اگر آپ بگلے کی طرح ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر بھی رٹا لگائیں تب بھی ہماری بات روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی بھائی! آپ پر زبردستی کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
ارے بھیا، یہ تو بہت چھوٹا الزام ہے جو آج لگایا گیا، ہمارے سر بھیا نہ جانے کیسے کیسے الزام دھر چکے ہیں۔
آہ ، مت چھیڑو درد کے ماروں کو ۔
ہم سے کیوں الجھا کرے ہے آ سمجھ اے ناسمجھ
کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ
یار کی ان بھولی باتوں پر نہ جا اے ہم نشیں
ایک فتنہ ہے وہ اس کو آہ مت
ہلکا سمجھ
خوبرو عشاق سے بد پیش آتے ہی سنے
گرچہ خوش ظاہر ہیں یہ پر ان کو مت اچھا سمجھ
باغباں بے رحم گل بے دید موسم بے وفا
آشیاں اس باغ میں بلبل نے باندھا کیا سمجھ
میں جو نرمی کی تو دونا سر چڑھا وہ بدمعاش
کھانے ہی کو دوڑتا ہے اب مجھے حلوا سمجھ
میر کی کاوش پہ ہماری سازش!!!


