عزیزان گرامی، آداب! پرانے اوراق کو کھنگالتے کل لڑکپن کے زمانے کی ایک عامیانہ غزل پر نظر پڑی تو ذہن میں آیا کہ شاید یہ واحد مسلسل غزل ہے جو میں نے کہی ہے۔ آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ ایک مصرعے میں لفظ ’’مسکاتی‘‘ مجھے اب اتنا اچھا نہیں لگ رہا، مگر ’’مسکراتی‘‘ یا ’’کھلکھلاتی‘‘ وغیرہ بھی کسی طور بحر میں موزوں نہیں ہو پارہے۔ احباب اور اساتذہ میں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی صورت بنتی نظر آئے، یا کسی اور مقام کے لئے کوئی صلاح ہو تو ضرور شکرگزاری کا موقع عنایت فرمائیں۔ دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تھی لڑکی، بہت اچھی، بڑی پیاری تھی وہ
اوس میں بھیگی ہوئی پھولوں کی ڈالی سی تھی وہ تھا پسند اس کو بہت بارش میں گانا، بھیگنا
ہاں ذرا پت جھڑ میں تھوڑا روکھ سی جاتی تھی وہ سیڑھیوں پر کتنے ہی گھنٹے اکیلے بیٹھتی
اس کا شانہ جو میں چھوتا، کانپ سی جاتی تھی وہ میری کچھ غزلیں اسے شاید تھیں یاد اچھی طرح
آئینے کے سامنے آتی تو مسکاتی تھی وہ دیر تک روتی، مری ’گپّوں‘ کو وہ سچ مان کر
تھا کچھ ایسا ہی، بہت ہی بھولی بھالی سی تھی وہ یار راحلؔ، اور کتنے شعر اس پر میں کہوں
گر کہوں اتنا تو کافی ہے، بہت پیاری تھی وہ
الف عین — دسمبر 11، 2019 6:13 صبح
روکھ سا جانا... محاورہ سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید مقامی محاورہ ہو
'مسکاتی' اچھا ہی لگ رہا ہے، ہاں، اگر زبان فارسی آمیز ہوتی تو اعتراض درست تھا، پوری غزل ہی 'ہندوستانی' زبان میں ہے
روکھ سا جانا... محاورہ سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید مقامی محاورہ ہو
'مسکاتی' اچھا ہی لگ رہا ہے، ہاں، اگر زبان فارسی آمیز ہوتی تو اعتراض درست تھا، پوری غزل ہی 'ہندوستانی' زبان میں ہے
استاذی و مرشدی اعجاز صاحب، آداب! نظرِ عنایت کے لئے بے انتہاء ممنون ہوں۔ روکھ جانا ۔۔۔ روکھے سے اخذ کیا تھا جو عموماً خشک کے معنی میں بھی استعمال ہوتا دیکھا ہے۔ روکھے کی جگہ سوکھا استعمال کرنے سے کیا بیان بہتر ہوسکتا ہے؟ دعاگو،
راحلؔ
استاذی و مرشدی اعجاز صاحب، آداب! نظرِ عنایت کے لئے بے انتہاء ممنون ہوں۔ روکھ جانا ۔۔۔ روکھے سے اخذ کیا تھا جو عموماً خشک کے معنی میں بھی استعمال ہوتا دیکھا ہے۔ روکھے کی جگہ سوکھا استعمال کرنے سے کیا بیان بہتر ہوسکتا ہے؟ دعاگو،
راحلؔ
بہت شکریہ مومن بہن ۔۔۔ آپ ہر غزل کی تعریف کرنے کا استحقاق رکھتی ہیں ۔۔۔ بس برائی کرنے سے پہلے ایک بار ہم سے کنفرم کر لیجئے گا
مذاق بر طرف، میں اس غزل کے علاوہ دیگر تمام غزلیات پر اظہارِ پسندیدگی کے لیے آپ کا ممنون و متشکر ہوں۔ آپ نے وقت نکال کر سال بھر پرانے مراسلوں کو بھی پڑھا ۔۔۔ مجھے نہایت خوشی ہوئی۔ جزاک اللہ۔
مومن فرحین — جنوری 28، 2021 8:57 صبح
شکریہ کی کیا بات راحل بھائی ۔۔۔۔ شاعر کے قلم سے جب ایک بار شعر نکل جاتا ہے تو پھر وہ قاری کا ہو جاتا ہے ۔۔۔ اور ظہیر انکل کے بعد جب آپ کی غزلوں پر نظر پڑی تو پھر میں پڑھنے سے خود کو روک نہ سکی ۔۔۔ سبھی غزلیں بہترین اور اس غزل کے بارے میں تو استاد محترم نے کہا کہ ہندوستانی زبان میں ہے تو اور بھی دل کو چھو گئی ۔۔۔
مومن فرحین — جنوری 28، 2021 9:01 صبح
رہی بات برائی کی تو ابھی میرے پاس اتنا علم کہاں کہ خوبیوں اور خامیوں پر نظر کر سکوں ۔۔۔
لیکن
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے ۔۔۔۔۔ میرا مطلب تھا کہ میں بھی آپ جتنا علم شاعری کا چاہتی ہوں ۔۔ کہ دوسروں کی اصلاح کر سکوں
ویسے راحل بھائی یہاں جتنی میسر تھی اتنی پڑھ لی۔۔۔ اب آگے کے لیے لگتا ہے 500 خرچ کرنے ہی پڑیں گے
اکمل زیدی — جنوری 28، 2021 10:36 صبح
بھیا آپ کے لڑکپن کے شاعرانہ جذبات اسوقت کی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہیں بس اتنا جنرل نالج اضافے کے لیے بتا دیں کے پھر وہ پیاری لڑکی کہاں گئی۔۔۔آپ کی نصف بہتر بنیں یا آپ کی شاعری کے بہترین ہونے کی وجہ بن گئیں۔۔۔پیشگی معذرت۔۔اتنا پرسنل ہونے پر۔۔۔۔
بھیا آپ کے لڑکپن کے شاعرانہ جذبات اسوقت کی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہیں بس اتنا جنرل نالج اضافے کے لیے بتا دیں کے پھر وہ پیاری لڑکی کہاں گئی۔۔۔آپ کی نصف بہتر بنیں یا آپ کی شاعری کے بہترین ہونے کی وجہ بن گئیں۔۔۔پیشگی معذرت۔۔اتنا پرسنل ہونے پر۔۔۔۔