تقطیع کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے سلیمان بھائی۔ کچھ لوگ ایسے ہی وزن چیک کرتے ہیں۔ اس کا عام سا اصول یہ ہے کہ منفرد حرفی آوازوں کو ہجائے کوتاہ یا 1 مانتے ہیں اور دو باہم ملحق حروف کے مرکب کو ہجائے بلند یا 2 لکھتے ہیں۔ اور ان نمبروں کی ترتیب اور مجموعہ سے بحر جانا جاتا ہے۔ اس میں آگے چل کر کئی پیچیدگیاں ہیں جن سے میں پوری طرح واقف نہیں۔ بس دیکھتا ہوں لوگوں کو ایسے کرتے ہوئے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ محفل میں کہیں اس پر ایک عدد سبق موجود ہے وارث بھائی کا مرتب کردہ۔
سلیمان جاذب — دسمبر 15، 2008 2:22 شام
ویسے میں نے پہلی بار یہ طریقہ دیکھا ہے میرے خیال میں یہ مشکل ہے
سلیمان جاذب — دسمبر 15، 2008 2:32 شام
ایک اور غزل آپ کے لئے
زندگی اک نصاب ہے با با
عمر بھرکاعذاب ہے بابا روح میں درد یوں سمویا ہے
روزوشب اضطراب ہے بابا بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں
تیرا جانا عذاب ہے بابا تونے ایسا سوال پوچھا ہے
جس کا الجھا جواب ہے بابا میری آنکھوں میں بس گیا ہے چمن
تیرا چہرا گلاب ہے بابا
ابن سعید — دسمبر 15، 2008 2:33 شام
نہیں مشکل تو نہیں ہے۔ بس جس کو جو آسان لگے والی بات ہے۔
دوست — دسمبر 15، 2008 3:19 شام
1 چھوٹے واؤل کے ساتھ حرف صحیح
1 حرف ساکن جیسے ساخت میں آخری ت
2 حرف صحیح واؤل اور حرف صحیح کا کمبی نیشن
2 حرف صحیح جمع لانگ واؤل جیسے نا، بعض اوقات دو لانگ واؤل بھی جیسے آ
سلیمان جاذب — دسمبر 15، 2008 3:24 شام
اچھا تو ئہ ہے بات لیکن پلے نہیں پڑی
لگ رہا ہے ہم نالائق ہیں
آپ نالائق نہیں پاء جی بس آپ کا طریقہ مختلف ہوگا، نالائق تو میں ہوں اردو کی اصلاحات کی بجائے انگریزی اصلاحات استعمال کررہا ہوں ان کے بغیر سمجھ ہی نہیں آتی۔
مرک — دسمبر 15، 2008 4:31 شام
بہت ہی اچھی غزلیں ہیں
الف عین — دسمبر 15، 2008 4:39 شام
پہلے تو سلیمان جاذب کو ان کی غزلوں کی مبارکباد دے دوں۔ سب اچھی غزلیں ہیں۔ ایک آدھ جگہ "کہ" بر وزن "کا" (فع) باندھا گیا ہے۔ اس شعر میں جس کی سعود نے نشان دہی کی ہے۔ ’گاؤں’ بر وزن "فعلن‘ غلط ہے۔ بہر حال ان معمولی سی باتوں کے علاوہ غزلیں اچھی ہیں۔
یہ 1 اور 2 کا طریقہ مجھے یہاں آ کر ہی پتہ چلا۔ جب تفسیر نے یہاں اسباق پوسٹ کئے تو۔ سلیمان یوں سمجھو کہ
مفاعیلن
کو اس طرح توڑ دیا گیا ہے
م فا عی لن
م=ا
فا =عی= لن=2
یہ حساب چلتا ہے
محمد نعمان — دسمبر 16، 2008 3:43 صبح
سلمان بھائی اگر آپ اس دھاگے پہ تشریف لے جائیں تو آپ مفصل پڑھ سکتے ہیں تمام اساتذہ کرام کی ماہرانہ رائے۔ تب آپ اوزان کو حسابی ظریقے سے حل کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔۔۔کچھ حد تک ایک تازہ غزل
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 5:41 صبح
بہت اچھی شاعری ہے آپ کی سلیمان جاذب صاحب، لا جواب!
سلمان جاذب صاحب محفل میں خوش آمدید۔ میرے خیال میں یہ مفاعیلن مفاعیلن فعلن کی بحر ہے اور اسکے
اولیٰ مصرعے میں ایک رکن کے اضافہ سے فعولن ہوجائے گا --
جو:
--------------- خوشی نے یو ------ کیا گلنا----- ر چہرہ
--------------- -مفاعیلن------مفاعیلن----- فعولن - بھئی ہم نے سوچا اساتذہ کرام کی غیر موجودگی میں دوست حضرات
’’ جائے استاد خالی است ‘‘ کی رعایت سے ہاتھ دھو رہے ہیں تو ہم
کیوں پیچھے رہیں۔
مذاق برطرف: اساتذہ کے آنے کا انتظآر ہے
اساتذہ کرام کی رائے کا منتظریہ مراسلہ اب سوکھے کی بیماری میں مبتلا ہوچلا ہے۔
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 5:59 صبح
ممکن ہے مصروف ہوں
عمار ابن ضیا — دسمبر 16، 2008 6:01 صبح
سلیمان جاذب صاحب! بہت عمدہ کلام ہے ماشاء اللہ۔ امید ہے آپ سے کافی کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 6:17 صبح
ابھی تو ہم خود سیکھنے کے مرحلے میں ہیں
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 6:22 صبح
مغل صاحب، جاذب صاحب کی مذکورہ غزل بحر ہزج مسدس مخذوف میں ہے اور افاعیل، جیسا کہ جاذب صاحب نے لکھا، مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہیں، آخری رکن میں ایک حرف بڑھانا (تسبیغ) بھی جائز ہے یعنی مفاعیلن مفاعیلن فعولن اور مفاعیلن مفاعیلن فعولان (یا مفاعیل) ایک ہی شعر میں جمع ہو سکتے ہیں!