تاب سے مل کر بنا ہے ، اسی طرح ”ماہتاب“ ماہ اور تاب سے مل کر بنا ہے، تاب ایک ہی لفظ ہے۔ ماہ کے آخر میں ہ ہے جبکہ آف کے ف، حرف روی متحد نہ ہونے کی وجہ سے قافیہ نہیں بن پایا۔ یعنی یہ شعر مقفّٰی نہیں ہے۔
درخشش لفظ اردو کے لیے مانوس نہیں ہے۔
بلبلوں نے گنگنایا یا بلبلیں گنگنائیں یا بلبل گنگنائے، ممکن ہے تینوں درست ہوں۔
مسیحا
میرے خیال میں یہ لفظ بھیگیں ہونا چاہیے کیونکہ مسیں مس کی جمع مؤنث ہے۔