نوجوان شاعری

مغزل — دسمبر 16، 2008 7:34 صبح
جذاک اللہ فی الدارین وارث بھائی۔ بہت شکریہ
یعنی میں نے صحیح لکھا تھا۔۔
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 8:25 صبح
میرے بھائی میرے خیال میں ابھی تک کسی نے آپ کو غلط نہیں کہا اور کہہ بھی کیسے سکتے ہیں
مغزل — دسمبر 16، 2008 8:46 صبح
حضرت حجت تمام تو ہونی ہی چاہیئے نا۔۔۔ بندہ بشر ہوں ۔اور
جس کو کہتے ہیں بشر اس میں ہے شر دو بٹہ تین ۔۔۔۔۔۔۔( ب =1۔۔ش +ر=2)
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 8:57 صبح
دو بٹا تین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
شکر ہے دو بٹا تین ہی ہیں 1 بٹہ دو نہیں
ابن سعید — دسمبر 16، 2008 8:59 صبح
مجھے یاد پڑتا ہے کہ دو بٹہ تین والی پوری نظم میں نے محفل میں کہیں شامل کر رکھا ہے۔
مغزل — دسمبر 16، 2008 9:03 صبح
یہ ہاں جناب یہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 9:08 صبح
کیا بات ہے اب تو آپ ایک بٹہ دو بھی کر دین
کیا خیال ہے؟
مغزل — دسمبر 16، 2008 9:14 صبح
قبلہ میری گردن دبادیں گے ہاشمی صاحب
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 1:17 شام
چلیں ٹھیک ھے جناب
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 1:22 شام
ایک غزل پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وہ الگ سع پیش کر رہا ہوں ایک نئے ھاگے میں پرو کر
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:00 شام
معذرت خواہ ہوں مغل صاحب،
آپ اس بحر کو مفاعیلن مفاعیلن فعلن سمجھ رہے ہیں اور ایک حرف بڑھا کر اسے مفاعیلن مفاعیلن فعولن کر رہے ہیں، ایسے نہیں ہے
اول: اس بحر (ہزج مسدس محذوف) کا اصل وزن مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے۔
ایک حرف بڑھا کر (عمل تسبیغ سے) جو 'مسبغ رکن' حاصل ہوتا ہے وہ 'فعولان' ہے۔
اس میں آخری رکن (عرض و ضرب میں) اگر آپ فعلن لائیں گے تو وہ چونکہ کوئی وزن نہیں سو مصرع ساقط الوزن ہو جائے گا۔
دوم: عمل تسبغ (ایک رکن بڑھانے) کا اصول یہ ہے کہ
- یہ ایک ساکن حرف ہوتا ہے۔
- اور ہمشیہ رکن کے آخر میں ہوتا ہے۔
- یا اسے ماہرین فن یہ بھی کہتے ہیں کہ آخری سببِ خفیف کے درمیان ایک ساکن الف کا اضافہ۔
- دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے!
اس اصول کے تحت اگر 'فعلن' پر عملِ تسبیغ کریں تو وزن فعلان حاصل ہوگا:
فَعلُن ------فع لُن -------فع ل +ا ن -----فعلان (اور یہ فعولن نہیں ہے)
جب فعولن پر عمل تسبیغ کریں گے تو فعولان حاصل ہوگا۔
سمیٹتا ہوں:
بحر ہزج مسدس محذوف کا اصل وزن 'مَفاعیلُن مفاعیلُن فَعُولُن ہے۔
اس بحر میں عملِ تسبیغ جائز ہے!
مفاعیلن مفاعیلن کے بعد ایک مصرعے میں فعولن اور دوسرے میں فعولان لانا جائز ہے!
اس بحر میں مفاعیلن مفاعیلن کے بعد ایک مصرعے میں فعلن لانے سے بحر بدل جائے گی اور شعر ساقط الوزن ہو جائے گا!
والسلام
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:12 شام
وارث بھائی آپ کی تحریر پڑھی اچھا لگا کہ اصلاح ہو گئی کچھ بحروں کا علم ھو گیا
لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کی اتنا بھی بحروں کے چکر میں پڑنا چاہئے کہ تخیل ہی ختم ہو جائے
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:21 شام
صحیح کہتے ہیں 'من نہ دانم فاعلاتن فاعلات'
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:28 شام
وارث بھائی آُ کی مصرو فیا ت کیا کیا ہیں اور آپ کہاں سے ہیں
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:31 شام
جی تعلق سیالکوٹ سے، اور مصروفیات پرائی بیگار یعنی پرائیوٹ نوکری!
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:51 شام
یہ شکریہ کیسے ادا کرتے ہیں
کیا آپ کی کوئی کتاب وغیرہ آ چکی ہے وارث بھائی
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:57 شام
آپ کے بائیں جانب، پوسٹ کے نیچے ایک انگوٹھا بنا ہوا ہے اور شکریہ لکھا ہوا ہے اس کو کلک کریں تو شکریہ ادا ہو جائے گا۔
کتاب، ارے نہیں بھائی، میں تو خود ایک طفلِ مکتب ہوں ہاں قتیلِ کتب ضرور ہوں :)
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 6:00 صبح
چلیں مان لیا لیکن کہں آپ ان کتب سے قتل نہ ہو جائیں:roll:
مغزل — دسمبر 17، 2008 6:07 صبح
معذرت خواہ ہوں مغل صاحب،
آپ اس بحر کو مفاعیلن مفاعیلن فعلن سمجھ رہے ہیں اور ایک حرف بڑھا کر اسے مفاعیلن مفاعیلن فعولن کر رہے ہیں، ایسے نہیں ہے
اول: اس بحر (ہزج مسدس محذوف) کا اصل وزن مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے۔
ایک حرف بڑھا کر (عمل تسبیغ سے) جو 'مسبغ رکن' حاصل ہوتا ہے وہ 'فعولان' ہے۔
اس میں آخری رکن (عرض و ضرب میں) اگر آپ فعلن لائیں گے تو وہ چونکہ کوئی وزن نہیں سو مصرع ساقط الوزن ہو جائے گا۔
دوم: عمل تسبغ (ایک رکن بڑھانے) کا اصول یہ ہے کہ
- یہ ایک ساکن حرف ہوتا ہے۔
- اور ہمشیہ رکن کے آخر میں ہوتا ہے۔
- یا اسے ماہرین فن یہ بھی کہتے ہیں کہ آخری سببِ خفیف کے درمیان ایک ساکن الف کا اضافہ۔
- دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے!
اس اصول کے تحت اگر 'فعلن' پر عملِ تسبیغ کریں تو وزن فعلان حاصل ہوگا:
فَعلُن ------فع لُن -------فع ل +ا ن -----فعلان (اور یہ فعولن نہیں ہے)
جب فعولن پر عمل تسبیغ کریں گے تو فعولان حاصل ہوگا۔
سمیٹتا ہوں:
بحر ہزج مسدس محذوف کا اصل وزن 'مَفاعیلُن مفاعیلُن فَعُولُن ہے۔
اس بحر میں عملِ تسبیغ جائز ہے!
مفاعیلن مفاعیلن کے بعد ایک مصرعے میں فعولن اور دوسرے میں فعولان لانا جائز ہے!
اس بحر میں مفاعیلن مفاعیلن کے بعد ایک مصرعے میں فعلن لانے سے بحر بدل جائے گی اور شعر ساقط الوزن ہو جائے گا!
والسلام

بہت شکریہ وارث بھائی ۔۔ اسی لیے میں زور دے رہا تھا کی مراسلہ دیکھا جائے۔
ایک بات اور پوچھنی ہے ۔ مگر الگ لڑی میں یہاں حسن نہ خراب ہوجائے ۔
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 6:22 صبح
کوئی بات ہیں آپ یہان ہی پوچھ لیں ہم بھی مستفیز ہو جائیں گے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C.17345/page-3