پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے ۔ فاتح الدین بشیر

سید شہزاد ناصر — مئی 25، 2013 11:43 صبح
بھلا ہو مدیحہ گیلانی صا حبہ کا اس غزل کو کونوں کھدروں سے نکالا ورنہ ہم تو محروم ہی رہتے
بہت ہی جان لیوا غزل ہے جناب
نیم بسمل کو بسمل بنا دینے والی
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے
مت پوچھئے یہ شعر پڑھ کر کیا حالت ہوئی کیا ہی کہنے جناب کیا مضمون باندھا ہے
تمام غزل ہی انتخاب ہے مگردرج بالا شعر نے تو جان ہی نکال دی
بہت سی داد حاضر ہے
اللہ کرے زور قلم زیادہ
فاتح — مئی 25، 2013 12:40 شام
بھلا ہو مدیحہ گیلانی صا حبہ کا اس غزل کو کونوں کھدروں سے نکالا ورنہ ہم تو محروم ہی رہتے
بہت ہی جان لیوا غزل ہے جناب
نیم بسمل کو بسمل بنا دینے والی
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے
مت پوچھئے یہ شعر پڑھ کر کیا حالت ہوئی کیا ہی کہنے جناب کیا مضمون باندھا ہے
تمام غزل ہی انتخاب ہے مگردرج بالا شعر نے تو جان ہی نکال دی
بہت سی داد حاضر ہے
اللہ کرے زور قلم زیادہ
حضور! آپ کی انھی حوصلہ افزائیوں نے مہمیز کیا ہے ہمیں۔۔۔ ممنون ہوں
مقدس — مئی 25، 2013 12:44 شام
بندہ تعریف تو آسان لفظوں میں کرے ناں
لولزز
فاتح — مئی 25، 2013 12:50 شام
بندہ تعریف تو آسان لفظوں میں کرے ناں
لولزز
تم نے نہ آسان اور نہ ہی مشکل الفاظ میں کوئی تعریف کی ہے لہٰذا اب تم مثال قائم کرو جلدی سے آسان الفاظ میں تعریف کر کے :laughing:
مقدس — مئی 25، 2013 12:57 شام
میرا یہاں آنا ہی تعریف ہوا ناں بھیا :rollingonthefloor:
فاتح — مئی 25، 2013 1:46 شام
میرا یہاں آنا ہی تعریف ہوا ناں بھیا :rollingonthefloor:
پہلے سوچا غیر متفق دبا دوں لیکن پھر سوچا کہ غیر متفق تو یقیناً ہوں لیکن دوستانہ زیادہ ہے۔۔۔ کاش "افسوس ناک"کی ریٹنگ ہوتی تو وہ دیتا کہ ایک ہی ٹوئن ہے بھری دنیا میں اور اس نے بھی تعریف نہیں کی۔۔۔
چلو شاباش جلدی سے تعریفیں شروع ہو جاؤ :rollingonthefloor:
مقدس — مئی 25، 2013 2:12 شام
اور ایک ہی ٹوئن جو صرف آپ کے شاعری تھریڈز میں آتی ہے :rollingonthefloor:
فاتح — مئی 26، 2013 12:26 صبح
اور ایک ہی ٹوئن جو صرف آپ کے شاعری تھریڈز میں آتی ہے :rollingonthefloor:
اور کسی کی شاعری کے دھاگے میں جا کے تو دکھائے :rollingonthefloor:
سید عاطف علی — اگست 12، 2014 8:46 صبح
بہت خوبصورت تغزل ہے ۔دو قافیوں کے بوجھ کا احساس ہی نہیں ہوا ۔اور روانی جیسے فراری۔بہت خوب
جاسمن — جنوری 23، 2016 5:39 صبح
واہ۔ واہ۔ واہ! واہ! واہ!واہ! واہ! واہ! واہ! واہ!۔۔۔۔۔۔
بہت خوب! بہت خوب! بہت خوب! بہت خوب!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 23، 2016 5:49 صبح
دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے
واہ واہ فاتح بھائی کیا کہنے۔ بہت عمدہ غزل کہی ہے۔
شکریہ جاسمن بہن کا کہ اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا، اور ہمیں امید دلائی کہ آپ کو گوشے کھنگالنے کی چنداں ضرورت نہیں، ہم پڑھواتے رہیں گے۔ :)
فاتح — جنوری 23، 2016 9:59 صبح
بہت خوبصورت تغزل ہے ۔دو قافیوں کے بوجھ کا احساس ہی نہیں ہوا ۔اور روانی جیسے فراری۔بہت خوب
شکریہ! ڈیڑھ سال بعد آپ کی جانب سے پذیرائی کا شکریہ ادا کر رہا ہوں۔ معذرت
فاتح — جنوری 23، 2016 10:00 صبح
واہ۔ واہ۔ واہ! واہ! واہ!واہ! واہ! واہ! واہ! واہ!۔۔۔۔۔۔
بہت خوب! بہت خوب! بہت خوب! بہت خوب!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ جاسمن۔ دو سال پہلے مدیحہ گیلانی کونے کھدروں سے یہ غزل نکال کر لائی تھیں اور آج آپ ۔ اس پر بھی شکریہ :)
فاتح — جنوری 23، 2016 10:00 صبح
واہ واہ فاتح بھائی کیا کہنے۔ بہت عمدہ غزل کہی ہے۔
شکریہ جاسمن بہن کا کہ اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا، اور ہمیں امید دلائی کہ آپ کو گوشے کھنگالنے کی چنداں ضرورت نہیں، ہم پڑھواتے رہیں گے۔ :)
بہت شکریہ تابش بھائی۔ ممنون ہوں
ندیم مراد — جنوری 23، 2016 10:19 صبح
:great::zabardast1::good:
محمد بلال اعظم — جنوری 23، 2016 6:07 شام
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے​

دردِ ہزار کہنہ کیے گو کشید پر
لمسِ طبیب و حدّتِ درماں نہ پوچھیے​

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے
فاتح بھائی! یہ اشعار ہیں یا الہام!
میں اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کر سکوں!
بس پڑھے جا رہا ہوں، ایک عجیب سی کیفیت ہے!
توصیف یوسف مغل — جنوری 24، 2016 3:25 صبح
سمجھ نہیں آئی لیکن غزل پڑھنے میں لطف آیا
ظہیراحمدظہیر — جنوری 25، 2016 12:03 صبح
ایک تازہ ترین غزل آپ احباب کی بصارتوں کی نذر۔
پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے
بارے عجیب رحمتِ رحماں نہ پوچھیے
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے
دردِ ہزار کہنہ کیے گو کشید پر
لمسِ طبیب و حدّتِ درماں نہ پوچھیے
سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے
دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے
جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے
(فاتح الدین بشیر)

سبحان اللہ سبحان اللہ! واہ !خوبصورت اشعار ہیں فاتح بھائی !
لمسِ طبیب و حدتِ درماں نہ پوچھئے
کیا بات ہے ، بہت ہی اچھا ہے ! اور آخری شعر تو خالص غزل کا شعر ہے ۔ بہت بہت داد آپ کے لئے !!
سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے​
فاتح بھائی یہاں پہلے مصرع پر کچھ تردد ہورہا ہے مجھے ۔یہاں جملہء تمنائیہ کا استعمال دوسرے مصرع سے میل نہیں کھارہا ۔ کیا یہاں صیغہء ماضی نہیں ہونا چاہئے ؟! ۔۔۔۔۔ یعنی ’’ سنجاب ،فرشِ خاک بنا یادِ یار میں‘‘
یا پھر یہ کہ میں اس کو کسی اور نظر سے دیکھ رہا ہوں؟! اس تک پہنچ نہیں پارہا؟!
فاتح — جنوری 25، 2016 4:13 شام
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے​

دردِ ہزار کہنہ کیے گو کشید پر
لمسِ طبیب و حدّتِ درماں نہ پوچھیے​

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے
فاتح بھائی! یہ اشعار ہیں یا الہام!
میں اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کر سکوں!
بس پڑھے جا رہا ہوں، ایک عجیب سی کیفیت ہے!
جیتے رہو بلال۔ اشعار ہی ہیں۔۔۔ الہام کہہ کر کیس بنوانا ہے کیا ؟ :)
فاتح — جنوری 25، 2016 4:14 شام
بہت شکریہ۔۔۔ نوازش

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85-%D8%B9%D8%B7%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B9%D8%B3%D8%B1%D8%AA%D9%90-%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%8C%DB%92-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.27959/page-3