وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی

راحیل فاروق — فروری 18، 2017 1:09 شام
وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی
ایسا دھواں ہوا کہ لگا تو بھی تو نہ تھی
تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی
وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی
راحیلؔ فاروق
۱۴ فروری ؁۲۰۱۱ء
حسن محمود جماعتی — فروری 18، 2017 3:59 شام
واہ واہ قبلہ کیا کہنے بہت خوب۔ بہت ہی عمدہ۔ کیا ہی خوبصورت کلام ہے۔
بالخصوص۔۔۔۔
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
آصف اثر — فروری 18، 2017 5:55 شام
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی
لاجواب۔ کیا کہنے۔
آپ ہمارے اندر کا شاعر بیدار کرکے ہی دم لیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پھر ہم سوجاتے ہیں۔:)
محمد تابش صدیقی — فروری 18، 2017 6:03 شام
بہت خوب راحیل بھائی۔
تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی

منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی

میری مختصر داد کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ داد برائے داد ہے۔ :)
عاطف ملک — فروری 18، 2017 8:37 شام
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
سبحان اللہ۔۔۔۔۔کیا کہنے راحیل بھائی!
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 18، 2017 8:48 شام
شاندار راحیل میاں
سید ذیشان حیدر — فروری 18، 2017 11:15 شام
بہت خوب۔
استادِ محترم ہم بھی ایسی شاعری کیسے کر سکتے ہیں؟
جاسمن — فروری 19، 2017 3:23 صبح
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
کس قدر منفرد خیال ہے۔
جاسمن — فروری 19، 2017 3:24 صبح
وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی
واہ بھی اور آہ بھی۔
جاسمن — فروری 19، 2017 3:25 صبح
راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی[/QUOTE
بہت خوبصورت غزل۔
ڈھیروں داد۔
الف عین — فروری 19، 2017 4:40 صبح
بہت اچھے جا رہے ہو راحیل۔
الشفاء — فروری 19، 2017 7:20 صبح
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
واہ واہ ، کیا کہنے۔ سبحان اللہ۔۔۔
فاتح — فروری 19، 2017 7:38 صبح
واہ واہ راحیل بھائی، کیا کہنے اور اس شعر کا تو لطف ہی الگ ہے:
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی​
لاریب مرزا — فروری 19، 2017 7:52 صبح
واہ!! بہت خوب!!
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 8:02 صبح
واہ کیا بات ہے ۔بہت خوب راحیل ۔ کیا شستہ بیان ہے۔
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی۔
سید لبید غزنوی — فروری 19، 2017 8:30 صبح
بہت ہی اعلیٰ ۔۔
وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی

منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
کمال لاجواب ۔۔خوش رہیں سر ۔۔
لئیق احمد — فروری 19، 2017 8:42 صبح
بہت خوب راحیل بھائی چھاگئے ہیں آپ :)
ظہیر عباس ورک — فروری 19، 2017 8:53 صبح
بہت خوب راحیل بھائی!
ظہیراحمدظہیر — فروری 19، 2017 4:21 شام
واہ واہ!! کیا غزل ہے راحیل بھائی !! بہے خوب!
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے​
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی​

راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں​
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی
کیا اچھے اشعار ہیں ! بہت ہی اعلٰی ! مقطع کی داد نہ دینا ظلم ہوگا ۔ بہت ہی خوب!!​
یوسف سلطان — فروری 20، 2017 1:25 صبح
تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی
منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی
بهت خوب!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%DA%AF-%D8%A2%DA%AF-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%84%D9%88-%D9%86%DB%81-%D8%AA%DA%BE%DB%8C.94938/