نعتِ رسولِ ممدوحِ رب (برائے تبصرہ)

محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:02 شام
السلام اے صاحبِ قرطاس و لوح و القلم​
”القلم“ معرف باللام کا عطف قرطاس و لوح پر بترکیب فارسی؟
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:03 شام
محسنِ انسانیت، جانِ عرب، شاہِ عجم​
غالباً ”انسانیت“ کی یا مشدد ہے۔ اس صورت میں بحر سے خارج ہوجائے گا مصرع۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:05 شام
ماشاءاللہ بہت خوب نعت لکھی ہے۔
اس مصرع کو اکیلا رکھنے میں کوئی حکمت؟

محترمی توجہ دلانے کا انتہا کی حد تک شکریہ۔ داد و تعریف کا بھی شکریہ کہ مایہِ فخر ہے۔ مدون کر دیا ہے دیکھ لیجیے اس کا مصرع ثانی!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:06 شام
مرسلِ دینِ صفا، پیغمبرِ جود و سخا​
مرسل کا مطلب ہے بھیجا ہوا تو ”مرسل دین صفا“ کا مطلب ہوا خالص دین کا بھیجا ہوا۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:07 شام
”القلم“ معرف باللام کا عطف قرطاس و لوح پر بترکیب فارسی؟

نہیں محض وزن کو برقرار رکھنے کے لیے اس ڈھنگ سے باندھا ہے! اگر بہتر متبادل ہے تو محروم نہ فرمائیے!
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:07 شام
غالباً ”انسانیت“ کی یا مشدد ہے۔ اس صورت میں بحر سے خارج ہوجائے گا مصرع۔

جی شکریہ۔ میں اسے دیکھتا ہوں۔ توجہ دلانے کے لیے ممنون ہوں!
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:09 شام
مرسل کا مطلب ہے بھیجا ہوا تو ”مرسل دین صفا“ کا مطلب ہوا خالص دین کا بھیجا ہوا۔

اسے بھی دیکھتا ہوں۔ توجہ فرمانے کا شکریہ!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:12 شام
بعدِ عرضِ السلام و باہزاراں احترام​
”عرضِ السلام“ کی ترکیب بھی محل نظر لگ رہی ہے۔ پھر اس مصرع میں ”واؤ عاطفہ“ بھی بھرتی کا لگ رہا ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:13 شام
”عرضِ السلام“ کی ترکیب بھی محل نظر لگ رہی ہے۔ پھر اس مصرع میں ”واؤ عاطفہ“ بھی بھرتی کا لگ رہا ہے۔

جی ٹھیک فرما رہے ہیں جناب۔ دیکھتا ہوں!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:16 شام
دیکھنے احمد کی صورت آفتاب آنے لگا​
رات کا لے کر بہانہ ماہتاب آنے لگا​
”آفتاب“ آف اور تاب سے مل کر بنا ہے ، اسی طرح ”ماہتاب“ ماہ اور تاب سے مل کر بنا ہے، تاب ایک ہی لفظ ہے۔ ماہ کے آخر میں ہ ہے جبکہ آف کے ف، حرف روی متحد نہ ہونے کی وجہ سے قافیہ نہیں بن پایا۔ یعنی یہ شعر مقفّٰی نہیں ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:18 شام
لؤلؤ و مرجان کو دیکھو درخشش مل گئی​
درخشش لفظ اردو کے لیے مانوس نہیں ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:22 شام
”آفتاب“ آف اور تاب سے مل کر بنا ہے ، اسی طرح ”ماہتاب“ ماہ اور تاب سے مل کر بنا ہے، تاب ایک ہی لفظ ہے۔ ماہ کے آخر میں ہ ہے جبکہ آف کے ف، حرف روی متحد نہ ہونے کی وجہ سے قافیہ نہیں بن پایا۔ یعنی یہ شعر مقفّٰی نہیں ہے۔

اوہ، یہ تو انتہائی شرمآور بات ہوگئی۔ اس شعر کو قلم زد کر دیا جاتا ہے!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:23 شام
گنگنایا بلبلوں نے نغمۂِ سدہا امید​
بلبلوں نے گنگنایا یا بلبلیں گنگنائیں یا بلبل گنگنائے، ممکن ہے تینوں درست ہوں۔
”سدہا امید“ شاید صدہا کہنا چاہ رہے ہیں یعنی سینکڑوں یا پھر میں سمجھ نہیں پایا ہوں۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:25 شام
درخشش لفظ اردو کے لیے مانوس نہیں ہے۔

جی متبادل تلاش کرتا ہوں!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:25 شام
گونج اٹھی پھر دریچوں میں مسیحیٰ کی نوید​
مسیحا
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:27 شام
بلبلوں نے گنگنایا یا بلبلیں گنگنائیں یا بلبل گنگنائے، ممکن ہے تینوں درست ہوں۔
”سدہا امید“ شاید صدہا کہنا چاہ رہے ہیں یعنی سینکڑوں یا پھر میں سمجھ نہیں پایا ہوں۔

واللہ اعلم!
جی صدہا امید۔۔
نیلم — جولائی 14، 2013 12:27 شام
جزاک اللہ
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2013 12:29 شام

آداب!
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:34 شام
"نوعِ آدم کی مسیں بھیگی جوانی آگئی" (جوشؔ)​
میرے خیال میں یہ لفظ بھیگیں ہونا چاہیے کیونکہ مسیں مس کی جمع مؤنث ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 14، 2013 12:34 شام
گو مجھے ہے علم تجھ سے مَہ پہ ہے مثلِ کلَف​
اور مرے رب کو ستائش طبقِ خواہش مل گئی​
مصطفیٰ اے ریسماں بینِ فراق و اتصال​
اپنی کم علمی کی وجہ سے میں ان تین مصرعوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B9%D8%AA%D9%90-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%D9%90-%D9%85%D9%85%D8%AF%D9%88%D8%AD%D9%90-%D8%B1%D8%A8-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.65709/page-2